Home » قوم ثمود کے کھنڈرات
اسلام معلومات

قوم ثمود کے کھنڈرات

آپ نے قران مجید میں حضرت صالحؑ کا ذکر تو پڑھا ہوگا۔ حضرت صالح علیہ السلام کے والد کانام عبیر بن سیاف ہے۔ آپ چھٹے پیغمبر ہیں۔ آپ حضرت نوح علیہ السلام کے بیٹے سام کی نسل میں سے ہیں ۔ آپ قوم ثمود پر مبعوث کئے گئے۔آج سے کم سے کم چار ہزار سال پہلے حجاز مقدس اور تبوک کے درمیان حجر نامی جگہ میں ایک قوم قوم ثمود آباد تھی یہ جگہ اج کل مدائن صالح کے نام سے مشہور ہے۔ یہ ایک پہاڑی علاقۂ ہے۔ اس قوم نے بہت ترقی کی ان کی ترقی کی وجہ یہ تھی کہ یہ لوگ پہاڑوں میں گھر بنا کر رہتے تھے جس کی وجہ سے دشمن کبھی ان سے جیت نہ پاتے۔ قرنطین کا ذکر قرآن میں قوم ثمود کے گھروں کے طور پر کیا گیا تھا ، یہ وہی قرنطین ہے جس سے قرنطینہ نکلا ہے۔ یعنی ان کے گھر قرنطینہ جیسے محفوظ تھے جہاں ان کو کوئ مصیبت یا آفت گزند نہ پہنچا سکتی تھی۔ جنہوں نے اللہ کے نبی کی پکار پر لبیک کہا ، اور پھر اپنے مذہب سے ہٹ گئے ، اور اللہ کی طرف سے بطور معجزہ بھیجی گئ اونٹنی کی کونچیں کاٹ ڈالیں۔ جب صالح ؑ کو پتا چلا تو انہوں نے اپنی قوم کو تین دن کی مہلت دی اور فرمایا تین دن خوب کھا پی لو۔ مگر ظالم لوگوں نے ہٹ دھرمی کرتے ہوئے خود حضرت صالح کو قتل کرنے کی ٹھان لی۔ان کی قوم میں نو بڑے بدمعاش تھے۔انہوں نے ( آپس میں ایک دوسرے سے) کہا : سب ملکر اللہ کی قسم کھاؤ کہ ہم صالح اور اس کے گھر والوں پر رات کے وقت حملہ کریں گے، پھر اس کے وارث سے کہہ دیں گے کہ ہم ان گھر والوں کی ہلاکت کے وقت موجود ہی نہ تھے۔ اور یقین جانو ہم بالکل سچے ہیں۔

قوم ثمود پر عذاب:سید آلوسی اپنی تفسیر روح المعانی میں فرماتے ہیں کہ ثمود پر عذاب آنے کی علامات اگلی صبح ہی سے شروع ہوگئی یعنی پہلے روز سب کے چہرے زرد پڑگئے ، دوسرے روز سرخ اورتیسرے روزسیاہ ہوگئے جیسے تاریکی چھاجائے ۔ان تین دنوں کے بعد رات کے وقت ایک ہیبت ناک چیخ نے ہر شخص کو ہلاک کر ڈالا جس حالت میں وہ تھے اور ان کی بستیوں کو ایسا کرڈالا جیسے وہ کبھی وہاں بسے ہی نہ ہوں ۔ان کے غرور کا انجام آنے والی نسلوں کے لیے عبرت کا نشان ہے ۔

‎صالحؑ کی قوم ثمود کا شہر ماضی کا عظیم الشان شہر تھا۔‎اس جگہ 131 مقبرے ہیں .. شمال مغربی سعودی عرب میں واقع ہے ، اور اس جگہ کو تاریخی شہرت حاصل ہے جو کہ جزیرہ عرب اور دمشق کے جنوب کو ملانے والی پرانی تجارتی سڑک پر واقع ہے۔‎مدینۃ الصالح ان کے دارالحکومت پیٹرا کے بعد انبات کے اہم ترین شہروں میں سے ایک ہے۔‎مدینۃالصالح کے شہروں کی خصوصیت یہ ہے کہ یہ تعمیر نہیں بلکہ ریت کی چٹانوں کو تراش کر ان میں رہائش گاہیں بنائ گئ تھیں۔

قوم ثمود کے تراشے گئے یہ مکانات اور حویلیاں آج بھی موجود ہیں جن کے درمیان قوم ثمود کے باشندے ھیبتناک چیخ کے بعد پڑے رہ گئے تھے۔ زرا غور سے ان کھنڈرات کو دیکھئے کہ کبھی قوم ثمود کے لوگ ان میں رہتے بستے تھے۔ کھاتے پکاتے تھے زندگیاں گزارتے تھے۔ انہی گھروں کے درمیان اللہ کی طرف سے بھیجی گئ اونٹنی چلا پھرا کرتی تھی۔ لیکن ان کی سرکشی اور بت پرستی و شرک نے ان کو عبرت بنا دیا۔ تو کوئ ہے جو عبرت پکڑے۔ اللہ تعالی بے نیاز ہے۔
ثنااللہ خان احسن

Add Comment

Click here to post a comment