Home » راجہ، حمام، فیشن اور ناسٹیلجیا
بلاگ

راجہ، حمام، فیشن اور ناسٹیلجیا

مطمئن دور تھا، خاکسار برکت والے دور میں تیس روپے سے لے کر کئی سو روپے تک کی اصلاحِ زلفِ پریشاں کروا چکا ہے۔ بلیڈ کو ڈیٹول میں ڈبونے کی بارہا تاکید کے بعد “ماہرِ زلف تراش” المعروف “راجہ جی” کی کھّچیں چالو ہو جایا کرتی تھیں۔ اپنا فوکس آغاز سے ہی کہنی کو کٹنگ والی کُرسی کے بازو رکھنے والی جگہ سے بچ بچا کر اندر ِٹکا رکھنے پہ زیادہ ہوا کرتا تھا کیونکہ “آکوَرڈ” مقامات کے لمس کو پہچان کرعزت بچانا مشترکہ قومی فریضہ ہے۔ گفتگو کے دوران واحد موجود غیر شفاف گلاس میں واش بیسن سے پانی بھر کر دو چار قطرے ڈیٹول ڈال کر دس منٹ آپ کی ڈاڑھی مونچھ پہ رگڑ رگڑ کر“وَتّر” لگانا بھی کوئی اِن سے سیکھے۔ اُس دوران سابقہ حجام کے کام میں نقض نکالنا، آپ کو فیشل اور تھریڈنگ کے ساتھ بالوں میں لگانے والے اصیل دیسی مُرغی کے “آنڈے” کی زردی سے دھیمی آنچ پہ کشید شدہ تیل کے فضائل و خواص کی افادیت گنوانا، اُسترے میں ٹریٹ کالا بلیڈ ڈالنے سے قبل اُس کی کاغذی پیکنگ میں “کڑِچ” کی آواز کے ساتھ بیچ میں سے توڑ کر آدھا کرنا، پھر دراز میں سے “سپرٹ” والی “کُپّی” سے دو قطرے اُس اُسترے کے تازہ فِٹ کیے گیے بلیڈ پہ ٹپکانا اور “کھیسے” سے لائٹر نکال کر اُس “اُسترے” کو “اِس طرح” آگ دکھانا کہ یقیناً وہ ایک “سرکسی” کرتب محسوس ہو۔ اِس آئٹم کا مقصد نئے بلیڈ کو “سٹرلائزڈ” یعنی جراثیم سے صاف کرنا ہوتا ہے۔
اب آپ کی جان اور عزت ایک مرتبہ پھر سے راجہ صائب کے ہاتھ میں ہو گی کیونکہ آپ کی اَدھ گیلی “وَتّر” لگی ڈاڑھی مونچھ جو عین سامنے دیوار پہ لگے سبز پروں والے یونس فین کے سبب کسی حد تک خشک ہو چکی تھی کا سرسری معائنہ کرنے کے بعد سامنے پڑے جعلی “GILLETTE” سے مِلتے جُلتے نام والی “جولئیٹ” شیونگ فوم سے ایک موٹی تہہ نکال کر اپنے بائیں ہاتھ کی پشت پہ سٹور کر لی جائے گی۔ ایامِ بلوغت میں نکلنے والے چہرے کے دانوں کو موردِ الزام ٹھہرانے پہ ایک لیکچر دینے کے ساتھ تھریڈنگ کا مشورہ بھی دیا جائے گا۔ جسے آپ جیب میں موجود سبزی اور دہی لانے کے دوران بچائی گئی نقدی اور ریزگاری سے ناپ تولنے کے بعد “یار اگلی مرتبہ سہی” کہہ کر صرف شیو اور کٹنگ کرنے کے مطالبے پہ واپس لاتے ہیں۔ یہیں حمام یا سیلون کے مالک المعروف بڑے حاجی صاحب داخل ہوتے ہیں اور آپ کو اونچی آواز میں خوشامدی سلام کے بعد کاریگر کو پیچھے ہٹنے کا مشورہ دے کر، فوطین کھجانے کے ساتھ دوسرے ہاتھ سے آپ کے سر، قلموں، بھنووں، ڈاڑھی، مونچھ، حتیٰ کہ کان کے بالوں کا ایکس رے فرماتے ہیں۔ کاریگر کی والدہ و نانی محترمہ کی شان میں ہَجو گوئی کے بعد اسے چند اُستاذی ہدایات جاری کی جاتی ہیں اور دکان پہ ظہرانے والا ٹفن پکڑا کر اپنے یاماھا موٹر سیکل پہ شام کو آنے کا بتا کر چلے جاتے ہیں۔ اب وہی کاریگر المعروف راجہ! جلدی جلدی آپ کی خشک ہو جانے والی شیو پہ ہاتھ کی پشت پہ سمندر کی جھاگ کی طرح بیٹھے ہوئے فوم کو مَسلنا شروع کر دے گا۔لیکن اُس دوران راجے کی سہیلی کا فون آجاتا ہے۔

