Home » شان فوڈز کی داستان
معلومات

شان فوڈز کی داستان

خواتین کی مصروفیات میں سب سے اہم ترین اور زیادہ وقت لینے والا کام کھانا پکانا ہے۔ عام طور پر ہمارے روایتی کھانے تیار کرنے میں کافی وقت لگتا ہے۔ پہلے وقتوں میں لڑکیاں کھانا پکانا اپنے گھر میں والدہ دادی نانی وغیرہ سے سیکھتی تھیں اور یہی تربیت اور ترکیبیں نسل در نسل چلتی تھیں۔ موجودہ جدید دور نے جہاں بہت کچھ تبدیل کردیا ہے وہاں خواتین کا گھر میں کھانا پکانے کے لئے روایتی طریقوں سے اجتناب اور سہل پسندی ہے۔ کم عمر لڑکیاں اب چولہے اور کچن سے بھاگتی ہیں۔ پرانے زمانے کے مصالحے اور ان کو گھر میں سل بٹہ یا کُونڈی ڈنڈا سے پیسنا اب متروک ہو چکا ہے۔ وہ روایتی کھانے جو برصغیر کے مسلمانوں کی شان سمجھے جاتے ہیں اور جن کی تراکیب نسل در نسل چلتی تھیں اب وہ بڑی بوڑھیوں کے سینے میں ہی رہ گئ ہیں۔ کہتے ہیں کہ ضرورت ایجاد کی ماں ہے۔ بے شک اب خواتین سہل پسند ہوگئ ہیں لیکن ہمارے روایتی کھانے بریانی، یخنی پلاؤ، قورمہ، نہاری، پائے، تکے، پسندے، کوفتے، شامی کباب اپنے ذائقوں کی وجہ سے منہ سے نہیں چھٹتے۔ لیکن اب یہ سب کھانے پکانا اتنا آسان ہوگیا ہے کہ ایک عام سمجھ بوجھ کی لڑکی جس نے زندگی بھر علاوہ انڈا فرائ کرنے کے کچھ نہ پکایا ہو وہ بھی تیار شدہ ریسپی مصالحوں کی مدد سے زرا سی دیر میں یہ تمام روایتی کھانے تیار کرسکتی ہے۔

شان فوڈر کا شمار پاکستان کی چند گنی ، چنی ، کامیاب اور ترقی یافتہ کمپنیوں میں ہوتا ہے ۔ دنیا کے تقریبا 5 6 ممالک میں شان فوڈز براہ راست کاروباری سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ بلاشبہ کمپنی کی حیرت انگیز ترقی کا سہرا چئیر مین جناب سکندر سلطان کے سر جاتا ہے ۔ آپ نے آئی بی اے سے ایم بی اے مکمل کیا ۔ تجارت کے عروج تک پہنچے ، مگر دین اور شریعت کا دامن ہاتھ سے نہیں جانے دیا۔ شان فوڈز ایک ایسی کمپنی ہے جہاں شریعت کے ہر قانون کو پوار کرنے اور اللہ کا ہر حکم ماننے کی بھرپور کوشش کی جاتی ہے ۔ کمپنی کے تمام ملازمین نمازی ہیں۔ تبلیغی اور دعوتی سرگرمیوں کا حصہ بنتے ہیں۔ جبکہ تمام معاملات کو شریعت کے دائرے میں پوار کرنے کے لیے ایک مکمل اور خود مختار شریعہ ڈیپارٹمنٹ بھی سر گرم عمل ہے ہفت روزہ شریعہ اینڈ بزنس نے اپنےقارئین تک ” شریعت اور تجارت ساتھ ساتھ” کی اس عملی تصویر کو پیش کرنے کے لیے جناب سکندر سلطان کا تفصیلی انٹرویو کیا۔ اس امید کے ساتھ کہ دیگر تمام کمپنیاں بھی شریعت کے تمام احکامات کو پوار کرنے کی بھرپور کوشش کریں گی۔

