Home » تبت کی کہانی۔۔۔۔جنتِ ارضی سے محاذِ جنگ تک!!! ۔۔۔ پہلا حصہ۔
معلومات

تبت کی کہانی۔۔۔۔جنتِ ارضی سے محاذِ جنگ تک!!! ۔۔۔ پہلا حصہ۔

تبت Tibet , جسے Roof of the world دنیا کی چھت بھی کہا جاتا ہے دنیا کا سب سے بلند اور دشوار گزار خطہ ہے جس کی اوسط بلندی بھی سطح سمندر سے 14370 فٹ ہے ۔۔۔ جبکہ سطح مرتفع تبت کا بلند ترین مقام یعنی “ماؤنٹ ایورسٹ” فی الحقیقت دنیا کا بھی سب سے بلند مقام ہے ۔مجموعی طور پر تبت پلیٹو 7 ممالک یعنی چین، ہندوستان، پاکستان،نیپال ، بھوٹان، تاجکستان اور کرغزستان کو چھوتا ہے ۔تاہم آج ہم تبت کے صرف مرکزی مقام یعنی چینی تبت کی بات کررہے ہیں۔
آپ میں سے اکثر احباب نے تبت کا ذکر یا تو “تبت سنو” کریم یا پھر سید ضمیر نقوی کی مشہور زمانہ تقریر “نیپال میں ، تبت میں عاشور کے روز نوجوان ، چھریاں لے کر جنگل۔۔۔۔۔” میں سنا ہوگا۔ اس لیے پہلے تبت کے مختصر تعارف اور تاریخ سے آپ کو آگاہ کرتی چلوں۔

تعارف :تبت کے چینی زیرِ انتظام رقبے کو Xizang بھی کہا جاتا ہے۔۔۔اس کا دارالحکومت Lahsa ہے۔تبت کا رقبہ 1,228,400 مربع کلومیٹر اور آبادی 37 لاکھ کے قریب ہے۔قومیت کے اعتبار سے تبت میں تبتی، ہن، ہوئی اور مونپا قوموں کے افراد رہائش پذیر ہیں ۔ یہاں کی زبان تبتی اور چینی ہے….مذہبی اعتبار سے تبت کی 78٪ آبادی بدھ مت مذہب سے تعلق رکھتی ہے۔ جبکہ 22٪ آبادی مقامی قبائلی عقائد ، چینی۔ روایتی مذاہب، اسلام اور مسیحیت کے ماننے والوں پر مشتمل ہے۔
تبت ایک بلند پہاڑی خطہ ہے جو کوہِ ہمالیہ کے درمیان واقعہ ہے۔تبت ایک سر سبز و شاداب ، افسانوی حد تک خوبصورت خطہ ہے جو بلند و بالا پہاڑوں ، وسیع خوبصورت جھیلوں ، پھولوں سے اٹے تاحدِ نگاہ پھیلے گھاس کے میدانوں ، بےمثال قدرتی حسن پر مشتمل وادیوں ، گرم پانی کے قدرتی چشموں اور ناقابل یقین حد تک خوبصورت طرزِ تعمیر کے قدیم اور جدید رنگا رنگ بودھ سٹوپوں اور بودھ دھرم کے دیگر مذہبی مقامات، قدیم محلاتی پر مشتمل ہے۔لیکن تبت کا دوسرا رخ یہ ہے کہ آج کا تبت انسانی حقوق کے اعتبار سے دنیا کے بدترین خطوں میں شامل ہونے کے ساتھ ساتھ دنیا کی سب سے بڑی جیل ہونے کا افسوسناک اعزاز بھی رکھتا ہے۔

