Home » ”امیر گھرانوں میں نرینہ اولاد زیادہ ہوتی ہے جبکہ غریب گھرانوں میں بیٹیاں پیدا ہونے کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں“
معلومات

”امیر گھرانوں میں نرینہ اولاد زیادہ ہوتی ہے جبکہ غریب گھرانوں میں بیٹیاں پیدا ہونے کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں“

”امیر گھرانوں میں نرینہ اولاد زیادہ ہوتی ہے جبکہ غریب گھرانوں میں بیٹیاں پیدا ہونے کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں“یہ اسٹیٹمنٹ کس کی ہو سکتی ہے؟ کسی انپڑھ شخص کی؟جی نہیں!یہ ایک سٹیٹمنٹ ارتقائی تھیوری کا حصہ ہے اور اب تک ہمیں اسی کے حق میں شواہد ملتے ہیں۔اصل سٹیٹمنٹ کیا ہے؟

ارتقائی تھیوری کی اس سٹیٹمنٹ کیمطابق، اگر والدین کی معاشی صورتحال مضبوط ہے اور ماں کو اچھی غذا مل رہی ہے تو اس بات کے امکانات زیادہ ہیں کہ اس معاشی اور سماجی حالت میں اسکے ہاں اگر حمل ٹھہرا تو وہ بیٹا ہوگا۔ یہ تھیوری اس بات کی طرف اشارہ دیتی ہے کہ بچقں کی جنس کا تعین نا صرف حیاتیاتی عوامل کرتے ہیں بلکہ ماحول بھی انکی جنس کے تعین میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ایسا کیوں ہے؟ارتقائی تھیوری کیمطابق وہ ماں جو اچھی صحت اور معاشی حالات رکھتی ہے وہ جب بیٹے پیدا کرے گی تو وہ بیٹے ایک اچھا ماحول پا کر صحتمند مرد بنیں گے اور وہ دشمنوں سے لڑنے کی صلاحیت زیادہ رکھیں گے۔ اور اس کے نتیجے میں وہ آگے بھی نسل بڑھانے کی صلاحیت زیادہ رکھیں گے۔جبکہ

غریب گھرانے میں پیدا ہونے والے لڑکے غذائی قلت کی وجہ سے کمزور ہی رہیں گے اور اس بات کا امکان زیادہ ہوگا کہ وہ دوسرے مردوں سے مقابلہ نہیں کر پائے گا اور اس کو اچھا سیکس پارٹنر نہیں مل سکے گا۔ اور اس بات کے نتیجے میں وہ اپنی نسل بہتر طریقے سے بڑھا نہیں پائیں گے۔ اور جلد فنا ہو جائے گا۔غربت کے ان حالات میں سب سے بہتر ارتقائی حالت یہی ہے کہ ایسا خاندان بیٹیاں پیدا کرے کیونکہ ان کو حاملہ ہونے کے لئے مقابلے کا سامنا نہیں کرنا پڑتا اور وہ بچہ پیدا کرکے نسل بڑھانے کے امکانات زیادہ رکھتی ہیں۔اگر ہم تاریخ کو پڑھیں تو پتا چلے گا کہ بادشاہوں کے ہاں بیٹوں کی پیدائش کی شرح بیٹیوں سے کہیں زیادہ ہے جارج III کے نو بیٹے اور چھ بیٹیاں جبکہ جارج پنجم کے پانچ بیٹے اور ایک بیٹی تھی۔ اسی طرح حالیہ ملکہ برطانیہ کے تین بیٹے اور ایک بیٹی ہے۔ اسی طرح ڈیوڈ بیکھم کے تین بیٹے ہیں اور انکے علاوہ بھی زیادہ تر مشہور سیلبرٹیز کے بیٹے بیٹیوں سے زیادہ ہیں۔مگر!

ضروری نہیں کہ ہر امیر گھرانہ بیٹے زیادہ رکھے۔ اس تھیوری میں کافی ایکسپشنز آ جاتی ہیں جیسا کہ ایڈورڈ اول نامی بادشاہ کی گیارہ بیٹیاں اور پانچ بیٹے تھے۔اس لئے، ارتقائی تھیوری کا مطلب یہ نہیں کہ یہ بہیوئر ہر خاندان میں موجود ہے بلکہ اس کا مطلب ہے کہ یہ بہیوئر زیادہ تر خاندانوں میں دیکھنے کو مل سکتا ہے اور جہاں نوے گھرانے اس تھیوری کے حق میں ہونگے تو وہیں دس گھرانے الٹ بھی ہو سکتے ہیں۔اس بات کی تصدیق کے لئے سنہ 2002 میں ڈچ محققین نے روانڈا کی 95 ہزار ماؤں کا مطالعہ کیا جس میں انہوں نے انکے سمجای ڈھانچے سے لیکر ان کے بچوں کی تعداد تک سب چیزوں کا مطالعہ کیا۔ چونکہ روانڈا میں ایک سے زیادہ شادیاں عام ہیں تو وہاں پہلی بیوی کو عموما دوسری یا تیسری بیوی سے بہتر سہولیات ملتی ہیں تو وہاں یہ بھی دیکھا گیا کہ وہ بیویاں جو پہلی ہیں ان کے ہاں نرینہ اولاد زیادہ پیدا ہو رہی ہے جبکہ دوسری اور تیسری بیویاں جن کو اچھی سہولیات میسر نہیں، انکے ہاں بیٹیاں زیادہ پیدا ہو رہی تھی۔

یہاں سب سے زیادہ تفریق تیسری اور چوتھی بیوی کی اولاد میں دیکھنے کو ملی، جن کے ہاں 106بیٹیوں کے بعد 100 بیٹوں کی شرح موجود تھی جبکہ ایک شادی والے گھرانے میں یہی شرح 99 بیٹیوں کے بدلے 100 بیٹوں کی تھی۔گو بچوں کی پیدائش میں عورت کا کوئی کردار نہیں لیکن ذہنی اور معاشی دباؤ ان کو مختلف طرح کی خطرناک باتوں سے گزارتا ہے حتی کہ ذہنی دباؤ والی خواتین میں مس کیرج زیادہ ہو سکتی ہے۔ روانڈا جیسے ملک چونکہ خط غربت میں کافی نیچے ہیں اس لئے یہاں پہ ایسی ارتقائی صورتحال کا فرسٹ ہینڈ علم ملنا کافی آسان ہے۔ اور ارتقاء کا چونکہ ایک بنیادی مقصد نسل کا آگے چلنا بھی ہے اس لئے یہ خود بخود ایسے ایسے کام بھی کروا دیتا ہے جو ہمارے علم میں نہیں آتے ۔

ضیغم قدیر

Add Comment

Click here to post a comment