Home » رشین سلیپ ایکسپیریمنٹ
Uncategorized

رشین سلیپ ایکسپیریمنٹ

آپ نے کبھی سوچا ہے کہ اگر انسان بالکل بھی نیند نہ کرے تو اس کا اس کے جسم پر کیا اثر ہوگا اور وہ مکمل سوئے بغیر کتنا عرصہ زندہ رہ سکتا ہے؟ انسانی جسم کیلئے نیند کی اہمیت بالکل ویسی ہی ہے جیسے کے کھانے اور پینے کی اہمیت ہے۔ انسانی نیند کو سمجھنے کیلئے سائنسدانوں نے انسانوں اور جانوروں پر متعدد تجربات کئے ہیں لیکن آج میں آپ کو جس تجربے کے بارے میں بتانے والا ہوں وہ انتہائی خوفناک تجربات میں سے ایک ہیں۔

جس تجربے کے بارے میں میں آپ کو بتانے والا ہوں اسے رشین سلیپ ایکسپیریمنٹ کا نام دیا جاتا ہے۔ یہ تجربہ کب منظر عام پر آیا اس بارے میں
تو یقین سے کوئی کچھ نہیں کہہ سکتا البتہ ماہرین کی مطابق سب سے پہلے اس تجربے کے نتائج کو کریپی پاستہ نامی ایک ویب سائیٹ پر پوسٹ کیا گیا۔ اس ویب سائیٹ پر عموماً لوگ اپنے ساتھ پیش آنے والے سچے خوفناک واقعات پوسٹ کرتے ہیں۔ مذکورہ تجربے کے نتائج کو اس ویب سائیٹ پر 10 اگست 2010 کو پوسٹ کیا گیا۔ اس کو پوسٹ کرنے والے نے اپنا نام اورینج سوڈا ظاہر کیا جس کی وجہ سے کوئی بھی اس شخص کا حقیقی نام نہیں جانتا۔
1940 میں روس میں پانچ قیدیوں پر یہ تجربہ کیا گیا۔ یہ قیدی دوسری جنگ عظیم میں روسی افواج کے ہاتھوں گرفتار ہوئے تھے۔ اس تجربے کا مقصد یہ جاننا تھا کہ انسان سوئے بغیر کتنا عرصہ زندہ رہ سکتا ہے۔ تجربے کی کامیابی کو یقینی بنانے کیلئے ان قیدیوں سے جھوٹا وعدہ کیا گیا کہ اگر یہ قیدی 30 دن سوئے بغیر نکال لیں تو ان کو رہا کر دیا جائے گا۔ ان تمام قیدیوں کو ایک چیمبر نما کمرے میں منتقل کیا گیا جس میں کھانے پینے کی اشیاء موجود تھیں۔ وقت گزاری کیلئے وہاں پڑھنے کیلئے کچھ کتابیں بھی رکھ دی گئیں۔ ان کو زندہ رکھنے کیلئے بہت سی سہولیات دی گئیں۔ ان کو سونے کی اجازت نہیں تھی البتہ لیٹ کر آرام کرنے کیلئے ان کو جانوروں کی کچھ کھالیں مہیا کی گئیں۔ ان قیدیوں کی سخت نگرانی کی جاتی تھی کہ کہیں یہ سو نہ جائیں اور اس کو یقینی بنانے کیلئے کمرے سے باہر کھڑکی پر مختلف شفٹوں میں لوگ ان پر پہرا دیا کرتے تھے۔ اس چیمبر میں ایک نامعلوم گیس بھی چھوڑی گئی جس کے نام کے بارے میں نہیں بتایا گیا۔ ان قیدیوں کے جسم کے ساتھ مائیکرو فونز بھی لگائے گئے تاکہ ان کی باتیں ہمہ وقت سائنس دان سن سکیں اور جاں سکیں کہ نہ سونے کی وجہ سے ان قیدیوں کے جسم پر کیا اثر پڑتا ہے۔

