Home » وحدت الوجود اور کوانٹم فزکس…
اسلام بلاگ معلومات

وحدت الوجود اور کوانٹم فزکس…

شروڈنگر کی بلی سے تو آپ واقف ہی ہوں گے. کوانٹم فزکس کے بنیادی نظریے کو سمجھنے کیلئے یہ مشہور ترین مثال ہے. آئیے اس پر دوبارہ ایک نظر ڈال لیں:
دراصل کوانٹم ذرات مادے کی ماہیت کو متاثر کرتے ہیں. یہ اپنی حالت بدلتے رہتے ہیں جس سے ایک خاص وقت میں مادے کی خصوصیات متعین ہوتی ہیں. انکا بہتر مشاہدہ تابکار مادے، مثلاً یورینیم میں کیا جا سکتا ہے. کوانٹم تھیوری کے مطابق یہ ذرات دو یا زیادہ حالتوں میں بیک وقت موجود ہو سکتے ہیں(اسے سپر پوزیشن کہتے ہیں) لیکن ایک مشاہدہ کرنے والے کو مشاہدے کے وقت انکی کوئی ایک حالت ہی نظر آئے گی اور اسی حالت کے اثرات کو وہ جانچنے کے قابل ہو گا. ممکن ہے کسی دوسرے مشاہد کو اسی وقت اسی ذرے کی دوسری حالت اور دوسرے اثرات نظر آئیں.

اس چیز کو سمجھانے، بلکہ اس پر تنقید کیلئے، نامور سائنس دان شروڈنگر(جو آئنسٹائن کا ہم عصر تھا) نے ایک “تھاٹ ایکسپیریمنٹ” یعنی تخیلاتی تجربہ ڈیزائن کیا جو اب “شروڈنگر کی بلی” کے نام سے مشہور ہے.شروڈنگر کہتا ہے کہ تصور کریں کہ ایک سیل بند ڈبے میں ایک بلی ہے. اور اسکے ساتھ ایک تابکار مادہ ہے. قریب ہی تابکاری کو جانچنے کا آلہ(گائگر کاؤنٹر) ہے جو ایک زہریلی گیس کی شیشی سے کنیکٹ کیا گیا ہے.اگر تو تابکاری مادے کے کوانٹم ذرات تابکاری لہر کو جنم دینگے تو گائگر کاؤنٹر اسے جانچ لے گا اور نتیجتاً اس سے منسلک زہر کی شیشی ٹوٹ جائے گی اور بلی مر جائے گی.اب کوانٹم تھیوری کے مطابق تابکاری کی وجہ بننے والے ذرات تابکاری خارج کرنے والی پوزیشن میں “بیک وقت” ہو بھی سکتے ہیں اور نہیں بھی…یعنی بلی بیک وقت زندہ بھی ہو سکتی ہے اور مردہ بھی…!!!

ایسا کیسے ممکن ہے. اسکی توجیہ کیلئے فزکس میں بہت ساری تھیوریز موجود ہیں جن میں سب سے مقبول “کوپن ہیگن انٹرپریٹیشن” ہے… یہ اصطلاح سب سے پہلے ہائزنبرگ نے استعمال کی. یہ وہی مشہور سائنس دان ہے جس نے بتایا تھا کہ الیکٹران کو “دیکھنا” ممکن نہیں… کیونکہ جب روشنی کے فوٹون اس سے ٹکراتے ہیں تو وہ اپنی پوزیشن تبدیل کر لیتا ہے اور ظاہر ہے روشنی کے بغیر انسانی آنکھ کسی چیز کو نہیں دیکھ سکتی. اسی نے کوانٹم فزکس کی مشہور مساوات پیش کی تھی… دلچسپ بات یہ ہے کہ کوپن ہیگن انٹرپریٹیشن کوئی مخصوص نکات پر مشتمل تھیوری نہیں ہے بلکہ اکثر متضاد باتیں بھی اس سے منسوب کی جاتی ہیں جن میں ہماری دلچسپی کیلئے یہ دو نکات اہم ہیں:

