Home » تہذیب نو کے منہ پہ وہ تھپڑ رسید کر، جو اس حرام زادی کا حلیہ بگاڑ دے
بلاگ

تہذیب نو کے منہ پہ وہ تھپڑ رسید کر، جو اس حرام زادی کا حلیہ بگاڑ دے

دور حاضر کے اکثر ملحدین جو ڈاکنز جیسے جہلاء سے متاثر ہیں، وہ خدا کو اسلیے نہیں مانتے کیوں کہ اسکا کوئی سائنسی ثبوت نہیں. حالانکہ تھیالوجی، یعنی خدا کی ذات و صفات کے بارے میں علوم، کا تعلق فلسفے سے ہے نہ کہ سائنس سے…البتہ یہی ملحدین بائیولوجی جیسی “ہارڈ سائنس” کے عین مخالف نظریات، مثلاً ہم جنسیت اور ٹرانز جینڈر ازم پر اندھا اعتقاد رکھتے ہیں. بلکہ انکا دعویٰ ہے کہ جنسی میلان کا تعلق جینز سے ہے. باوجود اس کے کہ آج تک کوئی ایسا “گے جین” دریافت نہیں ہوا، پھر بھی انکا ماننا ہے کہ یہ میلان بہت سے جینز کے مجموعی اثر پر منحصر ہوتا ہے. فرض کر لیتے ہیں کہ انکا دعویٰ درست ہے…

اب دیکھیں کہ نظریہ ارتقاء کا بنیادی میکنزم ہے نیچرل سلیکشن. یعنی جو جاندار ماحول سے زیادہ مطابقت رکھتے ہوں، وہ اپنے جینز زیادہ تعداد میں اگلی نسل میں منتقل کرتے ہیں اور یوں ہزاروں نسلوں کے بعد صرف انہی خصوصیات والے ممبرز باقی رہ جاتے ہیں جبکہ اسی سپیشیز کے دیگر ارکان معدوم ہو جاتے ہیں…
اب ہم جنس پرست، جنکی اگلی نسل کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا وہ اپنے جینز آگے کیسے منتقل کرینگے؟ بالفرض جدید دور میں وہ مصنوعی طریقے سے اولاد پیدا کر بھی لیں تو اول تو یہ طریقہ اتنا عام، سہل اور سستا نہیں کہ ہر کوئی اپنا سکے. دوسرا یہ کہ اسکے باوجود اس طریقے سے پیدا ہونے والے بچے تعداد میں اتنے کم ہونگے کہ وہ ارتقاء کے نکتہ نظر سے کوئی خاطر خواہ اثر نہیں ڈال پائیں گے… بالخصوص اس صورت میں جبکہ یہ ضروری بھی نہیں کہ ہم جنس پرست ماں یا باپ نے واقعتاً اپنے جینز آگے منتقل کر دئیے ہوں.بالکل یہی بات ٹرانز جینڈرز کے بارے میں بھی کہی جا سکتی ہے کیونکہ جو اپنی پیدائشی جنس سے بغاوت کر کے جنس تبدیل کروا لے وہ جنسی عمل کے قابل تو ہو سکتا ہے لیکن عموماً تولید کے قابل نہیں رہتا.

سائنس دانوں نے اس تفاوت کی توجیہ کی کوشش کی ہے اور مختلف تھیوریز پیش کی ہیں لیکن سچی بات یہی ہے کہ وہ سب نہایت مضحکہ خیز ہیں. مثلاً ڈاکنز کے مطابق ایک تھیوری یہ ہے کہ قدیم دور میں جب دیگر مرد شکار کیلئے جاتے ہوں گے تو چھوئی موئی قسم کے ہم جنس پرست “تائے، چاچے” اپنے بیوی بچوں کی حفاظت کیلئے چھوڑ جاتے ہوں گے. اور پیچھے سے کبھی کبھار یہ دوغلے “کام” دکھا جاتے ہوں گے… (ڈی ایف ایم ایسی بیکار دلیل کا). دوسری تھیوری موصوف نے یہ پیش کی کہ ممکن ہے قدیم زمانے میں جب ہم جنسیت کو برا سمجھا جاتا تھا تو سازگار حالات نہ ہونے کی وجہ سے یہ جینز کسی اور طریقے سے اپنا اظہار کرتے ہوں (مثلاً شکار ڈھونڈنے کی بہتر صلاحیت… ہاسا) اور آج کے دور میں جب انہیں کھل کھیلنے کا موقعہ مل گیا ہے تو یہ اپنی اصلی صورت میں سامنے آ گئے ہیں.

