Home » رباب ….سنگلاخ پہاڑوں کے درمیان بہتے جھرنوں کا جلترنگ۔
بلاگ معلومات

رباب ….سنگلاخ پہاڑوں کے درمیان بہتے جھرنوں کا جلترنگ۔

کبھی دوستوں کے ساتھ چترال یا سوات کی سرسبز پہاڑیوں کے درمیان بہتے دریا کے کنارے یا آبشار کے نشیب میں لکڑی اور کوئلے کی آگ پر بنی تازہ دنبہ کڑاھی اور انگاروں پر سینکے ہوئے تکے پیٹ بھر کھانے کے بعد شکم پُری کی مستی سے سرشار پتھروں سے ٹیک لگائے گرما گرم سبز چائے کے فنجان سے چسکیاں لیتے ہوئے کسی رباب نواز سے کوئ پشتو کلاسک دھن پر جلترنگ کے سُر بکھیرتے ہوئے سُنئے۔ آپ کو ایسا محسوس ہوگا جیسے کہ آپ اس رباب کی دُھن اور گول چکنے پتھروں کے درمیان بہتے پانی کی آواز کے تال میل کے ساتھ ماحول سے ایسے ہم آہنگ ہوگئے ہیں جیسے آس پاس کھڑے چنار اور صنوبر کے درخت۔ آپ کو اپنا آپ اس ماحول سے اجنبی نہیں لگے گا۔ یہی رباب کی موسیقی کی خاصیت ہے کہ یہ اپنے تاروں کے ارتعاش سے ایسے سُر بکھیرتا ہے جو آپ کی سماعتوں سے گزر کر آپ کے جسم کو بھی ایک ہم آہنگ سُر میں ڈھال دیتا ہے۔ پھر آپ آپ نہیں رہتے بلکہ رباب کا سُر بن جاتے ہیں۔یہ سُر زندگی بھر آپ کی یادوں کے آنگن میں موسیقی بکھیرتا رہتا ہے۔ جوان جذبوں اور ولولوں سے بھر پور ساز۔ دل کو یاسیت سے نکال کر نئی قوت بھر دیتا ھے۔

ہم جب بھی پاکستان کے شمالی علاقہ جات سے متعلق کوئ دستاویزی فلم (Documentary) دیکھتے ہیں تو اکثر پس منظر میں ایک مخصوص ساز کے بجنے کی آواز سنائ دیتی ہے۔ یہ ساز رباب کہلاتا ہے۔ اس کی آواز میں سنگلاخ پہاڑی پتھروں کے درمیان بلندی سے گرتے ہوئے جھرنے یا آبشار جیسی ہوتی ہے۔ اس کو سنتے ہی جو سب سے پہلا خیال آتا ہے وہ سرسبز و شاداب پہاڑوں کے درمیان بہتے جھرنے اور چشموں کا آتا ہے۔ شاید اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ہمیشہ سے جب بھی شمالی علاقہ جات کی خوبصورتی سے متعلق کوئ بھی ڈاکومینٹری دیکھی تو بیک گراؤنڈ میں یہی ساز بجتا سنائ دیتا ہے تو بہتے جھرنوں اور آبشاروں کے ساتھ اس ساز کی آواز لاشعور میں کچھ اس طرح رچ بس گئ ہے کہ اس کی آواز سنتے ہی پہلا تصور پہاڑی سے بہتے جھرنے کا ہی آتا ہے۔

لیکن ابھی حال ہی میں رباب پر ایک تفصیلی تحریر پڑھنے کا اتفاق ہوا۔ زیادہ تر محققین کا خیال ہے کہ رباب عربی زبان کا لفظ ہے اور اس کی ابتداء عرب ممالک سے ہوئی۔ تاہم بعد میں پشتونوں نے اس ساز کو اپنا لیا۔ بی بی سی کے مطابق پشتو اکیڈمی پشاور یونیورسٹی کے سینئر پروفیسر ڈاکٹر راج ولی شاہ خٹک کہتے ہیں کہ رباب کا لفظ ’روب آب‘ سے نکلا ہے جس کے معنی ہیں پانی کا سرود یا نغمگی۔ان کے مطابق پانی کے بہاؤ سے جو آواز نکلتی ہے وہ رباب سے ملتی جلتی ہے اسی وجہ سے اس ساز کو رباب کا نام دیا گیا۔ شاید یہی وجہ ہے کہ رباب کو مقامی زبان میں سرود بھی کہا جاتا ہے یا ممکن ہے کہ رباب اور سرود میں کوئ معمولی فرق ہو لیکن سننے میں دونوں کی آواز بالکل یکساں ہے۔ کچھ دوسرے محققین کا خیال ہے کہ رباب عربی زبان کا لفظ ہے جو دو الفاظ “ روح” اور “باب” سے مل کر بنا ہے جس کے معنی روح کا دروازہ ہیں۔