1. جب کوانٹم ذرات کے مشاہدے کیلئے لیبارٹری میں اپریٹس سیٹ کیا جاتا ہے اور ایک مشاہد اس کوانٹم تعامل کا جائزہ لیتا ہے تو سپر پوزیشن میں موجود ذرہ دو “پوٹینشل” (یعنی ممکنہ) حالتوں میں سے کوئی ایک “ایکچوؤل” (یعنی حقیقی) حالت اختیار کر لیتا ہے. یعنی مشاہد پر منحصر ہے کہ شروڈنگر کی بلی زندہ ملے گی یا مردہ. پوٹینشل یعنی امکان دونوں باتوں کا ہے.2. کوانٹم ذرات کچھ تجربات میں ذرات کی طرح عمل کرتے ہیں اور کچھ میں لہروں کی طرح. البتہ انکی لہروں والی صفات کسی مشاہد کے مشاہدے پر منحصر نہیں ہوتیں جیسا کہ نکتہ نمبر 1 میں ہم نے دیکھا. یہ صفات معروضی (یعنی آبجیکٹو) ہیں.کہنے کا مطلب یہ ہے کہ کوانٹم فزکس کی مکمل تفہیم آج تک ایک مخمصہ ہے. آیا کہ کوانٹم حالت آبجیکٹو ہے یا سبجیکٹو؟ یقین سے نہیں کہا جا سکتا. یہی وجہ ہے کہ بہت سے سائنسدانوں کا خیال ہے کہ اس کی تھیوریٹیکل بنیاد کو سمجھنے پر وقت ضائع کرنے کی بجائے بس اسکی میتھمیٹیکل اور فزیکل ایپلیکیشنز پر توجہ کرنی چاہیے. اس مؤقف کو فزکس میں “شٹ اپ اینڈ کیلکولیٹ” کے مشہور زمانہ مقولے سے جانا جاتا ہے.

اصل مخمصہ یہ ہے کہ مشاہد اور سائنسی آلات کے بغیر تجزیے کیلئے ڈیٹا اکٹھا کرنا ممکن نہیں اور مشاہدہ ڈیٹا تبدیل کر دیتا ہے… تو پھر “معروضی حقیقت” یعنی آبجیکٹو رئیلٹی تک رسائی کیونکر ممکن ہو؟!!!اب وحدت الوجود سے اس نظریے کی انتہا درجے کی مماثلت سے پہلے ہم یہ واضح کر دینا چاہتے ہیں کہ کوانٹم فزکس کا میدان سائنس ہے اور وحدت الوجود کا میدان فلسفہ… اور ہم ہمیشہ یہ کہتے آئے ہیں کہ ایک بنیاد پر قائم نظریے کا دوسری بنیاد پر قائم اصول کی مدد سے نہیں جانچا جا سکتا. یہی وجہ ہے کہ ملحدین کے مقابلے میں ہم ہمیشہ یہ کہتے ہیں کہ سائنس کی بنیاد پر خدا کا انکار ایک بہت بڑی “فیلسی” ہے…تو یہاں ہم اس مماثلت کا تکلف کیوں کر رہے ہیں؟

آئیے دیکھتے ہیں:وحدت الوجود کی بھی کوانٹم فزکس کی طرح مختلف تشریحات و تفہیمات ہیں. ان میں سے ابن عربی کا کہنا یہ ہے کہ “یہ کائنات نہ خدا کا عین ہے اور نہ غير.” (کوانٹم سپر پوزیشن؟!!!)وہ کیسے؟جب “تعین” ہو جائے تو غیر ہے، ورنہ عین…اب سب سے اہم سوال یہ ہے کہ یہاں “تعین” کون کرے گا؟ ظاہر ہے کہ “مشاہد” یعنی آبزرور… اور یہی چیز اس نظریے کو فلسفے کے حدود سے کھینچ کر سائنسی حدود میں لے آتی ہے.

