Home » مرنے کے بعد عذاب و راحت کا معاملہ کیا زمینی قبر میں ہوتا ہے ؟
اسلام

مرنے کے بعد عذاب و راحت کا معاملہ کیا زمینی قبر میں ہوتا ہے ؟

مرتے ہی انسان کی آخرت شروع ہو جاتی ہے عذاب قبر برحق ہے لیکن اس کا تعلق زمینی قبر سے نہیں عالم برزخ میں ہے ثُمَّ اِنَّكُمْ بَعْدَ ذٰلِكَ لَمَيِّتُوْنَ 15؀ۙثُمَّ اِنَّكُمْ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ تُبْعَثُوْنَ 16؀ ’’ پھر اس کے بعد تم مر جاؤگے،پھر تم قیامت کے دن اٹھائے جاؤ گے ۔‘‘ یعنی موت کے معنی روح اور جسم کی علیحدگی ہے اور اب یہ دور قیامت تک چلنا ہے یعنی قیامت سے قبل یہ جسم و روح نہیں ملیں گے۔اب دیکھا یہ جائے گا کہ اس جسم اور روح ساتھ علیحدہ علیحدکیا معاملہ پیش آتا۔

کیا گزری جسم پر؟؟( حالانکہ ) زمین ان کے جسم میں سے جو کچھ کھاتی ہے وہ سب ہمارے علم میں ہے اور ہمارے پاس ایک کتاب ہے جس میں سب کچھ محفوظ ہے(سورہ ق 4)✏رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا؛ “عجب الذنب کے سوا پورے ابن آدم ( کے جسم ) کو مٹی کھالے گی ۔ اسی سے انسان پیدا کیا گیا اور اسی ( آخری سرے ) سے پھر ( اسے جوڑ کر ) اکھٹا کیا جائے گا ۔ ” (صحیح مسلم)✏” آپ (ابوبکر رضی اللہ عنہ) نے فرمایا میرے اس کپڑے کو دھو لینا اور اس کے ساتھ دو اور ملا لینا پھر مجھے کفن انہیں کا دینا۔ میں نے کہا کہ یہ تو پرانا ہے۔ فرمایا کہ زندہ آدمی نئے ( کپڑے ) کا مردے سے زیادہ مستحق ہے ‘ یہ تو پیپ اور خون کی نذر ہو جائے گا”۔( صحیح بخاری)یعنی انسان جب مر جاتا تو اس کا جسم دنیا میں ہی رہتا۔جو گل سڑ جائے،یا دھماکوں کی نظر ہو جائے،یا ڈوب کے مر جائے،یا پرندے ہی اچک لے جائیں۔۔یا راکھ کا ڈھیر بن جائے،ٹھکانہ جسم کا یہی دنیا ہے۔

روح پر کیا گزری؟1) روح کا نکلنا۔۔/ ✏یہاں تک کہ وہ گھڑی آجائےگی جب ہمارے بھیجے ہوئے فرشتے ان کی روحیں قبض کرنے کے لیے پہنچیں گے ۔ اس وقت وہ ان سے پوچھیں گے کہ بتاؤ ، اب کہاں ہیں تمہارے وہ معبود جن کو تم اللہ کے بجائے پکارتے تھے؟ وہ کہیں گے کہ سب ہم سے گم ہو گئے ۔(سورہ ال عراف 37)✏کاش تم ظالموں کو اس حالت میں دیکھ سکو جب کہ وہ سکراتِ موت میں ڈبکیاں کھا رہے ہوتے ہیں اور فرشتے ہاتھ بڑھا بڑھا کر کہہ رہے ہوتے ہیں کہ لاؤ ، نِکالو اپنی جان ، آج تمہیں ان باتون کی پاداش میں ذِلّت کا عذاب دیا جائے گا جو تم اللہ پر تہمت رکھ کر ناحق بکا کرتے تھے اور اس کی آیات کے مقابلہ میں سرکشی دکھاتے تھے۔(سورہ الانعام 93)✏ہاں ، انہی کافروں کے لیے جو اپنے نفس پر ظلم کرتے ہوئے جب ملائکہ کے ہاتھوں گرفتار ہوتے ہیں تو ﴿سرکشی چھوڑ کر﴾ فورا ڈگیں ڈال دیتے ہیں اور کہتے ہیں ہم تو کوئی قصور نہیں کر رہے تھے ۔ ملائکہ جواب دیتے ہیں کر کیسے نہیں رہے تھے! اللہ تمہارے کرتوتوں سے خوب واقف ہے ۔(سورہ النحل 28)