سکندر سلطان کہتے ہیں کہ پچھلی سات پشتوں سے میرے آباؤ اجداد سب بزنس کی فیلڈ میں ہی ہیں ۔ اسی طرح تعلیم سے بھی وابستہ رہے ۔ میرے والد صاحب 27 سال تک انگلینڈمیں رہے ۔ وہیں تعلیم حاصل کی اور کیریئر کا آغاز بھی کیا۔ تعلیم میں نے آئی بی اے میں حاصل کی اور یہاں سے ایم بی اے مکمل کیا ۔

: مصالحہ جات کے بزنس میں آنے کی وجہ ہمارا خاندانی پس منظر ہے۔ دہلی خاندان کھانوں اور مصالحوں کے حوالے سے پہچانا جاتا تھا۔ ہمارے والد صاحب کا شمار دہلی کے مشہور ترین لوگوں میں ہوتا تھا ۔ تبلیغی جماعت کے بانی حضرت مولانا الیاس دہلوی کے دوستوں میں ان کا شمار ہوتا تھا۔ جب میں چھ ساتھ سال کا تھا تو کھانا پکانا شروع کردیا۔ ترکش توش، انڈہ فرائی ، گلاب جامن وغیرہ بنالیتا تھا ۔ انڈہ بنانا ایک بہت بڑا فن ہے۔ آج تک میرے پاس چھ سات کک کام کر چکے ہیں مگر ہر کسی کو انڈا بنانا میں نے سکھایا ۔ا یک بار ایسا ہوا کہ ہماری والدہ لاہور تشریف لے گئیں ۔ وہ گئی تو 20 دن کے لیے تھیں مگر انہیں والدین نے روک لیا اور وہ دو ڈھائی ماہ وہاں رہیں ۔ ہمارے ہاں صرف گرم مصالحہ خشک استعمال ہوتا باقی تمام مصالحے جات گیلے ہوتے ۔ انہیں صبح سویرے پیسہ جاتا تھا۔ گھر میں چھ سات قسم کی برنیاں تھیں جن میں مختلف مصالحہ جات پسے ہوئے رکھے ہوتے ۔ جب کبھی گھر میں کوئی کھانا پکانا ہوتا تو یہی مصالحہ جات بھی ختم ہوگئے ۔ ہمارے والد صاحب نے فرمایا کہ بھائی مصالحے بناؤ۔ہمارے ماسی کو کچھ پتا نہیں تھا ۔ میری بڑی بہن نے بنایا مگر وہ خراب بنا۔ا س میں اجلا لگ گیا اور مزیدار بھی نہیں تھا۔ میرے والد صاحب نے مجھے فرمایا :” بھئی ! تم بناؤ نا! میں نے ترکیب لڑائی مصالحہ تیار کیا۔ پہلاکھانا بنا تو اتنا مزیدار بنا کہ ہم سب بھی کھانا چٹ کر گئے اور ہمارے ملازمین بھی، کھانا کم پڑگیا ۔ میرے والد صاحب نے مجھےا س زمانے میں 100 روپے انعام دیا۔ پھر مجھے فرمایا کہ یہ تو گوشت کا مصالحہ ہوگیا اب تم دال ، حلیم اور دوسرے تمام مسالحہ جات بھی بناؤ ۔میں نے وہ سارے مصالحے بھی بناڈالے ۔ اس کے بعد میری والدہ واپس آگئیں ۔ میرے والد صاحب نے فرمایا کہ اب تم نہیں بناؤ گی ،مصالحہ جات یہ بچہ بنائے گا ۔ اس وقت سے میرے مصالحہ جات چلنا شروع ہوگئے ۔ دوسرے رشتہ دار بھی مانگنے لگے ۔یہاں تک کہ ہماری بہنوں کی امریاک شادی ہوگئی تو وہ بھی گرم مصالحہ میرا بنایا ہوا استعمال کرتیں ۔میں انہیں گرم مصالحہ بھجوادیا کرتا تھا۔

