Home » لنڈا بازار
کالمز

لنڈا بازار

اسلام آباد ایک جدید شہر ہے۔ ملک کا دارالحکومت ہے ۔ کاروباری مراکز کی چکا چوند دیکھنے سے تعلق رکھتی ہے ۔ طرح طرح کے برانڈز گاہک کو لبھانے کے لیے سارے حربوں سمیت موجود ہیں ۔ شاپنگ مالز کی بہتات ہے اور ہر مال بقعہ نور بنا ہوتا ہے۔ اس نمود و نمائش اور آسمان کو چھوتی قیمتوں کے طوفان بد تمیزی میں کوئی چیز خریدنی پڑ جائے اور خوش قسمتی سے جیب اس کی مکمل اجازت دیتی ہو تو آدمی کی ترجیح کیا ہوتی ہے، یہ ایک شرمناک کہانی ہے ۔ آئیے میں آپ کو اس امید پر یہ کہانی سناتا ہوں کہ شاید کسی کو شرم آ جائے۔

اسلام آباد میں چھ ٹریل ہیں ۔ پہاڑوں میں گھومنے کے لیے آپ کوبہترین قسم کے جاگرز چاہییں ۔ آپ مجھ سے پوچھیں کہ ایک پائیدار ، آرام دہ اور مضبوط جوتا لینا ہے تو میں آپ کو کسی شاپنگ مال ، کسی مارکیٹ اور کسی برینڈ پر جانے کا مشورہ نہیں دوں گا۔ میں آپ سے عرض کروں گا کہ پشاور موڑ اتوار بازار کے لنڈے میں چلے جائیں ، آپ کو آپ کی ضرورت کے مطابق ایسا جوتا مل جائے گا کہ پہن پہن کر آپ اکتا جائیں گے ،اس کا کچھ نہیں جائے گا۔

آپ یہ سن کر مجھے بتائیں کہ آپ کے پاس اللہ کا دیا بہت کچھ ہے اور آپ مہنگا ترین جوتا خرید سکتے ہیں اس لیے قیمت سے بے نیاز ہو کر آپ کو مشورہ دیا جائے تو پھر بھی میرا جواب یہی ہو گا کہ آپ لنڈا بازار چلے جائیں ۔ کیونکہ جس کوالٹی کا بوٹ اور جاگر وہاں دستیاب ہے ، وہ پانچ گنا قیمت پر بھی اسلام آباد کی کسی مارکیٹ میں موجود نہیں ہے۔

اسلام آباد کا ساون بہت شدید ہوتا ہے اور موسم کا کوئی اعتبار نہیں ہوتا ۔ ابھی دھوپ تو ابھی بارش ، موسم کی کروٹ کا کچھ پتا نہیں چلتا ۔ گاڑی میں چھتری کا ہونا ضروری ہے۔ آپ کہیں آپ کو بجٹ کا پرابلم نہیں لیکن آپ ایک ایسی چھتری چاہتے ہیں تو پائیدار ہو ، تیز ہوا کے تھپیڑوں میں جس کی الائنمنٹ خراب نہ ہو، جو چھاجوں برستی تند بارش میں ٹوٹ پھوٹ نہ جائے تو میں آپ سے عرض کروں گا کہ اتوار بازار کے لنڈے میں چلے جائیے۔ ایسی چھتری ملے گی کہ وافر بجٹ کے خمار میں آپ کوپورے اسلام آباد کے سارے شاپنگ مالزاور تمام مارکیٹوں کی خاک چھان کر بھی یہ معیار ہاتھ نہ آئے۔

اسلام آباد کا جاڑا بھی سخت ہوتا ہے۔ سر شام سرد ہوائیں وجود میں اتر جاتی ہیں۔ ایسے میں آپ کو کسی شاندار جیکٹ یا کوٹ کی تلاش ہے۔ جسے پہن کر ہی نہیں دیکھ کر بھی لطف آ جائے۔ آپ سارے مالز اور ساری مارکیٹیں چھان ماریں آپ کو ’’ نمونے‘‘ تو بھانت بھانت کے نظر آ جائیں گے لیکن مطلوبہ چیز نہیں ملے گی۔ مطلوبہ چیز آپ کو صرف اتوار بازار کے لنڈے سے ملے گی۔

