Home » کیا زندگی کا کوئی مقصد ہے؟
اسلام

کیا زندگی کا کوئی مقصد ہے؟

دورِ حاضر میں سائنس کی بے شمار ایجادات نے جہاں پوری دنیا کو مادی طور پر یکسر تبدیل کر دیا ہے وہیں اس کا عکس مذہب پر بھی پڑا ہے۔ ایسے مذاہب جو دورِ حاضر میں ثابت شدہ سائنس یعنی Established Science سے یکسر متصادم ہیں ان کے ماننے والے تیزی سے یا تو دہریت کی جانب گامزن ہیں یا اسلام کی جانب۔ دہریت یعنی atheism میں کوئی فلسفہءحیات نہیں ہے لیکن اسلام کیونکہ دین ہے لہذا اس کا نہ صرف فلسفہءحیات ہے بلکہ نظام بھی ہے۔

دہریت میں سب کچھ حادثاتی طور پر رونما ہوتا ہے کسی مقصد کے تحت نہیں ہوتا۔ دہریت میں خدا کا وجود بھی تسلیم نہیں کیا جاتا لہذا کائنات کا نہ کوئی بنانے والا ہے نہ ہی چلانے والا تسلیم کیا جاتا ہے۔ یعنی زندگی میں آپ کچھ کریں یا نہ کریں، اس سے کچھ فرق نہیں پڑتا کیونکہ ہم سب اور یہ ساری کائنات مختلف ایٹمز کے مل جانے سے حادثاتی طور پر وجود میں آئی ہوئی ہے۔ کسی کی مدد کرنے سے، انسانیت کے لیے فلاحی کام کرنے سے زندگی کے معنوں پر کچھ فرق نہیں پڑتا بلکہ دہریت میں یہ انسان اپنے لیے کرتا ہے کیونکہ اس سے اسے خوشی حاصل ہو سکتی ہے۔ مگر یہ بھی جدید دہریت New Atheism کا مفروضہ ہے اور دہریت کا اپنا موقف یہی ہے جو فریڈرک نیتشے نے بیان کیا ہے کہ کسی امر کا کوئی بھی مقصد نہیں ہے، سب کچھ بے معنی ہے۔ نہ اخلاقیات کوئی شے ہے نہ ہی فلسفہء حیات کوئی چیز۔ دہریت میں ڈارونزم کو ہی تخلیق کا ماڈل تصور کیا جاتا ہے، بلکہ صرف تصور نہیں کیا جاتا اس پر ایمان کی حد تک یقین کیا جاتا ہے۔ دہریت سے منسلک اکثر لوگ ڈارونزم کو نہیں سمجھتے مگر اس پر بالکل یقین رکھتے ہیں صرف اس وجہ سے کہ دوسری جانب مذہب ہے جس پر وہ یقین کرنا نہیں چاہتے اور اس کی ضد میں جو بھی ہوگا، وہ اسے ماننے کے لیے تیار ہوں گے۔ آپ ایک مشق کیجیے، مختلف دہریوں سے انسان کی تخلیق کے حوالے سے گفتگو کیجیے تو آپ جان جائیں گے کہ وہ ڈارونزم کی بنیاد پر خدا کا انکار تو کر دیں گے مگر جب ان سے پوچھا جائے کہ ڈارونزم کو بیان کریں تو وہ ایک دو اصطلاحات اور ایک دو کتابوں کے نام بتا دیں گے مگر ڈارونزم کو سمجھا نہیں پائیں گے۔ یقیناََ ایسے لوگ بھی ہوں گے جو سمجھا پائیں گے مگر میرا اشارہ اکثریت کی جانب ہے۔