اب ہوا یہ کہ میں ابتداء میں فوٹو گرافی ، فلم سازی اور ڈاکیو منٹریز بنانے کی طرف آگیا ۔ سب سے پہلی ڈاکیو منٹری میں نے پی آئی اے پر بنائی ۔ جس کا مرحوم صدر ضیاء الحق نے مجھے براہ راست حکم دیاتھا ۔ا س کے بعد آنکھ اوچر بینائی سے متعلق ایک فلم بنائی ۔ تقریبا سات سال تک میں اس پیشے سے وابستہ رہا ۔ مگر پھر میں نے فلم بنانے سے توبہ کر لی ۔اسی دوران مصالحہ جات بنانے اور امریکہ بھیجنے کا سلسلہ جاری رہا ۔ وہاں میری بہنیں کچھ مصالحے بیچ بھی دیتیں ۔میں نے سوچا کیوں نہ مصالحہ زیادہ مقدار میں بنوا کر رکھ لوں ۔ میں نے جاکر دس بیس کلو مصالحہ پسوایا۔جس چکی سے پسوایا تھا اس چکی والے نے کچھ مصالحہ ایک دوکاندار کو دے دیا۔ دوکاندار سے وہ مصالحہ ہاتھوں ہاتھ بک گیا۔ وہ پوچھتا پاچھتا مجھ تک پہنچااور اور مزید مصالحے کا مطالبہ کرنے لگا ۔ میں ے کچھ تو دیا پھر کہا کہ مزید نہیں ہے ۔ دوکاندار کا اصرار بڑھتا گیا اور بالآخر میں نے ہتھیار ڈال دیے ۔ میں نے دوکاندار کو تھوڑا سا مصالحہ بناکر دینا شروع کردیا ۔ پھر جب میں نے فلم بنانا چھوڑا تو سوچا کیوں نہ اسی کام میں ہاتھ ڈال دوں ۔ میرے پاس کچھ بھی نہیں تھا۔ا پنے گھر کے گیراج میں ہی ایک ملازم کے ساتھ کام شروع کیا ۔ ایک سے دو اور دو سے دس ملازم ہوگئے اور اللہ کا شکر ہے کہ میرے مصالحے بکتے چلے گئے ۔یوں 1981 میں گھر کے گیراج سے شروع ہونے والے شان مصالحے کی مقبولیت بڑھتی گئ۔ ا ب میں نے باقاعدہ پیکنگ شروع کردی ۔ شان کا نام رکھنے کا مرحلہ بھی بڑا دلچسپ تھا۔ میں اپنی والدہ سے مشورہ کررہا تھا کہ نام کیا ہونا چاہیے والدہ نے فرمایا : ” نام تو ایسا ہو جس میں اللہ کی شان جھلکے ” ۔ مٰں نے کہا لو پھر نام ہوگیا ” شان ” ۔ لوگوں کے لیے شان اور “ہمارے لیے اللہ کی شان “۔ جب ہم نے ” شان فوڈز ” قائم کی تو اس کے دس اصول بنائے ۔ اس میں جہاں منافع وغیرہ سے متعلق اصول لکھے گئے تھے ، وہیں ہم نے یہ بھی لکھا کہ ہم اپنے کام کی وجہ سے اللہ کے حکم کو نہیں توڑیں گے ۔ہم نے سب سے زیادہ توجہ کوالٹی پر دی ، کیونکہ ہمارا یہ خیال ہوتا تھا کہ ہم لوگوں کےا مانت دار ہیں ۔ لوگ جو پیسے ہماری پروڈکٹ کے بدلے میں ہمیں دیتے ہیں ، وہ یہ سمجھتے ہیں کہ اس میں بہترین چیز ہوگی ، لہذا ہم بہترین کے علاوہ استعمال ہی نہیں کرتے ۔یہ ہماری پالیسی ہے۔ جب تک دم میں دم ہے ،یہی پالیسی رہے گی ۔
بشکریہ : صفہ اسلامک ریسرچ سینٹر

Add Comment

Click here to post a comment