Home » نکاح یا نکاح نامہ کیا ہے؟
معلومات

نکاح یا نکاح نامہ کیا ہے؟

نامور وکیل اور سماجی کارکن طاہرہ حسن کہتی ہیں کہ قانونی اعتبار سے نکاح نامہ ایک معاہدہ ہے جس میں دو فریق اکھٹے زندگی گذارنے کے لیے مختلف شرائط طے کرتے ہیں۔عام طور پر شادی کے موقعے پر نکاح نامے کو اتنے غور سے نہیں پڑھا جاتا اور نہ ہی تفصیلات طے کی جاتیں ہیں۔ جن کی شادی ہو رہی ہوتی ہے وہ تو نکاح نامے کو دیکھتے بھی نہیں ہیں۔ کبھی گھر کے بڑے اور کبھی نکاح خواں ہی نکاح نامہ پُر کر دیتے ہیں

طاہرہ حسن کے مطابق یہ بہت ضروری ہے کہ نکاح سے پہلے لڑکا اور لڑکی نکاح نامے کو دھیان سے پڑھیں تاکہ انھیں پتا ہو کہ ان کے ازدواجی حقوق کیا ہیں؟اور ان کا تحفظ کس طرح کیا جا سکتا ہے؟ نکاح نامے میں 25 شقیں ہیں:مروجّہ نکاح نامے کی 1 سے 12 نمبر شقیں سادہ اور آسان ہیں جن میں دولھا اور دلھن کے کوائف، شادی انجام پانے کی تاریخ اور وکیلوں اور گواہان کی تفصیلات لکھی جاتی ہیں۔23 سے 25 نمبر شقیں بھی عام فہم ہیں جن میں نکاح خواں کے کوائف اور شادی رجسٹر کرانے کی تاریخ درج ہوتی ہے۔لیکن شق نمبر 13 سے 22 انتہائی اہم ہیں جن پر بالخصوص توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

نکاح نامے کی شقیں 13 سے 17 مہر سے متعلق ہیں۔ مہر وہ رقم یا اس کا متبادل ہے جو شادی کے موقع پر شوہر بیوی کو ادا کرتا ہے۔مہر دو قسم کا ہوتا ہے:
▪️ایک معجل
▪️اور دوسرا ‘مؤجل
مہر معجل نکاح کے وقت یا بیوی کے مطالبے پر فوری ادا کرنا ہوتا ہے جبکہ مہر مؤجل کسی معیّنہ تاریخ یا واقعے کے رونما ہونے پر ادا کرنا ہوتا ہے۔ مہر مؤجل کی صورت میں مہر کی ادائیگی کی شرائط نکاح نامے میں درج کرنا ضروری ہے۔بیوی بھی طلاق دے سکتی ہے!نکاح نامے کی شق 18 میں پوچھا جاتا ہے کہ آیا شوہرنے طلاق کا حق بیوی کو دے دیا ہے؟وکیل طاہرہ حسن کہتی ہیں کہ ‘میں نے دیکھا ہے کہ اچھے پڑھے لکھے خاندانوں میں حق مہر کی تفصیلات پر تو کافی سنجیدہ مذاکرات ہوتے ہیں لیکن لڑکی کے حقِ طلاق جیسے اہم موضوع پر کوئی بات نہیں ہوتی۔’طاہرہ حسن بتاتی ہیں کہ اگر بیوی کے پاس حقِ طلاق نہیں ہو تو اُس کے پاس خلع یعنی عدالت کے ذریعے شادی ختم کرنے کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ نہیں۔

جب لڑکی خلع کے لیے درخواست دیتی ہے تو وہ اپنے مہر کے حق سے دستبردار ہو جاتی ہے۔ اس طرح اسے ایک تو عدالت جانا پڑتا ہے اور دوسرا وہ اپنے مہر کی رقم سے محروم ہو جاتی ہے۔طاہرہ حسن لڑکی کے حقِ طلاق کی صورت میں طلاق کے طریقۂ کار کے بارے میں بتاتی ہیں:”یونین کونسل میں طلاق کے لیے رجسٹریشن کروائی جاتی ہے جس کے بعد عدالت جائے بغیر طلاق بھی ہو جاتی ہے اور لڑکی کو اس کا حق مہر بھی ملتا ہے۔” طاہرہ حسن کہتی ہیں کہ لڑکی کا حقِ طلاق مشروط یا غیر مشروط ہو سکتا ہے لیکن وکیل یہی مشورہ دیتے ہیں کہ اُسے اپنا حقِ طلاق غیر مشروط رکھنا چاہیے۔

