Home » “الفریڈ نوبل کون تھا” ؟نوبل انعام کی کہانی۔
بلاگ

“الفریڈ نوبل کون تھا” ؟نوبل انعام کی کہانی۔

– الفریڈ نوبل کون تھا:نوبل انعام کا بانی الفریڈ نوبل تھا۔ الفریڈ سویڈن میں پیدا ہوا لیکن اس نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ روس میں گزارا۔الفریڈ نوبل اپنے دور کے مایہ ناز مؤجد، انجینئر اور ماہر کیمیاء تھے، جنہوں نے اپنی 355 ایجادات کے ذریعے بے پناہ دولت حاصل کی جس میں سب سے زیادہ اہمیت ڈائنا مائیٹ اور کارڈائٹ کو حاصل ہوئی اور ان کی وجہ سے انہیں عدالتوں کا سامنا بھی کرنا پڑا۔ڈائنامائٹ سے کمائی گئی دولت کے باعث 1896ء میں اپنے انتقال کے وقت نوبل کے اکاؤنٹ میں 90 لاکھ ڈالر کی رقم تھی۔

۔ نوبل انعام کی شروعات کیسے ھوئی:سن 1888 میں الفریڈ نوبل کے بھائی لڈوگ کا انتقال ہوا تو کئی اخبارات نے ان کے بھائی کی جگہ الفریڈ نوبل کی وفات کی خبریں، تعزیت اور کارنامے شائع کیے، ان میں سے ایک مضمون کا عنوان “موت کے سوداگر کی موت” تھا۔اس تحریر نے نوبل الفریڈ کو ذہنی اور جذباتی طور پر شدید متاثر کیا کہ اتنی دولت، کامیابیاں اور شہرت حاصل کر لینے کے باوجود دنیا انہیں مرنے کے بعد موت کے سوداگر کے نام سے یاد رکھے گی، لہٰذا انہوں نے اپنی توجہ فلاحی کاموں کی طرف مبذول کی اور اپنی وفات سے ایک برس قبل 1895 میں انہوں نے پیرس میں سوئیڈن-ناروے کلب کی ایک تقریب میں اپنی آخری وصیت کااعلان کرتے ہوئے اپنی کل دولت کا 94 فیصد حصہ مختلف مضامین میں قابل قدر خدمات سرانجام دینے والے افراد کو نوبل پرائز دینے کے لیے وقف کیا۔
انہوں نے فزکس، کیمسٹری ، فزیولوجی، ادب، میڈیسن اور عالمی امن کے شعبوں میں انعامات دینے کا اعلان کیا۔

اس وصیت کے ایک برس بعد دسمبر 1896 میں الفریڈ نوبل برین ہیمبرج کے باعث انتقال کر گئے، مگر کئی نا گزیر وجوہات کی بناء پر تاخیر کے بعد نوبل پرائز سے متعلق ان کی وصیت پر 1897 میں دی نوبل پرائز کا آغاز ہوا اور ابتداء میں ریجنر سوہلمین اور روڈولف کو نوبل فاؤنڈیشن کا سربراہ مقرر کیا گیا، جن کا کام نوبل کے اثاثہ جات کی حفاظت کے ساتھ نوبل پرائز کا انعقاد کرنا بھی تھا۔ان افراد کی منظوری سے امن کے نوبل انعام کے لیے’ نارویجیئن نوبل کمیٹی’ اور فزکس اور کیمسٹری میں نوبل انعام کے لیے رائل سوئیڈش اکیڈیمی آف سائنسز بنا ئیں گئیں، فزیولوجی اور میڈیسن میں نوبل انعام دینے کا فیصلہ کارولنسکا انسٹی ٹیوٹ کی نوبل اسمبلی اور ادب میں نوبل انعام سوئیڈش اکیڈیمی کے سپرد کیا گیا۔

اس کے کچھ عرصے بعد سوئیڈن کے سینٹرل بینک نے الفریڈ نوبل کی یاد میں اکنامکس میں اہم خدمات سرنجام دینے والے افراد کے لیے معاشیات کے نوبل انعام کا آغاز کیا، یوں پہلی دفعہ 1901 میں فزکس، کیمسٹری، ادب، فزیولوجی، میڈیسن اور امن کے شعبوں میں نوبل انعامات دیئے گئے۔نوبل فنڈ میں ہر سال منافع میں اضافے کے ساتھ ساتھ انعام کی رقم بھی بڑھ رہی ہے۔ 1948ء میں انعام یافتگان کو فی کس 32 ہزار ڈالر ملے تھے، جب کہ 1997ء میں یہی رقم بڑھ کر 10 لاکھ ڈالر تک پہنچ گئی۔نوبل انعام کی پہلی تقریب الفریڈ کی پانچویں برسی کے دن یعنی 10 دسمبر 1901ء کو منعقد ہوئی تھی۔ تب سے یہ تقریب ہر سال اسی تاریخ کو ہوتی ہے۔گزشتہ کئی دہائیوں سے ریسرچ میں معاونت کی باعث محض ایک شخص کو پوری رقم دینے کے بجائے تحقیقی ٹیم کے اہم اراکین میں برابر تقسیم کردی جاتی ہے مگر ان کی تعداد کبھی تین سے زیادہ نہیں ہوتی، یعنی فزکس، کیمسٹری، میڈیسن میں کسی بڑے بریک تھرو میں اہم کردار ادا کرنے والے 3 افراد کے درمیان نوبل پرائز کی رقم یکساں تقسیم کردی جاتی ہے۔