ابتداء میں تو سب کچھ ٹھیک ہی معلوم ہوتا رہا۔ پہلے پانچ دنوں تک یہ قیدی ایک دوسرے کو اپنی زندگیوں کے گزرے واقعات سناتے رہے، گپیں لگاتے رہے اور کتابیں پڑھ کر وقت گزارتے رہے۔ یعنی ابتداء میں سب کچھ نارمل تھا۔ لیکن یہ نارمل پن کچھ دنوں میں ختم ہوگیا۔ جیسے جیسے وقت گزر رہا تھا ان قیدیوں میں عجیب و غریب تبدیلیاں رونما ہوتی گئیں۔ ان لوگوں میں بے چینی، اضطراب اور غصہ بڑھتا گیا۔ انہوں نے ایک دوسرے سے گفتگو ترک کر دی اور اپنے آپ سے سرگوشیاں شروع کردیں۔ نویں دن ان میں سے ایک قیدی اچانک غصے میں آپے سے باہر ہوگیا اور بلند آواز میں چیخنا شروع ہوگیا اور مسلسل اونچی آواز میں تین گھنٹے تک چیختا رہا۔ اتنی اونچی آواز میں چیخنے کی وجہ سے اس کے ووکل کارڈز پھٹ گئے اور اس کے منہ سے خون بہنے لگا۔ لیکن عجیب حیرت کی بات یہ تھی کہ اپنے ساتھی کی اس عجیب و غریب کیفیت کا باقی چار قیدیوں پر کوئی اثر نہ ہوا۔ وہ مسلسل پہلے کی طرح خود سے سرگوشیاں کرتے رہے۔ کچھ دیر بعد ان میں سے ایک اور قیدی اسی طرح چیخنا چلانا شروع ہوگیا اور غصے میں کتابیں پھاڑنے لگا اور ان کتابوں کے پھرے ہوئے اوراق اس کھڑکی پر چپکانے لگا جس کی مدد سے ان پر باہر سے نظر رکھی جاتی تھی۔ اس کے بعد اندر سے آوازیں آنا بند ہوگئیں۔ کچھ دیر بعد پھر اندر سے چیخنے کی آوازیں آنے لگیں۔ یوں کبھی اندر سے چیخنے کی آوازیں آنا بند ہوجاتیں اورکبھی پھر شروع ہوجاتیں۔ اس دوران تین دن گزر گئے۔ ان سے اگلے تین دن تک ایسا ہوا کہ اندر سے کسی قسم کی کوئی آواز نہیں آئی۔ چونکہ سائنسدان باہر سے بھی ان کو نہیں دیکھ پا رہے تھے اور اندر سے بھی کسی قسم کی کوئی آواز نہیں آرہی تھی، اسلئے سائنسدانوں کو لگا کہ یہ لوگ مر چکے ہیں۔ اس لئے سائنسدانوں نے فیصلہ کیا کہ چیمبر کھول کر دیکھا جائے کہ ان قیدیوں کے ساتھ کیا ہوا۔