2)روح پر عذاب کی سختیاں/✏کاش تم اس حالت کو دیکھ سکتے جب کہ فرشتے مقتول کافروں کی روحیں قبض کر رہےتھے ! وہ ان کے چہروں اور ان کے کولہوں پر ضربیں لگائے جاتے تھے اور کہتے جاتے تھے لو اب جلنے کی سزا بھگتو۔(سورہ انفال 50)✏پھر اس وقت کیا حال ہوگا جب فرشتے ان کی روحیں قبض کریں گے اور ان کے منہ اور پیٹھوں پر مارتے ہوئے انہیں لے جائیں گے۔(سورہ محمد 27)3)روح تو نکلی۔۔۔/ آخر گئی کس طرف؟اب دیکھو کہ ہماری روح جاتی کدھر ہے۔✏’’اور وہ اپنے بندوں پر غالب ہے اور تم پر نگہبان بھیجتا ہے یہاں تک کہ جب تم میں سے کسی کی موت آتی ہے تو ہمارے بھیجے ہوئے( فرشتے) اس کی روح قبض کرلیتے ہیں اور کوئی غلطی نہیں کرتے۔پھر تم پلٹائے جاتے ہو اللہ کی طرف جو تمہارا حقیقی مولی ہے اور وہ بہت جلد حساب لینے والا ہے۔‘‘ (سورہ الانعام 61-62)✏’’ اللہ روحوں کو قبض کرلیتا ہے عین ان کی موت کے وقت، جو نہیں مرے ان کی سوتے ہوئے، پھر روک لیتا ہے اس کی روح جس کی موت کا فیصلہ ہوجائے اور چھوڑ دیتا ہے باقی روحوں کو ایک طے شدہ وقت تک کے لئے، بے شک اس میں نشانیاں ہیں غور و فکر کرنے والوں کے لئے۔( الزمر : ۴۲ )✏’’ یہاں تک کہ ان میں سے کسی ایک موت آتی ہے ( تو) کہتا ہے اے میرے رب مجھے واپس لوٹا دے، تاکہ میں نیک عمل کروں جسے میں چھوڑ آیا ہوں، ( اللہ تعالی فرماتا ہے ) ہزگز نہیں، یہ تو محض ایک بات ہے جو یہ کہہ رہا ہے ، اور ان سب کے پیچھے ایک آڑ ہے اٹھائے جانے والے دن تک -(المومنون 99.100)

یعنی زندگی کے اس دور کے بعد موت کا دور شروع ہوتا ہے، مٹی سے بنے اس جسم سے روح نکال لی جا تی اور اللہ تعالی کے پاس لے جائی جاتی ہے ۔ اللہ تعالی اس روح کو قیامت تک کے لئے روک لیتا ہے ۔ کچھ لوگ گمراہ کرتے ہیں کہ بد روح ہو تو وہ اسی دنیا میں سمندر کی طرف پلٹ دی جاتی ہے اور نیک روح اوپر کی طرف جاتی ہے۔جبکہ مالک کی آیات واضح ہیں۔۔۔روح جیسی بھی ہو۔۔۔جاتی اوپر ہی ہے۔

5)روح کا ٹھکانہ کیا ٹھرتا؟معزز عزت مند زرا غور فرمائیں۔✏ان متقیوں کو جن کی روحیں پاکیزگی کی حالت میں جب ملائکہ قبض کر رہے ہوتے ہیں تو کہتے ہیں سلام ہو تم پر ، جاؤ جنت میں اپنے اعمال کے بدلے۔(سورہ النحل 32)کیا کہا؟داخل۔ہو جاو جنت میں۔۔✏ہاں ، انہی کافروں کے لیے جو اپنے نفس پر ظلم کرتے ہوئے جب ملائکہ کے ہاتھوں گرفتار ہوتے ہیں تو ﴿سرکشی چھوڑ کر﴾ فورا ڈگیں ڈال دیتے ہیں اور کہتے ہیں ہم تو کوئی قصور نہیں کر رہے تھے ۔ ملائکہ جواب دیتے ہیں کر کیسے نہیں رہے تھے! اللہ تمہارے کرتوتوں سے خوب واقف ہے

