Home » ویلن ٹائنز ڈے کی شروعات کب ہوئی؟
Uncategorized

ویلن ٹائنز ڈے کی شروعات کب ہوئی؟

پہلا ویلنٹائن کارڈ 1860 میں پوسٹ کیا گیا۔ تب سے لیکر ہر سال تقریبا ایک عرب ویلنٹائنز ڈے کارڈ سالانہ پوسٹ کیے جاتے ہیں جس میں 85 فیصد خواتین شامل ہیں۔ دنیا بھر میں کرسمس کارڈ کے بعد یہ دوسرا کارڈ ہے جو سب سے زیادہ فروخت ہوتا ہے۔ یہ دن 14 فروری کو منایا جاتا ہے۔

تاریخ میں ویلنٹائنزڈے کی وضاحت بہت دھندلی سے ہے اور یہ بھی کہ کیسے یہ دن اتنی اہمیت اختیار کر گیا۔ ویلنٹائن نامی شخص جسے سینٹ ویلنٹائنز
بھی کہتے ہیں تیسری صدی میں روم میں رہتا تھا۔ اور ویلنٹائنزڈے اسی شخص کے نام سے منسوب ہے۔ ویلنٹائنز ڈے کو لیکر کئی کہانیاں اور داستانیں موجود ہیں لیکن یہاں ہم سب سے مستند دو کہانیوں کے بارے میں ذکر کریں گے۔

پہلی کہانی کے مطابق شہنشاہ کلاڈئیس نے فیصلہ کیا کہ فوج میں ایسے مرد ہونے چاہیے جو غیرشادی شادہ ہوں یا جن کا کسی عورت سے تعلق نہ ہو کیونکہ شہنشاہ کے مطابق ایسا آدمی ایک اچھا سپاہی ثابت ہوسکتا ہے لہذا شہنشاہ کلاڈئیس نے تمام سپاہیوں کے شادی کرنے پر پابندی لگا دی۔ ایک کہانی میں یہ بیان ہے کہ شہنشاہ کے حکم کے باوجود ویلنٹائن نامی شخص نے سپاہیوں کی شادیاں کروانے کا کام جاری رکھا خاص طور پر ایسے نوجوانوں کی جو کسی لڑکی سے محبت کرتے تھے یا جنکی منگنی ہوچکی تھی۔ شہنشاہ کی نافرمانی پر ویلنٹائن کو جیل میں ڈال دیا گیا۔ کہا جاتا ہے کہ قید کے دوران ویلنٹائن کو جیلر کی بیٹی سے محبت ہوگئی۔ ایک بار ویلنٹائن نے جیلر کی بیٹی کو ایک کارڈ دیا جس پر لکھا تھا ‘‘لو، تمہارا ویلنٹائن’’۔ جبکہ دوسری کہانی میں کہاجاتا ہے کہ شہنشاہ کلاڈئیس اس وقت کے مسیحیوں کے خلاف تھا اور مسیحیوں کو قید کرکے قتل ان پر تشدد اور ظلم و ستم کرتا تھا۔ ویلنٹائن ایسے تمام مسیحی قیدیوں کو جیل سے بھاگنے میں مدد کرتا تھا جب شہنشاہ کو پتا چلا تو اس نے ویلنٹائن کو گرفتار کروا کر جیل میں ڈال دیا اور بعد میں اسے شہید کر دیا گیا۔ ویلنٹائن کی وفات 270 بعد از مسیح میں ہوئی۔

کچھ لوگوں کا یہ بھی ماننا ہے کہ رومن ہر سال 15 فروری کو ایک تہوار مناتے تھے جسے لوپرسلیا کہاجاتا ہے۔ یہ بت پرستی کا ایک ایسا تہوار تھا جس میں بکروں کے خون سے عورتوں کو غسل دیا جاتا تھا اور اس تہوار کو بہتر جنسی زندگی حاصل کرنے کے لئے منایا جاتا تھا۔ لہذا 18 ویں صدی میں ایک چرچ نے اس دن کو ویلنٹائن کی یادگاری میں منانا شروع کردیا اور اس کے بعد ہر سال 14 فروری کو لوگ لوپر سلیا کے بجائے ویلنٹائنز ڈے منانا شروع ہو گئے جس میں تمام شادی شدہ اور منگیتر جوڑے ایک دوسرے کو تحائف دیتے اور اپنی محبت کا اظہار کرتے تھے۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق امریکا میں پہلا ویلنٹائن کارڈ 1840 میں آستر ہوگلیڈ نامی خاتون نے پوسٹ کیا تھا۔ آج کل ویلنٹائنز ڈے کا دن محض تفریح کے طور پر منایا جاتا ہے۔ ویلنٹائنز ڈے کارڈ اور تحائف دے کر اپنی محبت کا اظہار کیا جاتا ہے اور دوسرے فرد کو اپنی طرف متوجہ کیا جاتا ہے۔

Add Comment

Click here to post a comment