Home » سید مہدی بخاری
بلاگ

سید مہدی بخاری

بدقسمتی سے ہم وہ ملک ہیں جہاں صلاحیت اور قابلیت کی کوئی قدر نہیں ہے اور اگر خوش قسمتی سے قدر ہو بھی گئی تو مرنے کے بعد ہوگی زندگی میں تو کم ازکم بالکل بھی نہیں ہے، ویسے بھی مزاجاً ہم “مردہ پرست” لوگ ہیں۔آپ گل جی اور صادقین کا حال ان کی زندگیوں میں دیکھ لیتے تو آپ کو میری بات سمجھ آجاتی۔ جہانگیر خان وہ بیڈمنٹن کھلاڑی ہے جس کا ریکارڈ آج بھی ناقابل شکست ہی ہے مگر اس ملک میں ان کوئی پوچھنے والا نہیں ہے، پہلے تو صبر تھا کہ حکمرانوں کو کھیلوں سے کیا دلچسپی؟ مگر اب تو حکمران خود کھلاڑی ہے۔ “دھواں” ڈرامے کا پروڈیوسر، ڈائریکٹر اور ہیرو عاشر عظیم جو ایک سی۔ ایس۔ ایس آفیسر بھی تھا اور کسٹم میں جدید بنیادوں پر تبدیلیاں لانا چاہتا تھا اس کا حشر ہم نے وہ کیا ہے کہ آج وہ کینیڈا میں ٹرک چلا کر عزت کی زندگی گزارنے پر مجبور ہے۔

آپ سب کو ایک طرف کردیں، صرف اپنے ایٹمی سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کا ہی حال دیکھ لیں ہندوستان نے اپنے ایٹمی سائنسدان کو اعزازی طور پر صدر بنا دیا اور ہم نے اپنے ایٹمی سائنسدان کو گالی بنا کر رکھ دیا کہ وہ ایک انٹرویو میں کہتے ہیں کہ؛ “ایک ہی کام کا صلہ میں اس ملک میں یہ بھگت رہا ہوں مزید اس قوم پر کوئی احسان نہیں کرنا چاہتا”۔

بہر حال کچھ ایسا ہی حال پاکستان کے نامور سیاحتی فوٹوگرافر سیاح اور بلاگر جناب سید مہدی بخاری کا بھی ہے۔ میں تقریبا 2015ً سے ان کو فالو کر رہا ہوں۔ دلچسپی یوں بھی پیدا ہوئی کہ وہ خود بھی نیٹ ورک انجینئر ہیں اور میں بھی اس وقت نیا نیا نیٹ ورکنگ کی طرف ہی جا رہا تھا۔ دوسری دلچسپی یہ پیدا ہوئی کے میں بھی لکھنے لکھانے کا شوقین تھا اور وہ بھی لکھنے میں کمال مہارت رکھتے ہیں اور” ڈان اخبار” کے مستقل لکھاری بھی ہیں، تیسری دلچسپی کا محور سفر اور سیاحت ہیں بہت سی مجبوریوں کی وجہ سے سفر تو شاید میں بہت زیادہ نہیں کر سکا لیکن شوق کے ہاتھوں مجبور ہوکر کئی دفعہ پاکستان کے مختلف سیاحتی علاقوں کا سفر ضرور کیا۔

مہدی بخاری صاحب کا کمال ان کی ویڈیو گرافی اور فوٹوگرافی ہے جس کی وجہ سے انہیں نیشنل جیوگرافک نے بھی اعزاز دیا اور اقوام متحدہ نے تو بطورِ نمائندہ پاکستان میں تعینات ہی کردیا۔ان کی فوٹوگرافی کے ہاتھوں بے بس ہو کر بالآخر 2019 میں، میں نے اسکردو کا سفر کیا اور وقت کی کمی کے باعث دل کی حسرتوں کو واپس لئیے چلا آیا مگر آنے کے بعد سے ایک دفعہ پھر اور شدت سے ان کو فیس بک پر فالو کرنے لگا، ان کے طنز و مزاح سے بھرپور بلاگز بھی میرے لیے خاصی دلچسپی کا باعث ہیں۔ ہمارے درمیان ایک مشترک بات یہ بھی ہے کہ ان کا سسرال کراچی سے ہے اور ہم بھی کراچی کے باسی ہیں۔21 ستمبر کو مہدی بخاری صاحب کسی دورے پر کراچی آئے تھے۔ آنے کے بعد انہوں نے فیس بک پر اسٹیٹس لگایا کہ 23 ستمبر کی رات شاید کچھ وقت نکل آئے تو میں کسی “ٹھیٹھ” کرا چی والے کے ساتھ کھانا کھاؤں گا یہ میرے لئے کسی موقع سے کم نہیں تھا اس لئے میں نے انہیں فورا میسنجر پر میسج کیا۔ جس پر انہوں نے بڑی محبت سے جواب کے ساتھ اپنا واٹس ایپ نمبر بھی مجھے دے دیا اور یہ بھی کہا کہ میں 23 کی صبح صحیح صورتحال آپ کو بتا پاؤں گا۔

23 تاریخ کی صبح ان سے دوبارہ بات ہوئی تو اس دن بھی شدید مصروف تھے اس لیے کھانا اور ملاقات اگلی دفعہ ٹل گیا مگر میری خوش قسمتی تھی کہ انہوں نے اپنا واٹس ایپ نمبر بھی شیئر کیا اور بات کرنے کا موقع بھی دیا۔ مستنصر حسین تارڑ صاحب کے بعد اگر میں نے کسی کو سیاحت اور سفر کے حوالے سے فالو کیا ہے تو وہ سید مہدی بخاری ہیں۔ سید مہدی بخاری صاحب گھومنے پھرنے کے علاوہ سیاحتی فوٹوگرافر اورویڈیو گرافر بھی ہیں جو نئی نسل کے لیے اضافی دلچسپی کا باعث ہے۔
پوری دنیا میں پاکستان کو اور پاکستان کے شمالی علاقہ جات کو دنیا بھر کے لئے دلچسپی کا مرکز و محور بنانے میں سید مہدی بخاری کا بہت بڑا ہاتھ ہے۔ اگرچہ حکومت تو خود ان کی تصاویر بغیر انہیں کریڈٹ دیئے چوری کر رہی ہے اور چوری کرنے والوں کی حوصلہ افزائی بھی کر رہی ہے مگر مجھے یقین ہے کہ تخلیقی صلاحیتوں کے حامل محنتی لوگوں کو کہیں نہ کہیں ان کا صلہ ضرور مل جاتا ہے۔اگر آپ بھی سیاحت میں، سفر میں، ویڈیو اور فوٹو گرافی میں دلچسپی رکھتے ہیں تو سید مہدی بخاری کو ضرور فالو کیجیے یقینا آپ کو بہت کچھ نیا دیکھنے اور سیکھنے کو ملے گا۔

Add Comment

Click here to post a comment