Home » فری لانسنگ سے متعلق حقائق
معلومات

فری لانسنگ سے متعلق حقائق

فری لانسنگ کے بارے میں پاکستان میں جتنے مغالطے ہیں شاید ہی دنیا کے کسی اور ملک میں ہوں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بس اعلان کر دیں کہ فری لانسگ سے ماہانہ ہزاروں ڈالر کمائیں اور ہر نوع کے انسانوں کا جم غفیر لگ جائے گا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پانچ دس ہزار دے کر رجسٹریشن کروا لی ، کلاس میں بیٹھے تو پتا چلا کہ پہلے کوئی اسکل سییٹ بھی ہونا چاہیے ، یا تو انگلش اتنی اچھی ہو کہ کانٹینٹ رائیٹنگ کر سکیں ، اگر انگلش اچھی ہے بھی تو ایس ای او یعنی آپپٹمائزڈ رائیٹنگ کا پتا ہونا چاہیے ، کی ورڈز کیا ہوتے ہیں ، ریسرچ کیسے کرتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کسی بھی نچ میں کیسے لکھتے ہیں وغیرہ وغیرہ ، اگر یہ سب نہیں آتا تو چاہے سات ہزار دن کا کورس کر لیں نتیجہ صفر ، لیکن یہ سب کوئی آپ کو کیوں بتائے گا ، انھیں تو اپنی رجسٹریشن فیس سے غرض ہے ، یہ وہی لوگ ہیں جن سے ملتے جلتے کردار دس بیس سال قبل گلی گلی کیڈٹ اسکول کھول کر کسی ماڈل کی وردی میں تصویر بینر پر لگا کر لوگوں کے بچوں کو آرمی آفیسر بننے کے خواب دکھایا کرتے تھے ۔

یہی لوگ اگر چاہیں تو سسٹم کے تحت شعور پھیلا سکتے ہیں ، درجہ بدرجہ اسکل سییٹ اجاگر کرنے میں آپ کی مدد کرسکتے ہیں لیکن ان لوگوں نے بھی چائینا کے ٹونی سٹارک اور سٹیو جابز بننے کا خواب دیکھا ہوتا ہے لہذا چل نکلتے ہیں سات دن میں کروڑ پتی بنانے کے نسخے بانٹنے ۔۔۔۔۔۔ ہمارے نوجوان پہلے ہی بے روزگاری اور تعلیمی ناکامیوں سے تنگ آئے ہوتے ہیں ، ایسا کوئی سپنا دکھانے والا جادو گر انھیں آسانی سے گھر ہی لیتا ہے اور نتیجہ وہی نکلتا ہے جو آج آپ کے سامنے ہے ، مایوس نوجوانوں کی تعداد میں اضافہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سب سے اہم بات یہ کہ فائیور، اپ ورک، گرو حتی کہ ایمزون بھی اب پہلے جیسا پلیٹ فارم نہیں رہا ، کمپیٹیشن بہت بڑھ گیا ہے ، اکائونٹ بنا کر لوگ گھنٹوں اسکرین کو گھورتے ہیں اور تھک کر بیٹھ جاتے ہیں جب کوئی آرڈر نہیں ملتا ، یہی نہیں کئی کئی دن کوئی کلک نہیں ہوتا گگز پر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اگر آرڈر مل جائے تو بھی کلائینٹ کے ساتھ کمیونیکیشن کے لیے بھی ایک الگ طرح کا سکل سیٹ ہونا چاہیے میں یہ نہیں کہتا کہ آپ وہاں سے کچھ نہیں کما سکتے لیکن یہ ہر ساجھے ماجھے کی گیم نہیں ، اس کے لیے کچھ بن کر دکھانا ضروری ہے ، ان جیسے لوگوں کو اپنے پیسوں سے غرض ہے ، یہ بس آپ کو ایک کے بعد دوسرے کورس کا لاچ دے کر اپنا مستقل گاہک بنائیں گے اور بس ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

یہ میں نے صرف کانٹینٹ رائیٹنگ کی مثال دی ہے ۔۔۔۔۔۔ گرافک ڈیزائننگ ، ایس ای او اور ملتے جلتے ہر فری لاننسگ شعبے کا یہی حال ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ فری لانسنگ بھی تب کارگر ہوتی ہے جب آپ پہلے سے کسی شعبہ میں نمایاں مقام رکھتے ہیں اور اسے انٹرنیشنل لیول پر لے کر جانا چاہتے ہیں ، محض سات دن میں اگر آپ کو کچھ مل سکتا ہے تو وہ ہے ایک خوبصورت دھوکا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

یہ ٹرینڈ بہت عام ہو گیا ہے کہ لوگ خود چاہے فائیور سے ایک پیسہ نہ کماتے ہوں ، دوسروں کو گگز آپٹمائز کرنا سکھانے کے طریقے بتا بتا کر لاکھوں ضرور کما لیں گے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بھائی کسی کو کچھ سکھانا ہے تو ادھوری انفارمیشن نہ دیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کسٹمر گھیرنا اچھی بات ہے ، لیکن لوگوں کی امیدوں کا خون بھی نہ کیجیے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پہلے ہی بتا دیں کہ اگر آپ پہلے سے کسی شعبہ میں ماہر ہیں تو سات دن میں فائیور اکائونٹ بنانا اور چلانا ہم آپ کو سکھا دیں گے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ نہیں کہ جب کوئی ککڑ پھنس جائے تو اسے بتائیں کہ او ہو ہو آپ کو تو پہلے ابگلش سیکھنی ہو گی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس کے لیے ہمارا ابابیل کورس کیجیے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پھر نیلی روشنی یا پیلا جادو کورس کیجیے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور یہ سب انجام کار اور کچھ ہو نہ ہو مایوسی میں اضافے کا باعث ضرور بن جائے گا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ خدارا ہوش کے ناخن لیجیے !!!

تحریر
محمد اقبال قریشی

Add Comment

Click here to post a comment