ملاحظہ فرمائیں قارئین، کہ اپنے آپ کو ارسطو کا باپ سمجھنے والے کے دلائل کس قدر بودے، بے سر و پا اور کسی بھی ثبوت سے عاری ہیں… اس سے زیادہ عقل تو اسکا انٹرویو کرنے والے میں تھی جس نے اشارہ دیا کہ چونکہ ماضی میں انہیں برا سمجھا جاتا تھا اور انہیں اپنے جنسی میلانات کو چھپا کر رکھنا پڑتا تھا اورخواتین سے شادیاں بھی کرنا پڑتی تھیں… تو یہ ایک وجہ ہو سکتی ہے انکے جینز آگے منتقل ہونے کی. اس بات میں پھر بھی کچھ وزن ہے لیکن بات پھر وہی ہے کہ یہ تعداد اتنی زیادہ نہیں ہو سکتی کہ ارتقائی پیمانے پر کوئی قابل ذکر تبدیلی لا سکے.

خیر اب چونکہ ہم جنس پرستی اور ٹرانز جینڈر ازم کی “بیماریاں” حقیقتاً دنیا میں موجود ہیں تو اسکے دو ہی مطلب ہو سکتے ہیں. یا تو نظریہ ارتقاء غلط ہے یا پھر ان “رجحانات” کا جینز سے کوئی تعلق نہیں. یہ محض دماغ کے خناس ہیں جو متاثر فرد کو یوں محسوس ہوتے ہیں کہ گویا پیدائشی یا فطری ہوں، لیکن حقیقتاً معاشرتی اور ماحولیاتی اثرات کی وجہ سے پیدا ہوتے ہیں. اور یہی دوسرا امکان زیادہ قرین قیاس ہے.یہ بات اگر کسی ہم جنس پرست کے سامنے کی جائے کہ یہ رجحان “فطری” نہیں بلکہ “اختیاری” ہے تو اسے شدید مرچیں لگتی ہیں… کیونکہ اختیاری علت قبول کرنے سے لامحالہ یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس نے “صاف جگہ” کو چھوڑ کر، فضلے والی “گندی جگہ” کا انتخاب کیوں کیا… اور اسکا اسکے پاس کوئی جواب نہیں ہوتا… حالانکہ دلچسپ بات یہ ہے کہ بہت سے ہم جنس پرست اپنے آپ کو اختیاری طور پر “غلاظت پسند” مانتے ہیں اور اپنے دوسرے “پیٹی بھائیوں” کیلئے مستقل دردسر بنے ہوئے ہیں…

تو سوال یہ ہے کہ اگر کوئی شخص یہ دعویٰ کرتا ہے کہ میں فطری طور پر خدا پرست ہوں تو اسکے اس دعوے کو رد کرنے کی کیا وجہ ہے؟ حالانکہ یہ بات چھوٹے بچوں پر تحقیق سے ثابت بھی کی جا چکی ہے کہ خدا پر ایمان فطرت میں داخل ہے…. وجہ؟ محض نفس پرستی کے سوا کچھ بھی نہیں… نہ سائنس، نہ فلسفہ، نہ دلیل… صرف اور صرف دھونس، دھاندلی اور پراپگنڈہ…سو اس تقابل سے ہمارا مقصد ملحدین کے دہرے معیار یعنی منافقت کو سامنے لانا تھا کہ کس طرح وہ غیر مرئی “ایمان” کو تو سائنس کی بنیاد پر رد کر دیتے ہیں، جبکہ اتنے ہی غیر مرئی جنسی رجحان کو رد تو دور کی بات، سائنس سے زبردستی دلائل گھڑ کر دیتے ہیں…. پر وہ کیا ہے کہ اللہ نے فرما دیا کہ جب وہ حق کا ہتھوڑا باطل کے سر پر برساتا ہے تو اسکا بھڑکس نکال کے رکھ دیتا ہے…. اور یہ کہ عقل والوں کیلئے اس میں بڑی نشانیاں ہیں…. لیکن صرف عقل والوں کیلئے، عقل کا محض دعویٰ کرنے والے احمقوں کیلئے نہیں…!!!(ڈاکٹر رضوان اسد خان)(شعری عنوان از: مولانا ظفر علی خان)

Add Comment

Click here to post a comment