Home » واٹس ایپ پر 3 ماہ پہلے بھیجا گیا میسج اپنے اور دوست کے پاس سے کیسے ڈیلیٹ ہوگا؟جانیں!
معلومات

واٹس ایپ پر 3 ماہ پہلے بھیجا گیا میسج اپنے اور دوست کے پاس سے کیسے ڈیلیٹ ہوگا؟جانیں!

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک ): پیغام رسانی کے لیے استعمال ہونے والی موبائل ایپلیکیشن واٹس ایپ نے ایک اور بڑی تبدیلی پر کام شروع کردیا۔واٹس ایپ دنیا بھر میں اپنے دو ارب صارفین کے لیے آئے روز نت نئے فیچرز متعارف کراتی ہے، جس کا مقصد صارفین کو بہتر اور اچھی سہولت فراہم کرنے کے ساتھ ٹیکنالوجی کی دنیا میں سرفہرست رہنا ہے۔پرائیویسی پالیسی کے بعد واٹس ایپ

کو دنیا بھر سے تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا، جس کے بعد کروڑوں صارفین نے متبادل کے طور پر ٹیلی گرام، بپ، سنگلز پر اکاؤنٹ بنائے۔صارفین کی تنقید اور دباؤ کے بعد واٹس ایپ نے اس پالیسی کو واپس لیا اور پھر صارفین کی توجہ حاصل کرنے کے لیے نت نئے فیچرز متعارف کرانے کا سلسلہ دوبارہ شروع کیا۔چند روز قبل واٹس ایپ نے پیسوں کی لین دین کے حوالے سے فیچر متعارف کرایا تھا، جسے کاروباری افراد کی جانب سے سراہا گیا۔اب واٹس ایپ نے ڈیلیٹ فار ایوری ون فیچر میں تبدیلی پر کام شروع کردیا ہے۔یاد رہے کہ واٹس ایپ کے صارفین کا مطالبہ تھاکہ انہیں بھیجا گیا میسج ڈیلیٹ کرنے کا اختیار دیا جائے، اس پر کمپنی نے 2017 میں ڈیلیٹ میسج کی سہولت متعارف کرائی۔ابتدائی دنوں میں یہ سہولت صرف 7 منٹ تک فراہم کی گئی تھی، بعد ازاں وقت کو بڑھا کر 8 منٹ اور پھر چند ماہ بعد اسے ایک گھنٹے تک بڑھا دیا گیا تھا۔ویب بیٹا انفو کی رپورٹ کے مطابق اب واٹس ایپ نے میسج ڈیلیٹ کرنے کے دورانیے کو مزید بڑھانے پر کام شروع کیا ہے، مستقبل میں صارف کو مخصوص ماہ کے بعد بھی میسج ڈیلیٹ کرنے کی سہولت میسر ہوگی۔ڈبلیو اے بیٹا انفو کی جانب سے شیئر کیے جانے والے اسکرین شاٹ میں دکھایا گیا ہے کہ اگست 2021 کا میسج نومبر میں ڈیلیٹ کرنے کی سہولت میسر ہے۔اس فیچر پر ابھی کام جاری ہے، آزمائش کے لیے یہ سہولت صرف واٹس ایپ بیٹا ورژن استعمال کرنے والے صارفین کو فراہم کی گئی ہے، کامیاب تجربے کے بعد اسے تمام صارفین کے لیے متعارف کرایا جائے گا۔

لیکن اگر آپ اس فیچر کے بنا بھی کسی بہت پرانے میسیج کو ڈیلیٹ کرنے چاہتے ہم تو مجھ سے میسیج کر کے میری ویڈیو کا لنک لے لیں جس میں بتایا گیا ہے کے آپ کس طرح بہت پرانا میسیج بھی ڈیلیٹ کر سکتے ہیں وہ بھی بنا کسی ایپلیکیشن کی مدد کے

Add Comment

Click here to post a comment