Home » ٹینک شکن کتے :
معلومات

ٹینک شکن کتے :

ٹینک شکن کتے :دنیا میں آج تک جنگوں میں جن دو جانوروں کو سب سے زیادہ استعمال کیا گیا ہے وہ ہیں گھوڑے اور کتے ، گھوڑوں کو سواری اور باربرداری کے لیے اور کتوں کو دشمن کی کھوج لگانے ، بم بارود یا زمینی سرنگوں کو سونگھ کر ڈھونڈنے یہاں تک کہ پیغام رسانی تک کے لیے بھی استعمال کیا جا چکا ہے۔
تاہم جنگِ عظیم دوئم کے دوران روس نے پہلی مرتبہ کتوں کو بطور ٹینک شکن ، بکتر شکن اور فوجی ٹرک، جیپ شکن مقاصد کے لیے استعمال کیا ۔ جس کے بارے میں ہم جانیں گے اس تحریر میں۔

پسِ منظر:22 جون 1941 کو جرمنی نے روس پر ایک وسیع اور بڑے پیمانے کا حملہ کرکے اس پر ایک فل سکیل جنگ مسلط کردی۔۔۔روس اس جنگ کے لیے قطعاً تیار نہ تھا ۔ جرمن فضائیہ نے جنگ کے پہلے ہفتے میں ہی روسی فضائیہ اور آرمر کے اکثریت حصے کا صفایا کر ڈالا ۔ادھر زمین پر روسی افواج کو اس تیزی سے ، پیش قدمی کرتی جرمن فوج سے بچتے ہوئے پیچھے ہٹنا پڑ رہا تھا کہ وہ بھاگتے ہوئے ، بھاری ترین مقداروں میں اپنا ہر قسم کا اسلحہ بھی پیچھے چھوڑ گئے جس پر آگے چل کر جرمن افواج نے قبضہ کرلیا ۔اب روس کے پاس ٹینکوں اور ٹیکن شکن ہتھیاروں دونوں کی تعداد بیحد کم اور ناکافی تھی اور اس محدود تعین آرسنل کے ساتھ انہیں دنیا کے سب سے بڑے ملک یعنی روس کا دفاع کرنا پڑرہا تھا۔چنانچہ اب روس کو جرمنی کے ہاتھوں بدترین شکست سے بچانے کی خاطر روسی افواج جرمن فوج کے خلاف ہر ممکن دستیاب وسائل اور ہتھیار استعمال کرنے پر آمادہ تھیں۔اسی سلسلے میں ایک عجیب و غریب ہتھیار تھا ٹینک شکن کتے ۔

کانسیپٹ :اس کانسیپٹ کے تحت تربیت یافتہ السیشن کتوں کے جسم پر کینوس کے بیگ میں 10 سے 12 کلو وزنی بم باندھ کر انہیں محتاط فاصلے سے دشمن کے ٹینکوں پر چھوڑ دیا جاتا۔۔۔۔ کتا بھاگتا ہوا دشمن کے ٹینک تک پہنچے گا تو اس کا ہینڈلر ریموٹ کنٹرول کے ذریعے بم کو بلاسٹ کردے گا۔ جس سے ٹینک اگر مکمل تباہی نہیں تو کم از کم اس کے ٹریکس ٹوٹ جائیں گے اور وہ جنگ سے باہر ہو جائے گا ۔

تربیت :ٹینک شکن کتوں کی تربیت کے لیے ماسکو میں ٹریننگ سینٹر قائم کیا گیا جس میں آرمی اور پولیس ڈاگز کے ٹرینرز اور سرکس کے جانوروں کو تربیت دینے والے ماہرین کو تعینات کیا گیا ۔ٹریننگ کا طریقہ یہ تھا کہ پہلے کتوں کو خوب بھوکا رکھا جاتا تھا ۔ پھر ان کی خوراک کو لکڑی سے بنے کچھ مصنوعی ٹینکوں، سپلائی ٹرکوں، فوجی جیپوں کے نیچے رکھ کے کتوں کو چھوڑ دیا جاتا اور وہ بھاگتے ہوئے ان کے نیچے جاتے اور وہاں سے اپنی خوراک حاصل کرلیتے ۔یہاں تک کہ کتوں کے ذہن میں ٹینکوں اور جنگی گاڑیوں کی شکل راسخ ہوگئی اور ان کے ذہن میں یہ بات منجمد ہوگئی کہ ان کو خوراک ملے گی تو وہیں سے۔

استعمال :روسی فوج نے جرمن فورسز کے خلاف ٹینک شکن کتوں کا استعمال 1941 کے اواخر میں شروع کردیا ۔مجموعی طور پر 100 کے قریب کتے اس مہم میں شامل تھے جن میں 30 کتے پہلے گروپ میں تھے۔لیکن۔۔۔۔یہ منصوبہ انتہائی بری طرح سے ناکام ہوگیا ۔اور سوائے دو چار ٹینکوں کو نقصان پہنچنے کے اس ٹیکٹک کا کوئی فائدہ نہ ہو پایا ۔کتے بھی سب کے سب ان کارروائیوں میں مارے گئے ۔

ناکامی کی وجوہات :اول یہ کہ کتوں کو تربیت دی گئی تھی خاموش اور پرسکون ماحول میں ۔ جب انہیں انتہائی شور، گرد و غبار , دھویں ، فائرنگ اور گولے باری کی آوازوں سے بھرے محاز پر چھوڑا جاتا تھا تو وہ کنفیوز ہوجاتے تھے اور ادھر ادھر بھاگ نکلتے تھے ۔دوسرا یہ کہ ان کی تربیت ٹینک و گاڑیوں کے ماڈلز پے کہ گئی تھی جو ساکن تھے ۔ جبکہ جنگ میں اصل ٹینک متحرک ہوتے تھے اور کتے ان ٹینکوں کو بھاگتا دیکھ کر ڈر جاتے تھے کہ جنہیں تربیت کے دوران ہمیشہ انہوں نے ساکن ہی دیکھا ۔
تیسری وجہ یہ تھی کہ جرمن ٹینکوں کا عملہ اتنا بےوقوف نہیں تھا کہ پہلے تین چار ٹینکوں پر “کُت کُش” حملوں کے بعد دیگر کتوں کو صحیح سلامت اپنے ٹینکوں تک پہنچنے دیتے ۔۔۔ اب کی بار وہ دور سے ہی کتوں کو دیکھ کر ٹینک کی مشین گنز کی مدد سے انہیں بہت دور ہی شوٹ کردیتے تھے۔

اختتام :1942 میں اس پراجیکٹ کو ختم کردیا گیا۔ہاں 2005 میں عراق جنگ کے دوران ال۔۔۔قا۔۔۔عدہ نے ایک کتے کو اسی طرح بم لگا کر امریکی فوج پر حملہ کرنے کی کوشش کی تھی لیکن بم وقت سے پہلے پھٹ گیا۔شیئر کرنا مت بھولیے۔۔۔۔

Add Comment

Click here to post a comment