Home » تامل ٹائیگرز۔۔۔۔سری لنکن خانہ جنگی کی تاریخ!
معلومات

تامل ٹائیگرز۔۔۔۔سری لنکن خانہ جنگی کی تاریخ!

سری لنکا میں بھارتی امن فوج کی آمد :
جولائی 1987 میں ہوئے سری لنکا-بھارت معاہدے کے تحت جلد ہی بھارتی امن فوج Indian peace keeping forces کی سری لنکا میں آمد کا آغاز ہوگیا۔۔۔اپنے عروج کے دنوں میں سری لنکا میں بھارتی امن فوج کے 1 لاکھ اہلکار تعینات رہے۔
آئندہ چند ماہ میں بھارت کو اندازہ ہو جانے والا تھا کہ سری لنکا میں امن فوج بھیج کر اس نے ایک بھیانک غلطی کا ارتکاب کیا ہے۔
۔۔۔
بھارت-تامل ٹائیگرز اختلافات کا آغاز :
بھارت-سری لنکا معاہدے کے فوراً بعد تامل ٹائیگرز اور بھارت کے درمیان اختلافات پیدا ہونا شروع ہوگئے جس کی وجوہات درج ذیل تھیں۔۔۔
1- اس معاہدے میں سری لنکن و انڈین حکومت تو شامل تھیں مگر اس میں تامل ٹائیگرز کو شامل نہیں کیا گیا تھا۔
2- تامل ٹائیگرز، آزاد ریاست تامل ایلام کے قیام کے لیے سرگرمِ عمل تھے لیکن سری لنکا میں امن فوج کی تعیناتی کے بعد ان کی پیش قدمی رک گئی۔
3- بھارت تامل ٹائیگرز کو اپنی پراکسی کے طور پر ڈیل کررہا تھا جبکہ تامل ٹائیگرز کا موقف کچھ یوں تھا کہ “ہم آپ کے اتحادی ضرور ہیں مگر آپ کے غلام نہیں کہ جب آپ کہیں ہم جنگ شروع کردیں اور جب کہیں جنگ بندی کر دیں”.
4- اس وقت سری لنکا میں تقریباً 20 کے قریب تامل علیحدگی پسند گروپس سرگرم تھے ۔۔۔ جن میں سب سے طاقتور ،مستحکم اور مقبول LTTE تھا ۔ دیگر سبھی گروپس نے اپنے ہتھیار ترک کردینے پر آمادگی ظاہر کردی لیکن اپنی فتوحات کے نشے میں چُور تامل ٹائیگرز نے ہتھیار ترک کرنے سے انکار کردیا جبکہ بھارت پہلے ہی سری لنکا کو اس بات کی ضمانت دے چکا تھا۔۔۔ چنانچہ ان کے درمیان اختلافات کا آغاز ہوگیا۔
۔۔۔۔
جافنا یونیورسٹی کا گھیراو :
تامل ٹائیگرز کو کئی مرتبہ ہتھیار ترک کردینے کے انتباہ کے باوجود جب انہوں نے اس سے احتراز برتے رکھا تواکتوبر 1987 میں بھارتی امن فوج نے بذات خود جافنا کا کنٹرول حاصل کرلینے کا فیصلہ کیا اور اسے “آپریشن پاون” کا نام دیا گیا ۔
11 اکتوبر 1987 کو بھارتی فضائیہ نے 4 MI8 ہیلی کاپٹروں کے ذریعے 150 کمانڈوز کو جافنا یونیورسٹی میں اتارنے کا آغاز کیا لیکن ٹائیگرز کو پہلے ہی اس آپریشن کی بھنک لگ چکی تھی اور وہ راکٹ لانچرز ، مشین گنز کے ساتھ گھات میں بیٹھے تھے ۔
ہیلی کاپٹرز نے ابھی بھارتی کمانڈوز کو رسی کی مدد سے اتارنا شروع ہی کیا تھا کہ ٹائیگرز نے ان کی سمت مشین گنوں اور راکٹ لانچرز کا اندھادھند فائر کھول دیا ۔
36 بھارتی کمانڈوز موقعے پر مارے گئے ، 2 ہیلی کاپٹر ڈیمج ہوگئے جبکہ ٹائیگرز جاتے ہوئے ایک بھارتی فوجی کو گرفتار کر کے ساتھ لے گئے۔
۔۔۔۔۔۔۔
آپریشن پاون Operation Pawan :
تامل ٹائیگرز کی طرف سے بھارتی کمانڈوز کے قتل کے بعد غصے میں ابلتی بھارتی افواج نے جافنا میں ٹائیگرز کے خلاف ایک فل سکیل ملٹری آپریشن کا آغاز کردیا ۔
اس آپریشن میں امن فوج کے 50 ہزار اہلکار ، جنگی طیاروں ، ہیلی کاپٹرز، ٹینکوں ، توپخانے اور بحریہ سمیت حصہ لے رہے تھے ۔
۔
سانحہِ جافنا ہسپتال :