اب جاؤ ، جہنم کے دروازوں میں گھس جاؤ ۔ وہیں تم کو ہمیشہ رہنا ہے ۔ پس حقیقت یہی ہے کہ بڑا ہی برا ٹھکانہ ہے متکبروں کے لیے(سورہ۔النحل 29،28) کدھر؟ جہنم میں۔✏( آخر کار ان لوگوں نے اسے قتل کر دیا اور ) اس شخص سے کہہ دیا گیا کہ داخل ہو جا جنت میں ۔ اس نے کہا کاش میری قوم کو معلوم ہوتا(سورہ یس 26)کہاں؟ جنت میں۔۔✏اللہ کافروں کے معاملہ میں نوح ( علیہ السلام ) اور لوط ( علیہ السلام ) کی بیویوں کو بطور مثال پیش کرتا ہے ۔ وہ ہمارے دو صالح بندوں کی زوجیت میں تھیں ، مگر انہوں نے اپنے ان شوہروں سے خیانت کی اور وہ اللہ کے مقابلہ میں ان کے کچھ بھی نہ کام آسکے ۔ دونوں سے کہہ دیا گیا ہے کہ جاؤ آگ میں جانے والوں کے ساتھ تم بھی چلی جاؤ(سورہ التحریم 10)کیا کہا؟ آگ میں جانے والوں کے ساتھ تم دونوں بھی۔۔حلانکہ ابھی قیامت نہیں آئی۔۔مگر روح کا ٹھکانہ جنت یا جہنم ہی ٹھر رہا۔۔✏’’ اور جو اللہ کی راہ میں مارے جائیں انہیں مردہ گمان نہ کرو بلکہ وہ زندہ ہیں ، بلکہ وہ اپنے رب کے پاس زندہ ہیں رزق پاتے ہیں۔ ‘‘ ( آل عمران : ۱۶۹ )✏اپنی خطآؤں کی بنا پر ہی وہ غرق کیے گئے اور آگ میں جھونک دیے گئ ، پھر انہوں نے اپنے لیے اللہ سے بچانے والا کوئی مددگار نہ پایا۔(سورہ نوح 25)

اسی طرح۔۔۔✏دوزخ کی آگ ہے جس کے سامنے صبح و شام وہ پیش کیے جاتے ہیں ، اور جب قیامت کی گھڑی آ جائے گی تو حکم ہوگا کہ آل فرعون کو شدید تر عذاب میں داخل کرو(سورہ مومن 56)کیا کہا؟زرا غور کیجئے۔۔۔۔کہ ابھی تو پیش کیے ہی جاتے ہیں صبح و شام مگر قیامت کے بعد تو شدید تر عذاب میں داخل کر دیئے جائیں گے۔مگر ۔۔۔فرعون کا جسم تو عجائب گھر میں پڑا ہوا۔۔۔اور مالک کیا کہہ رہا؟ کہ آگ میں پیش کیے جاتے ہیں۔
جی۔۔۔تو یہی حق بات بھی ہے کہ عذاب و را حت کا معاملہ روح ساتھ ہونا ہوتا۔۔۔اور جسم ہمارا اس دنیا میں ہی رہ جاتا.

6)روح کیا قیامت سے پہلے جسم میں لوٹ سکتی ہے؟تو زرا غور کیجئے۔۔۔✏”وہ کہیں گے اے ہمارے رب! موت دی تو نے ہمیں دوبار اور زندہ بھی کیا تو نے ہمیں دوبار “(سورہ مومن 11)۔۔مگر دو دو بار کیسے۔۔۔؟✏”کیسے کفر کا رویہ اختیار کرتے ہو تم اللہ کے ساتھ،حلانکہ تھے تم بے جان پھر زندگی عطا کی اس نے تمہیں پھر وہی موت دے گا تمہیں پھر وہی زندہ کرے گا تمہیں، پھر اسی کی طرف تم لوٹائے جاو گے”(سورہ البقرہ 28)یعنی1-تھے تم بے جان(پہلی موت)2-پھر زندگی عطا کی(پہلی زندگی)3-پھر موت دی(دوسری موت)4-پھر وہی زندہ کرے گا(دوسری زندگی)اب اگر یہ کہا جائے کہ قیامت سے پہلے روح واپس دنیاوی قبر میں لوٹ آتی ہے۔۔جسم ساتھ مل جاتی ہے۔۔۔مردہ ذندہ ہو جاتا تو یہ کفر کی انتہا ہو گی۔

جبکہ مالک کہتا کہ۔۔۔✏پھر اس کے بعد تم مر جاؤگے،پھر تم قیامت کے دن اٹھائے جاؤ گے ۔(سورہ المومنون 23)کیونکہ اگر ایسا مانا جائے کہ روح واپس آ جاتی ہے جسم میں تو پھر تو یوں 3 موتوں اور 3 زندگیوں والا حساب ہو جاتا۔۔۔کیونکہ مالک نے کہا کہ قیامت کے روز تمہیں زندہ کیا جائے گا۔۔۔۔اگر ہم (دوسری موت) یعنی دفنانے کے بعد ہی زندہ (دوسری زندگی)ہو جائیں اور پھر قیامت کے روز بھی زندہ ہونا پڑے تو ظاہر ہے ایک بار پھر(یعنی تیسری )دفعہ موت آئے گی۔۔۔اور ہم پھر قیامت کے روز(تیسری دفعہ) زندہ ہوں گے۔۔۔۔جوکہ قرآن کہ تعلیم کے باکل منافی ہے۔۔۔۔۔قرآن تو بس یہی کہتا کہ روح قیامت سے پہلے دنیاوی جسم میں ہرگز نہیں لوٹائی جاتی! جسم مٹی ساتھ مٹی ہو جاتا۔اور روح کو جنت اور جہنم میں اسکے ٹھکانے پر عذاب و راحت کا معاملہ پیش آتا۔

Add Comment

Click here to post a comment