مختصر تاریخ :تبت کی تاریخ کا آغاز سنہ 712 قبل مسیح سے ہوتا ہے جب تبت پہلی مرتبہ Yarlung dynasty کے طور پے دنیا کے نقشے پر ابھرا ۔ اس دور میں چین کا اکثریت رقبہ تبت کے زیر انتظام تھا ۔سنہ 618 بعد مسیح میں بادشاہ Songtsen Gampo نے پہلی مرتبہ “سلطنت تبت ” کی بنیاد رکھی جو کہ سنہ 842 تک قائم رہی۔

تبت میں بدھ مت :تبت میں بدھ مت کی آمد سے قبل یہاں کا مذہب روایتی چینی مزاہب جیسے بون، شمانک اور انیمسٹک پر مشتمل تھا ۔8ویں صدی کے اختتام پر تبت کے بادشاہ Trisong Dasten نے ہندوستان سے 2 بودھ لاماوں کو تبت میں مدعو کیا اور تبت میں بدھ مت کی بنیاد رکھی۔۔۔ساتھ ہی اس نے بدھ مت کے مقدس مخطوطات کو تبتی زبان میں ترجمہ بھی کروایا ۔ آنے والی دہائیوں میں بدھ مت انتہائی تیزی کے ساتھ تبت میں پھیلتا چلا گیا یہاں تک کہ بمشکل ایک صدی میں بدھ مت ، تبت کا سب سے بڑا، مرکزی اور سرکاری مزہب بن چکا تھا ۔بدھ مت میں سب سے مقدس مذہبی راہنما کو “دلائی لامہ” کہا جاتا ہے بمعنی علم کا سمندر۔
تبت کا پہلا دلائی لامہ Gedun Drupa تھا جو 1391 میں پیدا ہوا اور بدھ مت کی مشہور کتاب “نروان کے راستے کی روشنی” کا مصنف تھا۔تب سے لے کر آج تک 13 دلائی لامہ ا اور جا چکے ہیں جبکہ 14واں دلائی لامہ اب تبت سے جلاوطن ہوکر ہندوستان میں رہائش پذیر ہے۔اس کے بعد صدیوں تک تبت چین کی مختلف سلطنتوں جیسے “سلطنت تانگ ” ، سلطنتِ یوان”,کا بھی حصہ بھی رہ چکا ہے لیکن زیادہ وقت تبت ان آتی جاتی بیسیوں سلطنتوں سے باہر اور خودمختار علاقہ ہی رہا ۔یہاں تک کہ تبت چین کی آخری سلطنت “سلطنت چن” Qin dynasty میں بھی شامل رہا۔

تبت-برطانیہ جنگ:1903 میں برطانیہ جوکہ ہندوستان پر قابض تھا اس نے تبت کی ہندوستان کے ساتھ چل رہی سرحدی کشیدگی کے پیش نظر اپنی 10 ہزار افراد پر مشتمل فوج کو تبت میں داخل کردیا ۔ جن میں اکثریت ہندوستانی سپاہیوں کی تھی۔اس وقت تک تبت کے پاس کوئی ریگولر فوج موجود نہ تھی ۔ اس جنگ میں 600 کے قریب برطانوی اور 3000 تبتی مارے گئے ۔اس جنگ کا اختتام فیصلہ کن نہ ہوسکا اور ہند-تبت سرحدی تنازعات کا خاتمہ نہ ہوا۔چن سلطنت 1636 سے 1912 تک قائم رہی تھی۔1912 میں سلطنت چن کا اختتام ہوگیا اور جمہوریہ چین Republic of China کا قیام عمل میں آیا ۔۔۔۔لیکن۔۔۔۔تبت اور منگولیا نے اس نئی ریاست میں شمولیت سے انکار کردیا اور خودمختاری کا اعلان کردیا ۔
۔
1914 معاہدہ :25 مارچ 1914 میں دہلی کے مقام پر برطانوی حکومت اور تبت کے درمیان معاہدے کے تحت نئی ہند-تبت سرحد کی ترتیب عمل میں لائی گئی جسے McMahon Line کہا جاتا ہے۔اس طرح ہندوستان اور تبت کے درمیان سرحدی تنازعات کا اختتام ہوگیا۔لیکن۔۔۔۔۔اس معاہدے کے تحت “جنوبی تبت ” کے علاقے “اروناچل پردیش” کا ہندوستان کے ساتھ انضمام کردیا گیا۔( یہی وجہ ہے کہ چین اور پاکستان ، یہ دو ممالک آج تک اروناچل پردیش کو سرکاری سطح پر چین کا حصہ ہی قرار دیتے ہیں۔)