چیمبر کھولنے سے پہلے چیمبر میں موجود سپیکر پر انائونسمنٹ کی گئی کہ اگر کوئی قیدی چیمبر کے دروازے کے پاس کھڑا ہے تو وہ پیچھے ہٹ جائے اور زمین پر الٹا لیٹ جائے۔ اگر کسی نے حملہ کرنے کی کوشش کی تو ان کو گولی مار دی جائے گی۔ اس انائونسمنٹ کے بعد چیمبر کا دروازہ کھولنے کا فیصلہ کیا گیا۔
دروازہ کھولنے کے بعد روسی سائنسدان اندر کا منظر دیکھ کر بھونچکا رہے گئے۔ اندر ہر طرف کشت و خون پھیلا ہوا تھا۔ ان قیدیوں نے آدم خوروں کی طرح ایک دوسرے کو کھانا شروع کردیا تھا۔ ان کے جسم سے مختلف جگہوں سے گوشت ادھڑا ہوا تھا اور ہڈیاں نظر آرہی تھیں۔ ان کا دماغ کام کرنا چھوڑ چکا تھا۔ انہیں میں شعور ختم ہوچکا تھا۔ لیکن ان میں سے کوئی بھی مرا نہیں تھا۔ ان میں سے ایک قیدی بولا کہ ہم یہاں سے نہیں جانا چاہتے، ہمیں اکیلا چھوڑ دو، ہم ادھر ہی رہیں گے۔ ان قیدیوں کو ہسپتال لے جانے کا فیصلہ کیا گیا لیکن وہ یہی چیختے چلاتے رہے کہ انہوں نے سونا نہیں ہے اور انہیں سلانے کی بالکل کوشش نہ کی جائے۔ ہسپتال میں وہ قیدی یونہی چیختے چلاتے رہے اور ان میں تین قیدی ہسپتال میں ہی مر گئے۔ باقی بچے دو قیدیوں کو پٹیاں باندھ کر دوبارہ اس چیمبر میں چھوڑ دیا گیا۔ یہ تجربہ ختم نہیں کیا گیا۔ اس دفعہ اس چیمبر میں گیس کی مقدار بھی بڑھا دی گئی۔ روسی سائنسدانوں کی اس ٹیم میں سے تین نے فیصلہ کیا کہ وہ کچھ دیر اندر رہ کر ان کے بارے میں جاننے کی کوشش کریں گے۔ ان سائنسدانوں میں سے ایک نے ایک قیدی سے پوچھا کہ تم کون ہے اور اندر آنے کیلئے اتنا بے تاب کیوں ہو رہے تھے؟ تو وہ قیدی بولا کہ میں آپ ہوں، آپ کے اندر کا شیطان۔ آپ کے اندر کا ظلم ہوں۔ یہ سن کر اس سائنسدان کو احساس ہوا کہ انہوں نے ان قیدیوں پر بہت ظلم کیا اور اس طرح کا تجربہ کبھی بھی کسی دوسرے انسان پر نہ کیا جائے۔ اس نے ان دونوں قیدیوں کو گولی مار دی اور اپنے ساتھ اندر گئے دونوں سائنسدانوں کو بھی شوٹ کردیا۔ اس کے بعد وہ چیمبر سے باہر نکلا اور اس تجربے کے ہیڈ کو بھی گولی مار کر خود بھی مرگیا۔

یہ تجربہ تو اپنے خوفناک نتائج کے ساتھ اختتام پزیر ہوا لیکن یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ اس تجربے کو پوسٹ کرنے والا کون تھا۔ اور کیا واقعی اس طرح کا خوفناک تجربہ کیا گیا؟ اور یہ تجربہ کرنے والے اصل میں کون تھے اور کیا یہ تجربہ روسی حکومت کی سرپرستی میں ہوا؟ وہ کون سی گیس تھی جو انہوں نے چیمبر میں چھوڑی تھی۔ یہ تمام سوالات ابھی تک جواب طلب ہیں۔

اس خوفناک تجربے کی کہانی سے متاثر ہوکر 2015 میں اس حوالے سے ایک ناول بھی لکھا گیا۔ 2019 میں اسی کہانی پر ایک سکرین پلے بھی بنایا گیا جس کا نام When Science Traces A Deadly Turn تھا۔ 2019 میں اسی کہانی پر مبنی ایک ہالی ووڈ فلم The Soviet sleep experiment ریلیز کی گئی۔ ایسی فلموں کو بہت سے لوگ شوق سے دیکھتے ہیں لیکن آپ ان قیدیوں کے بارے میں سوچیں جن پر شاید یہ تجربہ اصل میں کیا گیا تھا۔
ڈاکٹر نثار احمد

Add Comment

Click here to post a comment