رباب سارنگی سے ملتا جلتا ساز ہے لیکن رباب اور سارنگی میں جو بنیادی فرق ہے وہ یہ کہ سارنگی کو بجانے کے لئے وائلن کی طرح گز استعمال ہوتا ہے جبکہ رباب کو گٹار کی طرح مضراب سے بجایا جاتا ہے۔رُباب پشتو موسیقی کا ایک بنیادی اور اہم ترین ترین ساز ہے۔ پشتو زبان کے ہر ادیب اور شاعر نے اپنی تحاریر میں رباب کا ذکر کیا ہے۔ علامہ اقبال نے بھی اس کا ذکر کیا ہے۔مَیں تجھ کو بتاتا ہُوں، تقدیرِ اُمَم کیا ہے ….شمشیر و سناں اوّل، طاؤس و رباب آخر

بعض تاریخ دانوں کا کہنا ہے کہ جنوبی ایشیا میں رباب کی ابتداء افغانستان سے ہوئی۔ یعنی اس آلہ موسیقی پر بھی پشتونوں اور افغانوں کے درمیان روایتی بحث پائ جاتی ہے اور دونوں اس کے اصل حقدار ہونے کے دعویدار ہیں۔ مشہور پشتو گائیک سردار علی ٹکر کے مطابق رباب فارسی زبان کا لفظ ہے اور اس کی ابتداء ایران سے ہوئی۔ان کے مطابق پشتون رباب کو اپنا ساز مانتے ہیں۔ درحقیقت یہ ان کا ساز نہیں ہے بلکہ یہ انہوں نے بعد میں اپنا لیا تھا۔رباب کو پشتو موسیقی میں بلاشبہ ایک فن کی حیثیت حاصل ہے۔ اس کو پشتو موسیقی کا شہنشاہ بھی کہتے ہیں۔ رباب کی تین قسمیں ہوتی ہیں۔ بڑے سائز کا رباب بائیس چھوٹے اور بڑے تاروں پر مشتمل ہوتا ہے جبکہ درمیانے اور چھوٹے سائز کے رباب انیس اور اٹھارہ تاروں پر مشتمل ہوتے ہیں۔

رباب کے اساتذہ کا کہنا ہے کہ رباب سیکھنا ایک نہایت ہی مشکل فن ہے۔ اس کی وجہ اس میں تاروں کی بڑی تعداد ہے۔ رباب کے مقابلے میں گٹار اور ستار میں تین یا پانچ تار ہوتے ہیں اس لیے یہ دونوں آلات سیکھنے میں بھی آسان ہے۔رباب کو بجانے سے قبل اسے سُر میں لانا بہت ضروری ہوتا ہے کیونکہ بغیر سُر کے یہ نہیں بجتا اور جب اس کو اچھے طریقے سے سُر کیا جاتا ہے پھر اس سے سریلی اور تیز آواز نکلتی ہے۔سردار علی ٹکر جو خود رباب جانتے بھی ہیں اور انہوں نے موسیقی کی باقاعدہ تعلیم بھی حاصل کی ہوئی ہے، ان کا کہنا ہے کہ ’رباب کو سُر میں لانا ایک سائینٹیفک عمل ہے۔ اس میں جو چھوٹے تار ہوتے ہیں جس کو پشتو میں ’بچے‘ کہتے ہیں اس کو بڑے تاروں سے جوڑنا پڑتا ہے۔ اس کا بجانا بھی شاید اس لیے مشکل ہے کیونکہ اس کے پردے بنانے پڑتے ہیں۔ اس کے برعکس دیگر آلاتِ موسیقی مثلاً ہارمونیم وغیرہ میں پردے پہلے سے بنے ہوئے ہوتے ہیں‘۔

پروفیسر ڈاکٹر راج ولی شاہ خٹک کا کہنا ہے کہ پشتون موسیقی پسند تو کرتے ہیں لیکن موسیقاروں اور فنکاروں سے نفرت کرتے ہیں۔ رباب واحد آلۂ موسیقی ہے جس کا بجانا پشتون معاشرے میں برا نہیں سمجھا جاتا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ پہلے پشتونوں کے حجروں اور محفلوں میں رباب بڑے شوق سے بجایا جاتا تھا۔ اگرچہ یہ روایت اب کم ہوتی جارہی ہے لیکن آج بھی اگر اس طرح کی محفلیں منعقد کی جائیں تو لوگ اس کو برا نہیں سمجھیں گے۔رباب شہتوت کے درخت کی لکڑی سے تیار ہوتے ہیں۔ یہ عام طور پر افغانستان اور پاکستان کے پشتون آبادی والے علاقوں میں بنتے ہیں۔ان کی قیمتیں مارکیٹ میں پانچ ہزار روپے سے لے کر بائیس ہزار روپے کے درمیان ہیں۔نوٹ: اس مضمون میں بی بی سی میں شائع ہونے والے آرٹیکل کے مندرجات بھی شامل کئے گۓ ہیں۔
ثنااللہ خان احسن

Add Comment

Click here to post a comment