Home » مفتی عزیز الرحمن کیس سے متعلق کچھ سوالات اور ان کے جوابات
اسلام بلاگ معلومات

مفتی عزیز الرحمن کیس سے متعلق کچھ سوالات اور ان کے جوابات

ہماری پچھلی پوسٹ پر ایک دوست نے مفتی عزیز الرحمن کیس کے تناظر میں کچھ سوالات کیے ہیں کہ جن کے جوابات مع سوالات پیش خدمت ہیں۔ سابقہ پوسٹ ہماری وال پر ملاحظہ کی جا سکتی ہے کہ جس کا خلاصہ یہ تھا کہ ہمارے اکابر علماء اور متعلقہ دینی مدرسہ اور وفاق نے اس کیس میں وہ ذمہ داری ادا نہیں کی جو اسے ادا کرنی چاہیے تھی۔ اکابر علماء میں سے کسی ایک عالم دین کا بھی تا حال کوئی بیان ریکارڈ پر موجود نہیں ہے۔ جو کچھ مذمت سامنے آئی ہے، وہ سوشل

میڈیا کے نوجوان علماء کے طبقے کی طرف سے ہے اور اس کے لیے ہم ان کے شکر گزار ہیں۔
سوال: حافظ صاحب ذرا یہ بتائیں کہ اس فعل شنیع کے ثبوت کے لئے فقط ویڈیو ریکارڈنگ کافی ہے یا گواہوں کی بھی ضرورت ہوگی؟ جواب: فاعل اور مفعول دونوں کا اقرار موجود ہے تو ویڈیو سے ثبوت کا سوال بے معنی ہے۔ فاعل نے ویڈیو میں اقرار کیا ہے کہ ایسا ہوا ہے اور اس کا کہنا ہے کہ مزید ویڈیوز بھی موجود ہو سکتی ہیں۔ مفعول نے ایف آئی آر درج کروائی ہے کہ ایسا ہوا ہے۔ دوسرا ویڈیو سے جرم ثابت ہو جاتا ہے البتہ اختلاف اس میں ہے کہ ویڈیو کی بنیاد پر حد جاری ہو سکتی ہے یا محض تعزیر ہی ہو گی۔

سوال: مفعول بھی اس جرم میں شریک ہے یا وہ بری الذمہ ہے؟ جواب: بظاہر یہی لگ رہا ہے کہ دونوں شامل ہیں۔ البتہ مفعول نے دعوی کیا ہے کہ اسے اس کام پر مجبور کیا گیا ہے اور فاعل نے دعوی کیا ہے کہ اسے نشہ پلایا گیا تھا۔ ویڈیو سے بظاہر دونوں دعوے درست معلوم نہیں ہو رہے ہیں۔ لیکن پھر بھی یہ فیصلہ کرنا

عدالت کا کام ہے کہ مفعول مجبور تھا یا نہیں، یا فاعل نشے میں تھا یا نہیں؟
سوال: مفعول نے ریکارڈنگ کرکے جو گند پوری دنیا میں پھیلایا اس کی تحسین کی جائے گی یا یہ قابل مذمت فعل ہے؟ جواب: اگر فاعل سے ایک آدھ بار گناہ ہوا ہو یا اس کے گناہ کا تعلق اس کی ذات سے ہو تو پردہ پوشی کرنی چاہیے اور یہی دینی تقاضا ہے۔ لیکن اگر وہ عادی مجرم ہو جیسا کہ ایف آئی آر میں الزام لگایا گیا ہے کہ فاعل تین سال سے مسلسل جمعہ کے روز نماز جمعہ سے پہلے بد فعلی کر رہا تھا یا اس کے گناہ سے خلق خدا کو اذیت پہنچتی ہو جیسا کہ فاعل کی کچھ اور ویڈیوز بھی نشر ہوئی ہیں تو اس کے جرم سے دوسروں کو آگاہ کرنا چاہیے تا کہ لوگ اس کے شر سے محفوظ رہیں۔

سوال: چھپ کر جرم کیا جائے یا کھلے عام مسجد کی بے حرمتی کی جائے اس میں کوئی فرق ہے یا نہیں؟ جواب: اگر مسجد میں ناچ گانا بے حرمتی ہے تو مسجد میں زنا کرنا اس سے بڑے درجے میں بے حرمتی ہے۔ اب اگر کوئی گھر میں چھپ کر بے حرمتی کرے اور کوئی سڑک پر کرے تو دونوں توہین کرنے والوں میں شامل ہیں۔ آپ یہ نہیں کہہ سکتے کہ وہ تو گھر میں بیٹھ کر چھپ کر قرآن مجید کی توہین کر رہا تھا لہذا توہین نہیں ہے۔ توہین، توہین ہے، خلوت میں ہو یا جلوت میں۔ البتہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ جلوت میں اس کی شناعت بڑھ جاتی ہے۔ لیکن جس کی ویڈیوز بن گئی ہیں، اس کی بھی جلوت میں ہی ہے۔ اس کو سمجھنے کی کوشش کریں۔
سوال: ایسے جرائم پر سزا دینا ریاست کا کام ہے، یا ہما شما، وفاق، یا مولانا تقی صاحب، یا حنیف جالندھری کا؟ جواب: سزا دینا ریاست کا کام ہے نہ کہ ہما شما کا۔ لیکن دینی اداروں کی ذمہ داری جتنی بنتی تھی، وہ انہوں نے ادا نہیں کی، یہ ماننا پڑتا ہے جیسا کہ اس مسئلے میں ایف آئی آر مدرسہ کی طرف سے درج ہونی چاہیے تھی۔ اکابر علماء کی طرف سے کسی قسم کا مذمتی بیان جاری نہیں ہوا۔ وفاق نے سوشل میڈیا کے نوٹس لینے کے بعد نوٹس لیا۔ تو اصل تو سوشل میڈیا کے نوجوان علماء مستحق تحسین ہیں کہ جنہوں نے بر وقت اور برابر نوٹس لیا۔