آپ کے موبائل کا چارجر خراب ہو چکا ہے۔ مارکیٹ سے آپ فاسٹ چارجز کے نام پر جو چیز اٹھا لائے ہیں وہ بھی فون چارج کرنے میں گھنٹہ لگا دیتی ہے۔ آپ تنگ آ کر بلیو ایریا کے کمپنی آئوٹ لٹ سے خاصا مہنگا چارجر لے آئے ہیں لیکن وہ بھی غیر معیاری نکلتا ہے۔ آپ موبائل چارجنگ پر لگا کر اس کا منہ دیکھتے رہتے ہیں کہ کبھی تو یہ چارج ہو ہی جائے گا۔ اس صورت میں حل کیا ہے؟ کسی چمکتی دمکتی مارکیٹ میں جا کر ایک اور تجربہ کرنے سے بہتر ہو گا آپ لنڈا بازار چلے جائیں۔ آپ کو لگ پتا جائے گا کہ اچھا چارجر ہوتا کیا ہے اور اسکی چارجنگ کتنی ’ کوئک‘ ہوتی ہے۔

آپ کو سفر درپیش ہے اور آپ کو ایک نیا بیگ چاہیے ۔ آپ میری طرح نیپال جانے کے لیے ایک دمکتے مال سے ایک مہنگا ہینڈ کیری لیتے ہیں جو کٹھمنڈو ایر پورٹ پر بلاوجہ ہی ٹوٹ جاتا ہے ۔اب آئندہ کے لیے آپ کو ایک پائیدار چیز درکار ہے۔آپ کو کسی مارکیٹ یا مال میں جا کر وقت ضائع کرنے کی ضرورت نہیں۔ آپ کو پہلی فرصت میں لنڈا بازار جانا چاہیے۔ ایسا بیگ ملے گا کہ وقت کے ہاتھوں آپ گھس جائیں گے لیکن بیگ نہیں گھسے گا اور آپ ایک دن اسے صرف اس لیے پھینک دیں گے کہ اس کی شکل دیکھ دیکھ کر آپ اکتا چکے لیکن یہ کم بخت کہیں سے ٹوٹنے کا نام نہیں لیتا۔

اسلام آباد کی مارکیٹیں کھلونوں سے بھری پڑی ہیں۔ انتہائی مہنگا کھلونا بھی اٹھا لیا جائے تو اس کا پلاسٹک اتنا ناقص ہوتا ہے کہ دل کو ہول آتا ہے کہ خدا جانے کس خوفناک ری سائیکلنگ سے بنا ہو۔ لیکن لنڈا بازار میں ایسا ایسا کھلونا دستیاب ہے جس کی پلاسٹک کی کوالٹی ہمارے ہاں بعض کاروں کے انٹیریر میں بھی نہیں ہوتی۔

لنڈا بازار معیار کا دوسرا نام ہے ۔ بس آپ کو یہاں سے خریداری کا فن آنا چاہییے۔ اگر آپ بابو لوگ بن کر جائیں گے یا مختصر وقت میں ونڈو شاپنگ کے لیے جائیں گے تو دکاندار آپ کی ’ شکنجوین‘ بنا کر پی جائے گا اور آپ ساری عمر دوستوں کو سمجھاتے رہیں گے کہ ’ طوطیا ، من موطیا ، اس گلی نہ جا‘‘۔ لیکن اگر آپ اپنی گونا گوں مصروفیات میں سے وقت نکال کر گاہے گاہے مطالعاتی دورے پر بلا مقصد لنڈا بازار آتے جاتے ہوں تو آپ یہاں سے مرادیں پا سکتے ہیں ۔ بنیادی اصول یاد رکھیے کہ آپ جو چیز خاص طور پر خریدنے لنڈا بازار جائیں گے وہ چیز کبھی آپ کو وہاں سے نہیں ملے گی۔

اسلام آباد میں دو عشروں سے زائد وقت کا حاصل یہ ہے کہ یہاں سے کچھ معیاری نہیں مل سکتا ۔ چیزیں یا تو بیرون ملک کسی دوست سے منگوائیے یا لنڈے سے خریدیے۔ عالم یہ ہے کہ ادویات بھی اگر بیرون ملک سے منگوائی جائیں تو ان کی اثر پزیری کا عالم مختلف ہوتا ہے۔

سوال اب یہ ہے کہ جو معیار غیر مسلموں کی بنائی ہوئی چیزوں کا ہے وہ معیار اسلامی جمہوریہ پاکستان میں کیوں دستیاب نہیں ؟ ہمارے ہاں تو برانڈز کا معیار بھی ناقص ہے شاید انہیں بھی سمجھ آ گئی ہے کہ یہ مارکیٹ صرف مال غنیمت کے لیے ہے۔

کورونا ویکیسن کی ’ چپ‘ کے خطرے کے خلاف تواسلامی جمہوریہ پاکستان کے ماہرین بقلم خود سوشل میڈیا سونت کر کھڑے ہیں لیکن اپنے وجود میں بے ایمانی کی جو چپ ہم نے خود ڈال رکھی ہے اس کا کہیں کوئی احساس ہی نہیں۔

Add Comment

Click here to post a comment