21 اکتوبر 1987 کو امن فوج کے اہلکاروں نے جافنا کے “جافنا ٹیچنگ ہاسپٹل ” میں داخل ہوئے۔۔۔۔ گرینیڈ اچھالے ، کمروں اور وارڈ میں جا کر اندھادھند فائر کھول دیا جس میں 21 ڈاکٹروں و نرسوں سمیت 70 تامل سویلینز مارے گئے اور 50 سے زائد زخمی ہوگئے۔
۔
اس آپریشن کے دوران جافنا میں امن فوج کے ہاتھوں ریپ کے کم از کم 100 واقعات بھی ریکارڈ کیے گئے۔
۔
آپریشن پاون کا اختتام :
آپریشن پاون 25 اکتوبر تک جاری رہا ۔ اس دوران امن فوج نے تامل ٹائیگرز کی بیسیویں تنصیبات کو تباہ یا بازیاب ، سپلائی لائنز کو منقطع اور اسلحہ و ایمونیشن کو تحویل میں لے لیا ۔
اس آپریشن میں 600 ٹائیگرز مارے گئے اور 200 کو امن فوج نے حراست میں لے لیا۔
دوسری طرف اس آپریشن میں امن فوج کے 214 اہلکار بھی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے اور 52 زخمی ہوئے۔
اس آپریشن کے بعد جافنا میں تامل ٹائیگرز کا زور ٹوٹ گیا۔
۔۔۔۔
آپریشن ترشول:
اپریل 1988 میں امن فوج نے جافنا کے بعد منار ، واوونیا اور Mullaitivu میں بھی ٹائیگرز کے خلاف ایک عسکری مہم کا آغاز کیا جس سے ان علاقوں میں بھی تامل ٹائیگرز کی طاقت ٹوٹ گئی۔
اس آپریشن میں 15,000 امن فوج اہلکاروں نے حصہ لیا۔ جھڑپوں کے دوران طرفین کے سینکڑوں اہلکار مارے گئے۔
۔۔۔۔
آپریشن چیک میٹ :
جون 1988 کو امن فوج نے Vadamarachchi کے مقام پر تامل ٹائیگرز کے خلاف ایک نیا آپریشن شروع کیا جس میں طرفین کے سینکڑوں افراد ہلاک و زخمی ہوئے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1988 میں تامل ٹائیگرز کی کارروائیاں:
گزشتہ برسوں کی طرح پورے 1988 میں بھی تامل ٹائیگرز نے سویلینز ، سری لنکن سکیورٹی فورسز اور اب ساتھ ہی بھارتی امن فوج پر بھی حملوں کا سلسلہ جاری رکھا ۔
مجموعی طور پر 1988 میں تامل ٹائیگرز نے جتنے سویلینز کا خون کیا۔۔۔
سنہالی : 157
تامل : 15
مسلم : 20+
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1989 میں تامل ٹائیگرز کی کارروائیاں:
گزشتہ برسوں کی طرح پورے 1989 میں بھی تامل ٹائیگرز نے سویلینز ، سری لنکن سکیورٹی فورسز اور اب ساتھ ہی بھارتی امن فوج پر بھی حملوں کا سلسلہ جاری رکھا ۔
مجموعی طور پر 1989 میں تامل ٹائیگرز نے جتنے سویلینز کا خون کیا۔۔۔
سنہالی : 109
تامل : نامعلوم
مسلم : نامعلوم
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سری لنکا میں بھارتی امن فوج کے مشن کا اختتام :
29 جولائی 1987 سے سری لنکا میں شروع ہونے والا امن فوج کا مشن اور تعیناتی 1990 تک جاری رہی۔
اس عرصے کے دوران تامل ٹائیگرز کے حملوں میں 1138 بھارتی فوجی مارے گئے۔
2762 امن فوج اہلکار زخمی بھی ہوئے۔
جبکہ امن فوج کے ہاتھوں مارے جانے والے تامل ٹائیگرز اور تامل سویلینز کی تعداد کا تخمینہ 5 سے 7 ہزار کے درمیان ہے۔
1990 کے اوائل سے سری لنکن حکومت اور تامل ٹائیگرز کے درمیان براہ راست مذاکرات کا آغاز ہوگیا ۔
اور اس طرح 24 مارچ 1990 تک بھارتی امن فوج نے سری لنکا سے انخلاء کر لیا ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سانحہِ شرقی صوبہ اور ٹائیگرز کے بھیانک جنگی جرائم :
اس جنگ میں اب تک کا بدترین سانحہ 11 جون 1990 کو سری لنکا کے مشرقی صوبے میں برپا ہوا جب سینکڑوں مسلح ٹائیگرز نے چند اہم پولیس سٹیشنز و دیگر پولیس تنصیبات کا گھیراؤ کر لیا۔