صورتحال یہ ہے کہ آپ راجہ صاحب کی کٹنگ والی سیٹ پہ ایپرن پہنے، منھ پہ فوم لگے براجمان ہیں اور اِس عذاب سے نکلنے کی جلدازجلد کوئی تدبیر چاہتے ہیں۔ کان پہ ۳۳۱۰ فون لگائے راجہ جی کی کمینگی اب وحشت و ہوس بھری آنکھوں سے ٹپک ٹپک کر میسنی سی ہنسی میں بدل کر آپ کو مزید کوفت میں مبتلا کر رہی ہے۔ آپ سہم کر اپنی کُہنی ایک مرتبہ پھر کُرسی کے بازؤں سے اندر سُکیڑ لیتے ہیں، کہ “مبادا!!!۔۔۔ اہم اہمم”۔ راجہ جی اب اپنے شانے سے کان کو ۳۳۱۰ لگائے دھیمی دھیمی چَوّل ہنسی کے ساتھ آپ کی شیو بنانا شروع کر دیتے ہیں۔ آپ خوف اور کوفت کے مِلے جُلے جذبات میں اعصاب کو اکڑائے، شہہ رَگ کے پاس چلنے والے اُسترے کی دھار کو محسوس کرتے ہوئے بیک وقت راجہ کی منحوس شکل پہ تاممکن حد تک ٹیڑھی نظریں جمائے فوکسڈ ہیں۔ دفعتاً فون کے سپیکر سے آپ کو راجہ کی سہیلی اُن سے سوٹ اور ایزی لوڈ کی فرمائش کرتی سُنائی دیتی ہیں جبکہ اُنہی سہیلی کی امی حضور کی موٹی اور کرخت گالی کی آواز بھی شامل باجہ کے طور پہ بیک گراؤنڈ میں سُنائی دیتی ہے، جسے سُن کر آپ کی شہہ رگ پہ گھبرائے راجہ کا بوکھلایا ہاتھ ہلکی سے لرزش کا سگنل بھیجتا ہے اور آپ ایپرن میں سے ایک ہاتھ نکال کر راجہ کا بلیڈ والا بازو مضبوطی سے تھام لیتے ہیں۔ پھر دوسرا ہاتھ اُسی ایپرن میں سے برآمد کرکے پہلے ہاتھ کی ہتھیلی سے مِلا کر راجہ اور اُس کی سہیلی سے ہاتھ جوڑ کر معافی طلب کرتے ہوئے گھگیائے لہجے میں عرض کرتے ہیں کہ، “راجہ جی! میں اپنے ماں باپ کا واحد اور اکلوتا ساتواں لڑکا ہوں، براہِ مہربانی! آپ ہماری بھابی اور اپنی سہیلی نمبر پانچ کو اِس وقت ٹرخا دیں۔ سوٹ آپ لیں دینا، اگر آج میں زندہ بچ گیا تو ایزی لوڈ کا صدقہ میرے ذمے رہا۔
شہزادیو! مہربانی، تُسی فِکر ای نہ کرو۔