جمہوریہ چین کا خاتمہ :1 اگست 1927 کو جمہوریہ چین میں چیانگ کائی شیک کی جمہوری افواج اور ماؤ زیدونگ Mao Zedong کے کمیونسٹ دھڑے کے درمیان خانہ جنگی کا آغاز ہوگیا ۔ جوکہ 22 برس تک جاری رہی۔اپریل 1949 میں جمہوری افواج کو شکست ہوگئی اور چیانگ کائی شیک اپنی حکومت سمیت تائیوان فرار ہوگیا ۔1949 میں ماؤ زیدونگ نے جدید چین یعنی People’s Republic of China کی بنیاد رکھی۔یاد رہے تبت اب تک ایک آزاد ملک تھا ۔
لیکن۔۔۔۔اب ماؤ زیدونگ تبت پر حملہ کرکے اسے چین کا حصہ بنانا چاہتا تھا۔

سوال : کیا تبت کبھی چین کا حصہ رہا ہے ؟
جواب : تاریخی اعتبار سے تبت کبھی بھی چین کا حصہ نہیں تھا بلکہ چین نام کا ملک 1912 سے قبل سرے سے وجود ہی نہ رکھتا تھا۔۔۔۔جبکہ تبت کی تاریخ 2733 سال پرانی ہے۔آج جس رقبے کو ہم چین کہتے ہیں ہزاروں سال تک مختلف اقوام کے زیر حکومت رہا ہے جن میں منگول ، ترک ، منچو، تبتی اور دیگر اقوام شامل ہیںبلکہ چین کا لفظ بھی چِن Qin سے نکلا ہے جوکہ جمہوریت سے قبل آخری چینی سلطنت تھی ۔موجودہ چین دراصل کئی آزاد ممالک کے الحاق کی شکل میں ہے جن میں مشرقی ترکستان، منچوریا ، منگولیا ، قنطونیا، اور دیگر سابق آزاد ممالک شامل ہیں ۔
۔
سوال : کیا تبت کبھی بھارت کا حصہ رہ چکا ہے ؟جواب : بھارتی ہندوتوا سیاسی گروپس اور BJP متعدد مرتبہ دہرا چکے کہ “تبت دراصل بھارت کا حصہ ہے جس پر چین نے قبضہ کررکھا ہے۔”.جبکہ حقیقت تو یہ ہے کہ تبت تاریخ میں کبھی 1 دن کے لیے بھی نہ تو جغرافیائی نہ ہی سیاسی طور پر بھارت کا حصہ رہا ہے۔۔۔۔بلکہ یہ دعویٰ دراصل مذہبی بنیاد پر کیا جاتا ہے کہ بدھ مت کی ابتدا کیونکہ بھارت میں ہوئی تھی تو تبت پر حق بھارت کا بھی بنتا ہے جو کہ بالکل ایک بچگانہ اور غیر حقیقی کلیم ہے۔

