Home » روح کہاں سے آتی ہے اور کہاں چلی جاتی ہے ؟
اسلام

روح کہاں سے آتی ہے اور کہاں چلی جاتی ہے ؟

روح کے اوّل سے آخر تک چار مقامات ہیں اور چاروں کے درمیان ایک پردہ حائل ہے اور چاروں کے درمیان دو طرفہ کی بجائے یک طرفہ یعنی ون وے سفر ہوتا ہے اور یہ سفر بھی بار بار کی بجائے ایک بار ہی ممکن ہے۔ یعنی نہ تو اپنی مرضی سے سفر ممکن ہے اور نہ ہی سفر کرنے کے بعد واپسی ممکن ہے۔ اس بات کو واضح کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔

روح کیا ہے ؟ایک جاندار کی روح سے مراد اس کی وہ قوت حیات ہوتی ہے جو اس کو غیر جاندراوں اور بےجان شدہ جانداروں سے منفرد بناتی ہے اس کے لیے انگریزی میں لفظ Spirit آتا ہے۔ قرآن میں روح کو نفس کہا گیا ہے جس کی انگریزی Soul کی جاتی ہے۔ روح اور نفس کو ایک ہی چیز کہا جاتا ہے جبکہ بعض کے نزدیک یہ مختلف ہیں۔ روح کو کسی بھی سائنسی ذریعے سے دیکھا نہیں جاسکا، دیکھنا تو درکنار کسی بھی انسانی پیمائشی آلے کے ذریعے اس کو محسوس بھی نہیں کیا جاسکا ہے۔

روح کے مقامات۔ عالم ارواح۔ روح پیدا ہو کر عالم ارواح میں رہتی ہے، یہ عالم ارواح کیا ہے ہم نہیں جانتے بس اتنا علم دیا گیا ہے کہ وہاں روحیں اکھٹی ہیں اور جس کا فیصلہ ہوتا ہے اسے اس دنیا میں کسی جسم میں بھیج دیا جاتا ہے، کب آنا ہے اور کس جسم میں آنا ہے روح کو یہ اختیار نہیں ہوتا، اور عالم ارواح میں روح کو یہ بھی پتہ نہیں ہوتا کہ اگلی منزل یعنی “یہ دنیا” کیا ہے، وہاں میری کیفیت کیا ہوگی اور میرے ساتھ کیا ہوگا۔ یوں عالم ارواح سے روح کو اس دنیا کے کسی جسم میں یک طرفہ سفر پر روانہ کردیا جاتا ہے۔

دنیاوی زندگی۔ اس دنیا میں روح کسی جسم میں آ گئی ہے اب ہماری روح صرف اس دنیا بارے ہی جانتی ہے جس عالم ارواح سے آئی ہے اس بارے کچھ نہیں جانتی وہ کہاں ہے اور کیسا تھا اور مرنے کے بعد روح جس اگلے مقام پر جائے گی اس بارے بھی کچھ نہیں پتہ کہ وہ کیا ہے اور کہاں ہے اور وہاں میرے ساتھ کیا سلوک ہوگا۔ یعنی ہماری روح اس دنیا میں اپنے پہلے اور اگلے مقام بارے اندھیرے میں ہے اور یہ جاننے کی کوئی صورت بھی نہیں ہے۔ مرنے کے بعد ہماری روح یک طرفہ سفر پر اگلے مقام یعنی تیسری جگہ روانہ کردی جاتی ہے۔

عالم برزخ۔ مرنے کے بعد روح جہاں جاتی ہے اسے عالم برزخ کہتے ہیں جس کا مطلب پردہ ہے یعنی ہمارے اور اس عالم کے درمیان ایک پردہ ہے اور ہم اس بارے کچھ نہیں جان سکتے۔ یہ مقام ہماری قبر بھی ہوسکتی ہے اور کوئی غیرمعلوم عالم بھی ہوسکتا ہے، چونکہ اس کا نام ہی پردہ ہے اس لیئے ہمارے پاس اس کو جاننا ممکن نہیں ہے۔ نہ ہی یہاں سے واپسی ممکن ہے۔ یہاں روحوں کے دو ٹھکانے ہوتے ہیں۔ نیک زندگی گزارنے والوں کی روحیں علّییّن یعنی اچھی جگہ پر رہتی ہیں جبکہ کیئے ہوئے عمل کے حساب سے اسکے درجات ہوتے ہیں۔ اور برے کام کرنے والوں کی روحیں سجین یعنی برے ٹھکانے پر رکھی جاتی ہیں۔ جب روح عالم برزخ میں جاتی ہے تو ہم اس بارے نہیں جانتے مگر روح اس دنیا میں گزارے ہوئے وقت کو اچھی طرح جانتی ہوتی ہے کہ میں کہاں سے آئی ہوں اور کیا کرتی رہی ہوں۔ اس کے بعد روح اپنے چوتھے اور آخری مقام پر چلی جائے گی۔

جنت اور جہنم۔ عالم ارواح کے بعد یوم قیامت پر سب کو اٹھایا جائے گا پھر یوم جزا کو فیصلے ہوں گے۔ اس سارے عمل کو ہم یوم قیامت کہتے ہیں۔ فیصلے کے بعد روح اپنے اعمال کے مطابق جنت و جہنم میں چلی جائیں گی جنت کا سفر یک طرفہ ہوگا جبکہ جہنم کا سفر دو طرفہ بھی ہوسکتا ہے کہ سزا بھگت کر واپس بلا کر جنت میں یک طرفہ بھیج دیا جائے گا۔

یوں دیکھا جائے تو روح کا اپنی پیدائش سے آخر تک سفر کس مقام پر کیا ہوگا وہ بھی بہت واضح ہے۔ اب رہا یہ سوال کہ کیا کسی زندہ انسان کی کسی فوت شدہ انسان کی روح کے ساتھ اسی دنیا میں ملاقات ہو سکتی ہے، تو اس بارے قرآن بہت واضح حکم لگاتا ہے۔ وَمِنْ وَّرَآئِھِمْ بَرْزَخٌ اِلٰی یَوْمِ یُبْعَثُوْنَ۔(المومنون ۱۰۱) یعنی مرنے والوں اور اس دنیا میں رہنے والوں کے درمیان ایک پردہ حائل ہے جو قیامت تک قائم رہے گا۔اور اللہ نے فرما دیا ہے اَنَّھُمْ لاَ یَرْجَعُوْن۔ یعنی مرنے والے اس دنیا میں دوبارہ نہیں آسکتے۔

بالآخر یہ سوال رہ جاتا ہے کہ آج کل بعض لوگ، پیر فقیر، بزرگ، ساحر وغیرہ روحوں کو بلانے یا ان سے ملاقات کا دعویٰ کرتے ہیں اس کی کیا حقیقت ہے تو اچھی طرح جان لیں یہی وہ ہتھیار اور کاروبار ہے جس سے لوگوں کی امید کو منہ مانگی قیمت پر فروخت کیا جاتا ہے۔ جان لیں یہ سب ڈرامہ، جھوٹ اور فراڈ ہے اور علم کشف کے نام پر جو بھی کہتے یا کرتے ہیں وہ عقل کو بیوقوف بناتے ہیں اور چونکہ انسان روح سے ملنے کی توقع کررہا ہوتا ہے تو ان کی باتوں کو عالم تصور میں سچ مان لیتا ہے جبکہ حقیقت میں وہ فرضی ہوتی ہیں۔ جو یہ دعوی کرے اسے کہنا چاہیے مجھے بتاؤ نہیں بلکہ دکھاؤ تو سچ مانوں گا۔

Add Comment

Click here to post a comment