سوال: کیا پاکستان میں ان جیسے جرائم پر ریاست سزائیں دیتی رہی ہے کہ اس خبیث فطرت کو کیفر کردار تک پہنچانے کا مطالبہ بھی ریاست سے کیا جائے ؟ جواب: جی ریاست سزائیں دیتی ہے یا نہیں، لیکن مذہبی طبقات ہر دور میں سزاؤں کے مطالبات کرتے رہیں لیکن لبرلز کے لیے۔ اب انہیں یا تو آئندہ کسی کے لیے بھی بد کاری اور توہین پر سزا کا مطالبہ نہیں کرنا چاہیے یا پھر یہ منافقت چھوڑ دینی چاہیے۔ اب وقت اور ہوا کا رخ بہت بدل چکا ہے۔ سب کچھ ضائع ہو جائے گا۔ وہ نوجوان جو آج اکابر کی مصلحت آمیز خاموشی کی تائید کر رہے ہیں، کل ان کے لیے اپنا ایمان بچانا مشکل ہو جائے گا۔ یہ حقیقت ہے۔ ہمیں تو یہی لگتا ہے بھائی کہ ایمان اسی کا باقی رہے گا، جو بغیر کسی لگی لپٹی کے بات کرے گا جیسا کہ قرآن مجید نے کہا ہے کہ عدل کی بات کرو، چاہے تمہارے اپنے خلاف یا تمہارے والدین کے خلاف جا رہی ہو۔ اور اللہ کے گواہ بن کر کھڑے رہو، نہ کہ ہما شما شخصیتوں کے۔ ارشاد باری تعالی ہے: يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ كُونُواْ قَوَّٰمِينَ بِٱلْقِسْطِ شُهَدَآءَ لِلَّهِ وَلَوْ عَلَىٰٓ أَنفُسِكُمْ أَوِ ٱلْوَٰلِدَيْنِ وَٱلْأَقْرَبِينَ [النساء: 135]

سوال: پھر اس وقوعہ پر سوشل میڈیا پر تبصرے کرنا، اس کی ویڈیوز شئیر کرنا، شرعا کیا حکم رکھتا ہے؟ جواب: اس وقوعے کے سوشل میڈیا پر آ جانے کے بعد علماء کا یہ فرض ہے کہ اپنی رائے کا اظہار کریں۔ یہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ ہے۔ اگر علماء ادا نہیں کریں گے تو کون کرے گا؟
باقی اگر کوئی شخص واقعی میں بری الذمہ ہو گا تو ہمیں پریشان ہونے کی ضرورت نہیں، اللہ عزوجل اپنے اس بندے کو اس الزام سے بری الذمہ کر دیں گے، چاہے اس برات میں کچھ وقت لگ جائے، جیسا کہ اللہ عزوجل نے اپنے انبیاء یا ان کی ازواج کو جھوٹے الزامات سے بری الذمہ قرار دیا ہے۔ حضرت یوسف، حضرت موسی علیہما السلام اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا پر بھی الزامات لگے لیکن اللہ نے انہیں بری الذمہ قرار دیے دیا۔ تو بڑے لوگوں پر آزمائش آ جاتی ہے۔ لیکن وہاں الزام میں کوئی دلیل موجود نہیں ہوتی اور نہ ہی الزام کا کوئی سر پیر ہوتا ہے۔ یہاں اس کیس میں تو ٹھوس ثبوت موجود ہیں بلکہ ملزمان کا اقرار موجود ہے کہ ایسا ہوا ہے اگرچہ وہ یہ کہہ رہے ہیں کہ اکراہ کے ساتھ ہوا ہے۔

تو معاملے کو تفتیش کے لیے آگے چلانے میں معاون بنیں نہ کہ رکاوٹ۔ کسی نے صحیح کہا ہے کہ ایک رابی پیرزادہ تھی کہ جس کی کچھ ویڈیوز لیک ہو گئیں اور اس نے ایسی توبہ کی کہ ہزاروں علماء ومشائخ کی توبہ پر بھاری ہو جائے اور دوسری طرف ہمارے مذہبی طبقے کی توبہ ہے کہ عذر گناہ بدتر از گناہ والا معاملہ ہے۔ اللہ عزوجل سب کو عافیت میں رکھے اور فتنوں سے بچائے اور ایمان کی حفاظت فرمائے۔

Add Comment

Click here to post a comment