نکاح نامے کی شق 19 کے مطابق بیوی شوہر کے حقِ طلاق پر شرائط عائد کر سکتی ہے۔
وکیل طاہرہ حسن بتاتی ہیں:
” دیکھا گیا ہے کہ طلاق کے اکثر مقدمات میں لڑکیوں کے مالی مفادات کا تحفظ نہیں ہوتا۔ اس شق کے ذریعے بیوی پابندی لگا سکتی ہے کہ شوہر کے طلاق دینے کی صورت میں اُسے نان نفقہ یا دیگر اخراجات کے لیے معاوضہ دیا جائے گا۔” کوئی بھی شرط نکاح نامے کا حصہ بن سکتی ہے؟نکاح نامے کی شق 20 کہتی ہے کہ اگر شادی کے موقع پر مہر و نان نفقہ سے متعلق کوئی دستاویز تیار کی گئی ہے تو اس کی تفصیلات درج کی جائیں۔

طاہرہ حسن بتاتی ہیں کہ اس شق کے ذریعے میاں بیوی کے درمیان طے پانے والے اضافی نکات کا اندراج کیا جا سکتا ہے۔’مثلاً بیوی کہہ سکتی ہے کہ جائیداد اس کے نام کی جائے یا شوہر کی ماہانہ آمدنی کی ایک مقررہ شرح مخصوص مدّت تک بیوی کو ادا کی جائے۔طاہرہ حسن بتاتی ہیں کہ اس شِق کے علاوہ میاں بیوی کے درمیان طے پانے والی کوئی بھی شرط ضمیمے کے طور پر نکاح نامے کا حصہ بنائی جا سکتی ہے۔

دوسری شادی کی اجازت
نکاح نامے کی شق 21 اور 22 مطالبہ کرتی ہیں کہ شوہر کی دوسری شادی کی صورت میں ثالثی کونسل سے اجازت حاصل کی جائے۔طاہرہ حسن کہتی ہیں کہ عام طور پر دوسری شادی کے موقع پر پہلی بیوی سے اجازت نہیں لی جاتی۔ یہ کام چُھپ چُھپا کے ہی ہوتا ہے۔وہ بتاتی ہیں کہ شوہر کی دوسری شادی کے لیے پہلی بیوی کی تحریری اجازت تو ضروری ہے ہی، لیکن صرف یہ کافی نہیں۔اس سلسلے میں حتمی اختیار ثالثی کونسل کے پاس ہے۔ ثالثی کونسل کو دوسری شادی کی وجوہات بتانی پڑتی ہیں اور پہلی بیوی اور شوہر کے نامزد نمائندے یہ فیصلہ کرتے ہیں کہ دوسری شادی ہونی بھی چاہیے یا نہیں۔
وکیل طاہرہ حسن مانتی ہیں کہ نکاح نامے سے متعلق معاشرے کی سوچ کو بدلنے کی ضرورت ہے کیونکہ موجودہ صورتحال میں خواتین کے حقوق کا تحفظ نہیں ہو رہا۔طاہرہ حسن کہتی ہیں کہ ضرورت اس بات کی ہے کہ نکاح نامے کی دستاویز کے ذریعے شوہر اور بیوی کے حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جائے۔میں ایسے بے شمار لوگوں کو جانتی ہوں جو نکاح نامے کی تمام شقوں کو بخوبی سمجھنے کے بعد اس پر دستخط کرتے ہیں۔ اس طرح وہ اپنے قانونی حقوق کا تحفظ کر رہے ہیں۔

Add Comment

Click here to post a comment