جیسے تیسے کرکے آپ اپنے بُوتھے کی نوک پلک سنوار کر نکلنا ہی چاہتے ہیں تو معلوم پڑتا ہے کہ آپ کی دائیں قلم، بائیں سے دو گَز چھوٹی ہے۔ راجہ، اوہو! کہہ کر آپ کو واپس کُرسی پہ بٹھا کر گُلابی بُرآلود کنگھی پکڑے، آپ کی گردن کو دائیں بائیں موڑ کر کیلکولس، ڈِسکریٹ میتھ، پرموٹیشن، انٹیگریشن اور الجبرا کے تمام فارمولوں کے مطابق آپ کی کان کی لَو کو سیدھ میں رکھ کر ٹھیک ٹھیک پیمائش سے بیلنس کر دیتا ہے۔ جب کہ اُسی دوران راجہ کے چھوٹے قد پہ اُسے “اوئے مَدرے” کہہ کر چھیڑنے والا ہمسائیہ دکان کا سنجے دت نما کردار اپنی لمبی زلفوں اور میلی اور براؤن مونچھوں کے ساتھ حمام میں داخلہ ہو کر بِنا اجازت راجے کے ہاتھ سے گلابی کنگھی لے کر اپنے بالوں کا “پَف” صحیح کرنا شروع کر دیتا ہے۔ پھر دیوار پہ لگے عقبی اور سامنے والے آئنیے میں دیکھ کر گدھے کی دُم کے بالوں جیسے اپنے شانوں پہ بکھری پراگندہ زلفوں کو انگلیوں سے جھٹک کر پتلی سے مونچھ کو تاؤ دینا شروع کر دیتا ہے۔ راجے کو معلوم ہے کہ اِس کھَچ نے اپنے مُنہ میں گھُسنے والے بالائی ہونٹ کے مونچھ والے بال اب سامنے پڑی حاجی صاحب کی فیورٹ اور مخصوص قینچی اُٹھا کر تراشنے شروع کر دینے ہیں۔ پیشتر اِس کہ ایسا ہو، راجہ آپ کی قلم سیدھی کرنے والی قینچی سے ہی “ایتھے وَڑ” کہہ کر اُس کے وہم کو درست کرتا ہے اور ساتھ ہی دھمکی دی جاتی ہے کہ حاجی صاحب آنے والے ہیں، سو ہُن نِکل ایتھوں!۔ جاتے جاتے وہ کھچ، راجے کا گال سہلا کر “THANKKUSS مَدرَے” کہہ کر جانا نہیں بھولتا۔ آپ بےبسی سے حفظانِ صحت کے تمام اُصولوں کی دھجیاں بکھرتے دیکھ کر منمناتے ہوئے سائیڈ پاکٹ سے تیس روپے نکال کر راجے کو تھماتے ہی ہیں تو یاد دہانی کروائی جاتی ہے کہ “پائین! او ایزی لوڈ آلے پیہے تُسی دین دا وعدہ کیتا سی”، یعنی جناب! محترم گاہک صاحب! میری سہیلی نمبر پانچ کو ایزی لوڈ والی آفر کو پورا کیجئے۔ اور آپ چاروناچار اُسے بیس روپے کی بجائے؛ صافی “پچاس” کا نوٹ اُس کے مُنہ پہ دے مارتے ہیں۔ ایسا آپ صرف خیالی طور پہ کر پاتے ہیں، کیونکہ بلیڈ والا اُسترا ابھی بھی راجے کے ہاتھ میں ہی ہوتا ہے۔ وطنِ عزیز میں لِسّے بندے کے فیشن کے معیار بس ایسے ہی ہوا کرتے تھے۔؎تمہارے ہاتھ خالی جیب خالی زلف خالی تھی …. نہ تھے تم چور دل کے لو ادھر دیکھو یہ کیا نکلا (بیخود دہلویؔ) خیر! ذیلی تصاویر سے منسلک کوئی نہ کوئی کہانی یا مکالمہ آپ کے ناسٹیلجیا میں بھی شامل ہو گا، اگر ہے تو بتائیے؟

Add Comment

Click here to post a comment