امن کا نوبل انعام۔۔۔ اور تنازعات:الفریڈ نوبل نے اپنی آخری وصیت میں جن شعبوں میں نوبل انعام دینے کا اعلان کیا تھا، ان میں عالمی امن سر فہرست تھا، کیوں کہ وہ نہیں چاہتے تھے کہ حادثاتی طور پر ملنے والا موت کے سوداگر کا لقب حقیقت میں ان کی پہچان بن جائے، لہٰذا 1901 سے دنیا بھر میں امن کے لیے قابل ذکر خدمات سر انجام دینے والے اداروں یا شخصیات کو یہ انعام دیا جا رہا ہے، جس کے لیے 1990 سے اوسلو میں 10 دسمبر کو علیحدہٰ سے تقریب منعقد کی جاتی ہے، مگر اپنی نوعیت کے حوالے سے یہ انعام برسوں سے متنازع چلا آرہا ہے اور اس کے لیے عالمی رائے یہی ہے کہ صرف ان افراد کو دیا جاتا ہے جو مغرب کے منظور نظر ہوں اور عالمی طاقتوں کی پالیسیوں کو اپنا نصب العین سمجھتے ہوں۔

تنازعات سے قطع نظر اس انعام کا حتمی فیصلہ کرنے والی رائل سوسائٹی کے ججز کے مطابق ان کی اولین ترجیح دنیا بھر سے ایسے افراد یا ادارے ہوتے ہیں، جنہوں نے مختلف اقوام کے درمیان تنازعات کے حل، اپنے ملک میں افواج کی تعداد یا نیوکلیئر و تباہ کن ہتھیاروں کی تخفیف میں بنیادی کردار ادا کیا ہو، اس کے علاو ہ عالمی امن کے استحکام کے لیے مسلسل جدوجہد کرنے والی شخصیات کو بھی جیوری کی جانب سے اولیت دی جاتی ہے۔امن کے نوبل انعام کے بارے میں تنقید پر شدت 2011 میں اس وقت آئی جب الفریڈ نوبل کے ایک پوتے مائیکل نوبل کی جانب سے یہ اعتراض کیا گیا کہ انعام کا فیصلہ کرتے وقت ان نکات کا خیال بلکل نہیں رکھا جاتا جو نوبل نے اپنی وصیت میں درج کیے تھے۔

اگرچہ کہا جاتا ہے کہ امن کے انعام پر نوبل نے کسی واضح پالیسی کا ذکر نہیں کیا تھا اور وہ صرف چاہتے تھے کہ ڈائنامائٹ، بلسٹک اور اس جیسی ان کی دیگر ایجادات سے عالمی امن کو جو نقصان ہوا اور جنگوں اور ہلاکتوں میں شدت آئی، اسے روکنے کے لیے اقدامات کرنے والےافراد کی کوششوں کو سراہا جائے، تاہم پھر بھی اس ایوارڈ کی نامزدگی کو متنازع کہا جاتا ہے۔اب تک دیے جانے والے نو بل امن انعام میں جو افراد سب سے زیادہ تنقید کا نشانہ بنے ہیں ان میں میخائل گوربا چوف (روس-1990)، شمعون پیریز (اسرائیل -1994)، یاسر عرفات ( فلسطین -1994)، ہنری کسنجر (امریکہ -2000)، جمی کارٹر( امریکہ-2002)، الگور (امریکہ-2007)، لی ڈک تھو (شمالی ویتنام 1973)،آن سان سوچی( میانمار 1991)، بارک اوباما (امریکہ 2009)، یورپین یونین (2012) شامل ہیں۔

ان میں سے ہنری کسنجر اور لی تھو کی نامزدگی کے وقت ججز کمیٹی میں شامل 2 اراکین نے فیصلے سے اختلاف کرتے ہوئے استعفیٰ بھی دے دیا تھا، لی تھو نے خود بھی اس استدلال کے ساتھ انعام لینے سے انکار کر دیا تھا کہ ویتنام میں قیام امن میں انہوں نے مرکزی کردار ادا نہیں کیا تھا، جبکہ ہنری کسنجر نے بھی انعام کی تمام رقم فلاحی تنظیم کو دیکر ایوارڈ کی تقریب میں شرکت نہیں کی تھی۔
تحریر و تدوین!عتیق الرحمن-نوٹ: مضمون میں پیش کردہ معلومات مختلف ویب پیجز ( ڈان نیوز۔ صادقہ خان )اور ویکیپیڈیا پر موجود مواد سے تیار کردہ ھیں۔

Add Comment

Click here to post a comment