Home » یہ کیا ہوا؟ کیوں ہوا؟
بلاگ خبریں معلومات

یہ کیا ہوا؟ کیوں ہوا؟

نیوزی لینڈ کی ٹیم گزشتہ دس دن سے پاکستان میں مقیم تھی۔ نیوزی لینڈ کی سیکیورٹی ٹیم پچھلے چار ماہ سے پاکستان میں سیکیوٹی حالات کا باریک بینی سے جائزہ لے رہی تھی۔ ظاہر سی بات ہے کہ وہ اگر سولہ برس بعد آئے تھے تو بہت کچھ دیکھ کر تمام تر انتظامات اور امکانات کا جائزہ لے کر آئے تھے۔ پریکٹس کررہے تھے ۔ آجا رہے تھے اور تمام انتظامات سے بالکل مطمئن تھے۔ پھر اچانک یہ کیا ہوا؟ تو سُنئے!

سب سے پہلے بھارت کا پٹھو تحریک طالبان پاکستان کا سابقہ ترجمان احسان اللہ احسان ایک بے سرو پا بلا ثبوت بیان دیتا ہے کہ داعش پاکستان میں نیوزی لینڈ کی کرکٹ ٹیم پر حملہ کرنے کا پلان بنا رہی ہے۔ یہ بیان ایک دو ٹکے کا بھارتی صحافی ابھینندن مشرا “دی سنڈے گارڈین “ میں ایک آرٹیکل میں چھاپ دیتا ہے کہ پاکستان میں نیوزی لینڈ کی ٹیم پر حملہ ہو سکتا ہے۔ بھارتی میڈیا اس بیان کو لے کر وہ شور مچاتا ہے جیسا کہ آپ جانتے ہیں اور دیکھتے آئے ہیں۔ بھارتی میڈیا کا صرف ایک ہی اصول اور حکمت عملی ہے کہ جھوٹ اتنا زیادہ اور اتنے تواتر سے بولو کہ وہ سچ لگنے لگے۔ نتیجہ آپ کے سامنے ہے کہ نیوزی لینڈ کی ٹیم اچانک خود کو غیر محفوظ ہونے کی شکایت کرکے دورہ کینسل کردیتی ہے۔

یہ سارا نئے جیوپولیٹیکل سیناریو کا کھیل ہے۔ افغانستان میں روس چین اور پاکستان کے بڑھتے ہوئے تعاون اور اثر و رسوخ پر امریکہ اور بھارت انتہائ سخت تشویش میں ہے جس کا ثبوت انڈین میڈیا کا طالبان اور پاکستان کے خلاف انتہائ بے سروپا اور جھوٹا پروپیگنڈہ ہے۔ابھی چار دن پہلے بھارت، آسٹریلیا امریکا اور جاپان کے مندوبین کا ایک اجلاس ہوا تھا جس میں افغانستان میں روس چین اور پاکستان کے تعاون اور خطے میں بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کے توڑ کے لئے اتحاد بنانے کا اعلان کیا گیا۔ امریکہ نے پاکستان سے تعلقات پر نظر ثانی کی دھمکی دی۔ جس کا صاف اور سیدھا مطلب یہی نکلتا ہے کہ پاکستان کو سفارتی طور پر تنہا کردیا جائے۔ بھارت اس پروپیگنڈے کے ڈھولچی بھانڈ کا کردار ادا کرتا ہے اور نتیجہ آپ کے سامنے ہے۔انکل سام بہت غصے میں ہیں۔ افغنستان کی بلا پاکستان کے سر ڈال دی گئ ہے۔

بھارت کی پاکستان کرکٹ کے خلاف مستقل سازشیں کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہیں۔ ابھی کشمیر لیگ منعقد ہونے پر انڈیا کا دوسرے ممالک کے کھلاڑیوں کو اس میں حصہ لینے پر دھمکیاں دے کر بلیک میل کرنے کے ناقابل تردید ثبوت دنیا کے سامنے ہیں۔ BCCI کا ICI پر اثرو رسوخ بھی کسی سے پوشیدہ نہیں ہے۔
اب اندازہ کیجئے کہ اگر پاکستانی ٹیم کے ساتھ دوسرے ممالک کی ٹیموں کا یہی رویہ رہا تو پاکستان T20 ورلڈ کپ تک کس ملک کے ساتھ کھیل کر اپنی کارکردگی میں اضافہ کرے گی؟ اس صورت حال سے ٹیم کے کھلاڑیوں کا مورال تو پہلے ہی بہت بری طرح متاثر ہوگا۔ تو پھر ہماری ٹیم ورلڈ کپ میں کیا کارکردگی دکھائے گی؟ہم پہلے بھی کہتے آۓ ہیں کہ پاکستان انڈیا کے الیکٹرونک میڈیا کے ہر چینل سے دن رات جاری رہنے والے غلیظ پروپیگنڈے کے توڑ کا کوئ سنجیدہ اور جامع حل تلاش کرے ورنہ بھارتی میڈیا کے شور کی محض ایک ISPR کے بیان میں مذمت اور تردید کردینے سے کچھ حاصل نہیں ہوگا۔

ثنااللہ_خان_احسن

Add Comment

Click here to post a comment