انہوں نے پولیس کو وارننگ کے ساتھ پیشکش کی کہ اگر وہ ہتھیار ڈال دیں تو انہیں زندہ بچ نکلنے کا راستہ دے دیا جائے گا۔
چنانچہ سینکڑوں پولیس اہلکاروں اور افسروں نے محفوظ واپسی کی ضمانت کے عوض اپنے ہتھیار ، رقم اور دیگر قیمتی سامان ٹائیگرز کے حوالے کر دیا ۔
اس کے بعد ٹائیگرز نے تامل اور سنہالی پولیس اہلکاروں کو شناخت کے بعد الگ گیا ۔
انہوں نے سبھی سنہالی اہلکاروں کے ہاتھ پشت پر باندھ دیے اور سب کو گولی مار دی۔
اس بھیانک درندگی میں سری لنکن پولیس کے 774 اہلکار جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔
125 پولیس اہلکار فرار ہونے میں کامیاب ہو پائے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سانحہِ کٹانقدی مسجد :
3 اگست 1990 کو تامل ٹائیگرز کے ایک گروپ نے Kattankudy کی جامع مسجد سمیت 4 مساجد پر اس وقت حملہ کردیا جب وہاں عشاء کی نماز جاری تھی ۔ اس حملے میں 147 نمازی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے اور متعدد زخمی ہوئے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
سانحہِ اراور :
12 اگست 1990 کو تامل جنگجوؤں نے مسلم آبادی کے حامل Eravur کے ایک نزدیکی گاؤں ہر حملہ کردیا اور گھر گھر جا کر کھلی درندگی کی اس مہم میں 121 مسلم باشندوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔
۔۔۔۔۔۔
اجتماعی بیدخلی 1900:
اکتوبر 1990 میں تامل ٹائیگرز نے جافنا ، منار اور Mullaittivu میں آباد مسلمانوں کی 90,000 آبادی کو حکم دیا کہ “آپ سب 48 گھنٹوں کے اندر اندر یہ تینوں ضلعے چھوڑ کر اندرونِ سری لنکا کی طرف ہجرت کر جائیں بصورت دیگر ہم ذمہ دار نہ ہوں گے۔۔۔۔ ہر خاندان کو صرف 150 سری لنکن روپیہ یا اس کے مساوی سامان لیجانے کی اجازت ہے اپنا دیگر تمام سامان اور املاک یہیں چھوڑ کر جائیں”.
۔۔۔چنانچہ تینوں ضلعوں کی مکمل 90 ہزار آبادی کو بزورِ بازو ان کے علاقوں گھروں اور زمینوں سے بیدخل کردیا گیا ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1990 میں تامل ٹائیگرز کی کارروائیاں :
مجموعی طور پر 1990 میں تامل ٹائیگرز کے ہاتھوں جان سے ہاتھ دھونے والی سری لنکن شہریوں کی تعداد۔۔۔۔
سنہالی : 1068
تامل : 10
مسلم : 380
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
راجیو گاندھی کا قتل :
بھارتی امن افواج سری لنکا میں اپنے ہی پیدا کیے بارود کے ڈھیر میں آگ تو لگا آئی تھی مگر اس وقت قطعاً انہیں یہ اندازہ نہیں تھا کہ یہ آگ بہت جلد بھارت بھی پہنچ سکتی ہے۔
21 مئی 1991 بھارتی وزیر اعظم “راجیو گاندھی” تامل ناڈو کے دورے پر تھے جب LTTE کی ایک خاتون خودکش حملہ آور Thenmozhi Rajaratnam نے ان کے قافلے کے نزدیک خود کو دھماکے سے اڑا لیا۔۔۔۔ اس دھماکے میں راجیو گاندھی اور کانگریس لیڈروں سمیت 19 افراد ہلاک اور 40 سے زائد زخمی ہوگئے ۔
یہ حملہ امن فوج کے ہاتھوں 5 ہزار سے زائد ٹائیگرز کے قتل کا بدلہ تھا ۔
اس حملے نے پورے بھارت کو لرزا کے رکھ دیا۔۔۔وزیر اعظم کا قتل کوئی معمولی بات نہ تھی ۔
لیکن۔۔۔
اب بھارت دوبارہ اپنی فوج سری لنکا نہیں بھیجنا چاہ رہا تھا ۔
۔