1950 کا تبت :چین کے حملے سے قبل 1950 کا تبت ایک آزاد ملک تھا جوکہ ایک غریب اور پسماندہ لیکن مکمل طور پے پرامن ملک تھا ۔ جہاں یورپ میں ہر دو جنگِ ہائے عظیم اور پھر چین میں یکے بعد دیگرے تین بڑی جنگوں (چین-جاپان جنگ، دوسری جنگ عظیم اور پھر چین کی خانہ جنگی) میں کئی کروڑ افراد کی اموات ہوئی تھیں اور قحط نے مزید کروڑوں چینیوں کو نگل لیا وہیں تبت کے ہمسایہ ملک ہندوستان میں بھی پہلے کئی برسوں کی سیاسی کشیدگی ، بیسیوں جنگوں کے بعد پارٹیشن کے وقت ہوئی لاکھوں اموات کے دوران بھی تبت اپنے ہمسایہ خطوں اور باقی پوری دنیا میں ہورہے اور ہوچکے خونریز قتلِ عام کے دوران بھی مکمل طور پے پرامن اور پر سکون ملک تھا۔۔۔ یہاں تک کہ تبت میں جرائم کی شرح بھی نہ ہونے کے برابر تھی۔

تبت پر اس وقت 13واں دلائی لامہ بنام Thupten Gyatsoحاکم تھا۔ جس کی عمر صرف 15 برس تھی۔تبت کی اکثریت آبادی کا زریعہ روزگار کاشتکاری ، گلہ بانی ، شکار ، دستکاری اور دیگر چھوٹی صنعتوں پر مشتمل تھا ۔تبت کی ایک چھوٹی سی فوج بھی تھی جو کہ صرف 10 ہزار سپاہیوں پر مشتمل تھی ۔۔۔بھلے ہی اس دور کا تبت ایک پرامن ریاست تھا۔۔۔لیکن۔۔۔تبت کی کم از 50٪ آبادی خطِ غربت سے نیچے تھی اور تبت کے 12 با اثر و امیر خاندانوں کے لیے بطور مضارع ، کاشت کاری اور گلہ بانی کا کام کرتی تھی ۔۔۔ گویا تبت میں سب سے بڑا مسئلہ غربت کا تھا ۔ساتھ ہی اس دور کا تبت بجلی، گیس ، جدید تعلیم اور تعلیمی مراکز ، میڈیکل سہولیات اور پکی سڑکوں سے بھی محروم تھا ۔

چین کا تبت پر حملہ :1950 کے اوائل میں ہی ماؤ زیدونگ نے تبت کے عوام کے نام یہ پیغام جاری کیا تھا کہ وہ اپنے مذہبی حکمرانوں سے نجات حاصل کرتے ہوئے تبت کا الحاق چین کے ساتھ کرلیں۔لیکن تبت پر حملے کے لیے چین کو ایک بہت بڑی رکاوٹ کا سامنا تھا ۔ اور وہ یہ کہ تبت سے ملحقہ چینی علاقوں میں بھی ہزاروں کلومیٹر تک پکی سڑکوں اور باقاعدہ راستوں کا فقدان تھا ۔ گویا چینی فوج کے لیے تبت کی سرحد تک پہنچنے کے لیے بھی سینکڑوں کلومیٹر تک سڑکوں کی تعمیر، پہاڑوں کو توڑ کر راستے بنانا ، دروں اور سرنگیں کی تعمیر اور دریاؤں ، ندی نالوں پر پُل بنانا پہلا ٹاسک تھا ۔چنانچہ سینکڑوں انجینئرز اور لاکھوں ورکرز کو اس کام پے لگا دیا گیا۔یہاں تک کہ چینی فوج کئی ماہ کی مشقت کے بعد اکتوبر 1950 میں دریائے میکانگ کو عبور کرکے تبت کے علاقے Chamdo میں پہنچنے میں کامیاب ہوگئی۔یہاں چینی فوج کا تبتی فوج سے پہلا ٹکراؤ ہوا۔چامدو میں 40000 چینی فوج کے مد مقابل 8500 تبتی فوجی تھے جن کے پاس موجود واحد ہتھیار پرانے طرز کی برطانوی رائفلز تھیں۔۔۔6 اکتوبر 1950 کو اس چامدو میں اس جنگ کے پہلے معرکے کا آغاز ہوا۔

( جاری ہے۔۔۔۔۔)

Add Comment

Click here to post a comment