Home » مولوی طبقہ اور قدرت کا نیا لائسنس
بلاگ

مولوی طبقہ اور قدرت کا نیا لائسنس

سچ پوچھیں تو بگاڑ بہت بڑھ چکا تھا، ہماری خلوتیں بے حیا ہوچکی تھیں، ہماری جلوتیں مکار بن چکی تھیں، ہماری استراحت خرمستیوں میں بدل چکی تھی، زبان ایسی بے قابو کہ گالی تک مدلل ہوچکی تھی، کردار ایسا بے لگام کہ ہر بے شرمی کا جواز تراشنے لگے تھے۔ ہم دین کو ہتھیار بنا چکے تھے، اس ہتھیار کو لے کر دن دھاڑے دندناتے پھرتے تھے، اسی کو لہرا کر احترام کا بھتہ وصول کرتے تھے۔ کوئی الجھتا تو تیوری چڑھا کر داڑھی پر ہاتھ پھیر لیتے، سوال کرتا تو عمامے کا شملہ سامنے کردیتے، مزید پوچھتا تو فتوی دکھا دیتے، اصرار کرتا تو لگا بھی دیتے۔

زندگی یونہی معمول پر تھی کہ اچانک کسی سسکتے ہوئے غریب کی آہ لگ گئی. یہ غریب کوئی مقتول تھا، پوسٹ مارٹم سے معلوم ہوا کہ موت “فتوے” کی چوٹ سے ہوئی ہے۔ یہ غریب کوئی قیدی تھا، انکوائری رپورٹ دیکھی گئی تو ہمارا “فتوی” نکل آیا۔ یہ غریب دوسرے مسلک کا کوئی “گستاخ” عالمِ دین تھا، منصف مزاجوں نے پڑھا تو تہمت “فتوے” کی تھی۔ یہ غریب کوئی سیاست دان تھا، جس کے زندگی کو “فتوے” کے نیزے پر چڑھایا گیا تھا۔

بس ادھر آہ نکلی، ادھر ہمارے دن پھر گئے۔ قدرت نے لگام کھینچ لی۔ اعلان ہوا کہ تمام القابات اور پیشانی کے جملہ نشانات کو اب سے منسوخ تصور کیا جائے۔ ٹارچ دے کر ہر چوک چوراہے میں ہرکارے کھڑے کردیے، حکم ہوا کہ ہر داڑھی والے کو روک لو، ہر عمامے والے کا لائسنس چیک کرو، جو میرا نام لے اسے ایک طرف کرلو، جو شرارت کرے اس کی گدی سینک دو، جو چالاکی کرے اس کے عمامے کو پٹکا بنا لو، جو فتوی دکھائے اسے اسی کے گلے کا طوق بنا دو۔

آگے وہی جائے گا جس پر تزکیے کی اوریجنل مہر ہو۔ جس کی دستار خلقِ خدا پر بوجھ نہ ہو، جس کا کردار مصنوعی چمک سے پاک ہو، جس کی گفتار آوازِ دوست ہو، جس کے مزاج میں متانت ہو، جمال عفت سے مزین ہو، جلال رعونت سے پاک ہو، ریاضت میں اخلاص ہو، کسی کو ہنستا دیکھے تو مسکرا دے، روتا دیکھے تو آنسو پونچھ لے۔ خلوت میں حیوان نہ بنے، جلوت میں فرشتے کی نقالی نہ کرے۔ سیدھا سادا سا انسان ہو۔ بس جو ایسا دکھے وہ میرا ہے۔ منادی کرادی گئی کہ ہر نیا لائسنس انہی کوائف پر ملے گا اور پرانا اسی کے مطابق رینیو ہوگا۔
تحریر : امیر حمزہ

Add Comment

Click here to post a comment