اس سے قبل 2 مارچ کو کولمبو میں ٹائیگرز کے کار بم حملے میں سری لنکا کے ڈپٹی وزیر دفاع “رانجن وجراتنے” بھی جاں بحق ہوگئے تھے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1991 میں تامل ٹائیگرز کی کارروائیاں:
مجموعی طور پر 1991 میں تامل ٹائیگرز کے ہاتھوں جان سے ہاتھ دھونے والی سری لنکن شہریوں کی تعداد۔۔۔۔
سنہالی : ہزاروں ۔
تامل : نامعلوم
مسلم : 100+
۔۔۔۔۔۔
پاکستانی 🇵🇰 معاونت کا آغاز :
سری لنکا کا لیے پاکستانی عسکری معاونت کا آغاز 1990 کی دہائی کے آغاز میں ہی ہوگیا تھا ۔
مجھے اس بات کا کوئی صحیح اندازہ نہیں مل پایا ہے کہ سری لنکا نے پاکستان سے مدد کی درخواست کی تھی یا پھر پاکستان نے رضاکارانہ طور پر سری لنکا کو معاونت کی پیشکش کی ۔
90 کی دہائی کے آغاز سے ہی سری لنکن حکومت و افواج کے لیے پاکستان کی معاونت 5 شعبہ جات میں شروع ہوگئی ۔
1- پاکستان نے اپنی افواج کے کچھ سینئیر افسران کو اس جنگ کی نگرانی اور سٹریٹجک معاونت کے لیے کولمبو میں تعینات کردیا۔
2- پاکستانی SSG کے 500 سے 1000 کے درمیان کمانڈوز کو سری لنکا روانہ کردیا گیا ۔
3- پاکستانی خفیہ ایجنسی ISI نے سری لنکن حکومت اور افواج کے ساتھ تامل ٹائیگرز اور دیگر تامل جنگجو تنظیموں سے متعلق انٹلیجنس رپورٹس اور خفیہ معلومات کی شیئرنگ کا آغاز کردیا۔
4- اب تک کی جنگ میں سری لنکا کو اسلحے کی مد میں انتہائی بھاری نقصان اٹھانا پڑ چکا تھا ۔۔۔ پاکستان نے سری لنکا کو توپخانے، مارٹرز ، مشین گنز ، ملٹی راکٹ لانچر سسٹمز اور دیگر اسلحے و ایمونیشن کی بڑے پیمانے پر سپلائی کا آغاز کردیا ۔
5- سری لنکن فوج کے کیڈٹس اور افسران کی پاکستان میں PMA کاکول کے مقام پر تربیت کا آغاز ہوا جوکہ اب تک جاری ہے۔
مجموعی طور پر سری لنکا میں تعینات کیے جانے والے پاکستانی سکیورٹی اہلکاروں اور ایڈوائزر کی تعداد 5000 کے قریب رہی۔
آگے چل کر SSG نے نہ صرف جافنا سمیت کئی اہم اور سٹریٹجک اہمیت کے حامل علاقوں میں سری لنکن ملٹری کے آپریشنز کو لیڈ یا پھر اسسٹ کیا ۔۔۔۔۔ بلکہ۔۔۔ پاکستانی انٹیلی جنس نے 2009 تک سری لنکا کو تامل ٹائیگرز کے بےشمار اہم لیڈرز اور کمانڈروں کی لوکیشنز سے آگاہ کرتے ہوئے ان پر سری لنکن فورسز کے فضائی حملوں یا ٹارگٹڈڈ آپریشنز کا راستہ رواں کیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اسرائیلی معاونت کا آغاز 🇮🇱 :
پاکستان واحد ملک نہ تھا کہ جس نے تامل ٹائیگرز کو فنا کرنے میں سری لنکا کی معاونت کی .
1990 کی دہائی میں ہی اسرائیل کا بھی سری لنکا کے ساتھ عسکری تعاون میں اضافہ ہوا۔
اسرائیل نے تامل ٹائیگرز کے خلاف سری لنکن فورسز کو ناصرف ٹریننگ فراہم کی بلکہ۔۔۔ انتہائی حساس اور اہم اسلحہ جیسے
کفیر Kfir جنگی طیارے۔
سپر ڈوورا جنگی پیٹرولنگ بَوٹس۔
سار-4 میزائل بَوٹس ۔
اور گبرائل میزائلز۔
کی فراہمی کی جس نے تامل ٹائیگرز کی طاقت کو کچلنے میں انتہائی اہم کردار ادا کیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
جنگِ ایلام دوم :
1990 سے ہی سری لنکن افواج اور تامل ٹائیگرز کے درمیان جھڑپوں کا دوبارہ آغاز ہوگیا تھا ۔
10 جولائی 1991 میں “معرکہِ ہاتھی پاس” Battle of Elephant pass کے آغاز کے ساتھ ہی سری لنکا و تامل ٹائیگرز کے درمیان دوسری فل سکیل جنگ شروع ہوگئی۔
( جاری ہے۔۔۔۔)

Add Comment

Click here to post a comment