یعنی جب آپ اپنی حسیات یا کسی بھی مادی سائنسی ذریعے یا تجربہ سے کائنات کی کسی بھی مادی حقیقت کا مشاہدہ یا تجزیہ کرتے ہیں تو آپکا اس قابل ہونا یہ ثابت کرتا ہے کہ یہ کائنات اللہ کا غیر ہے، کیوں کہ اللہ مادیت اور مادی تجربے اور مشاہدے سے ماورا ہے. مثلاً آپ ابی موبائل یا کمپیوٹر استعمال کر رہے ہیں، گاڑی چلا رہے ہیں، کھانا پکا رہے ہیں، لیب میں کسی تجربے میں مصروف ہیں… وغیرہ وغیرہ…. آپ کائنات کے ساتھ طبیعی تعامل میں مصروف ہیں اور اس بات کا “تعین” کر رہے ہیں کہ یہ اللہ سے الگ، اللہ کا غیر ہے… لیکن جب آپ کوئی ایسا “تعین” نہیں کر رہے ہوتے(مثلاً سوئے ہوئے ہیں، یا بےہوش ہیں…. شاید اسی لیے مسٹسزم میں خوابوں کی بھی بڑی اہمیت ہے)، تو اسوقت یہ کائنات اللہ کا عین ہوتی ہے، یعنی اسکا حصہ، اسکا جزو، اسکی ایکسٹینشن… (نعوذباللہ، استغفر اللہ… نقل کفر، کفر نہ باشد)

اب آپ نے ملاحظہ فرمایا کوانٹم فزکس اور وحدت الوجود کے سائنسی پہلو میں بلا کی مماثلت… نوٹ فرمائیے کہ مشہور صوفی رفیق اختر صاحب نے بھی مجھ جیسے نالائقوں کیلئے وحدت الوجود کو سائنس کے ذریعے سمجھانے کی کوشش کی ہے (بغیر کوانٹم فزکس کے ذکر کے)کہاں چلے؟کہانی ابھی ختم نہیں ہوئی. اصل ٹوئسٹ تو اب آ رہا ہے…اب جو چیز وحدت الوجود کو کھینچ کر واپس فلسفے اور میٹافزکس کے میدان میں لے جاتی ہے وہ ہے سالک (آبزرور) کی محنت اور روحانی طاقت…. ابتسامہ

اس نظریے کے مطابق ہر روح چونکہ خدا سے نکلی ہے (پیدا یا عدم سے وجود میں تخلیق نہیں ہوئی) لہٰذا وہ ہر دم واپس اسی میں ضم ہونے کی کوشش میں رہتی ہے. مسٹسزم کی راہ میں محنت کرنے سے سالک وہ کمال حاصل کر لیتا ہے کہ مادی جسم بے معنی ہو جاتا ہے اور روح خدا سے اتحاد کر لیتی ہے. اسے فنا فی اللہ کہتے ہیں، جب خالق اور مخلوق ایک ہو جاتے ہیں (نعوذباللہ، استغفراللہ)… یہی وہ کیفیت ہے جس میں صوفیاء کے مطابق، منصور حلاج نے “اناالحق” کا نعرہ لگایا تھا… اور یہ وہ “معروضی کیفیت” ہے جس میں پہنچ کر آپ مادیت سے ماورا ہوکر یہ جان لیتے ہیں کہ “مادی تعین” کے بغیر کیسے یہ کائنات عین اللہ ہے…!!!
(نعوذباللہ، استغفراللہ)

سائنس تو سائنس ہے. ممکن ہے کل کو کوانٹم فزکس ہماری سمجھ میں آ جائے… لیکن وحدت الوجود کو سمجھنا ہم جیسے” نالائقوں” کیلئے مشکل ہی نہیں، ناممکن ہے… کیونکہ نہ ہم سلوک کی بدعتی راہ پر چلنا چاہتے ہیں اور نہ فنا کے شرک تک پہنچ کر اس کفریہ “توحید” کو “جاننا” چاہتے ہیں. ہمارے لیے اسکی “پہچان” ہی کافی ہے کہ یہ خالق کے ساتھ بدترین ظلم اور گستاخی ہے…ہمارے لیے شریعت ہی کافی ہے اور اسی کے ہم مکلف ہیں جو محض فزیکل بنیادوں پر تجزیہ کرنے اور “حکم لگانے” کا پابند کرتی ہے اور غیر مرئی معاملات سے تعارض نہیں کرتی…. جب تک وہ طبعی معاملات کی راہ میں حائل نہ ہوں… اور میٹافزکل معاملات، جہاں ہماری رسائی ناممکن ہے، مثلاً ایمان بالغیب، تو اس کو سو فیصد وحی کے ساتھ مشروط کرتی ہے اور کسی غیر نبی کے کشف، الہام، فلسفے اور مشاہدے کا پابند نہیں بناتی…(ڈاکٹر رضوان اسد خان)

Add Comment

Click here to post a comment