ڈارونزم میں انسان کی تخلیق کیسے ہوئی، اسے بیان نہیں کیا جاتا بلکہ انسان موجود حالت میں کس طرح ارتقاء کے ذریعے پہنچا ہے اسے بیان کیا جاتا ہے۔ یعنی یہ بیان کیا جاتا ہے کہ زندگی کا آغاز جس طرح بھی ہوا وہ انجان ہے مگر وہ ایک خلیے کے جاندار یعنی unicellular organism سے ہوتے ہوئے آج اس حد تک پھیل گئی ہے کہ انسان جیسی پیچیدہ مخلوق بھی اس ایک خلیے سے ارتقاء کرتے کرتے وجود میں آ چکی ہے۔ انسان بندروں کے ایک گروپ جسے پرائیمیٹ Primate کہتے ہیں، سے ارتقاء کرتے کرتے موجودہ حالت میں آیا ہے۔ کیونکہ سب مخلوقات ایک ہی خلیے سے بنی ہیں لہذا سب کی سب ایک جیسی وقعت رکھتی ہیں کسی کو کسی پر کچھ فوقیت نہیں۔ سب محض خلیوں کی مختلف arrangements ہیں اور کچھ نہیں۔ لہذا زندگی کا کوئی مقصدر نہیں اور مقصد نہیں تو فلسفہ بھی نہیں۔ دورِ حاضر کے دہریے فریڈرک نیتشے کی طرح دہریت کے نتیجے یعنی مقصد کا نہ ہونے کو تسلیم کرنے کو تیار نہیں ہیں۔ دورِ حاضر کے دہریے New Atheists کہتے ہیں کہ زندگی کا اگرچہ کوئی ایک بنیادی مقصد نہیں ہے مگر ہر فرد اپنے طور پر اپنا مقصد بنا کر زندگی گزار سکتا ہے۔

جدید دہریت کا یہ مفروضہ بہت ہی عجیب ہے کیونکہ جب کوئی خالق نہیں، کوئی معنی نہیں تو پھر مقصد کیوں بنایا جائے؟ جب انسان بھی ایک جانور ہی ہے تو باقی جانوروں کو تو مقصد کی ضرورت نہیں اور نہ ہی وہ زندگی میں کوئی مقصد بناتے ہیں تو پھر انسان کیوں مقصد بنائے جبکہ ڈارونزم کے مطابق انسانی زندگی محض بقاء یعنی survival اور افزائشِ نسل یعنی reproduction کی جدوجہد ہے اور کچھ نہیں۔ ڈارونزم انسان کی consciousness کی وضاحت نہیں کر سکتی اور ظاہر ہے کہ جب consciousness کی وضاحت نہیں کر سکتی تو پھر اس consciousness کی بنیاد پر تخلیق کیا گیا کوئی بھی مقصد ڈارونزم میں کیسے واضح کیا جا سکتا ہے؟

اب ہم اسلام کے فلسفہءحیات پر نظر دوڑاتے ہیں جو بالکل بھی پیچیدہ نہیں۔ اسلام کا فلسفہ ہے لا الہ الا اللہ یعنی ایک خدا کے سامنے مکمل سرِ تسلیم خم کیونکہ جو کچھ تھا اور ہے وہ اسی کا ہے اور جو کچھ ہوگا اسی کا ہوگا۔ یہ فلسفہ اتنا سادہ ہے کہ سمجھنے میں بہت آسان مگر اپنے اندر اتنی جامعیت رکھتا ہے کہ اس کا احاطہ کرنے کے لیے کتابوں کی کتابیں تصنیف کی جاسکتی ہیں۔ وجہ اس کی یہ ہے کہ لا الہ الا اللہ کا فلسفہ انسان کی ساری زندگی کا احاطہ کرتا ہے اور کوئی جہت اس کے احاطے سے باہر نہیں ہے اور انسانی زندگی کی بے تحاشا تشریحات اور تعبیرات ہیں۔

کوئی بھی فلسفہءحیات ہو، اس کی بنیاد ہمیشہ مقصد ہوتا ہے۔ مقصد کے بغیر فلسفہ کھڑا نہیں ہو سکتا۔اسلام کا فلسفہءحیات بھی ایک مقصدِ حیات پر کھڑا ہے اور وہ مقصد ہے اللہ کی دی ہوئی خلافت کو نبھانا۔ اللہ کہتا ہے کہ “جب تمھارے رب نے فرشتوں سے کہا کہ بیشک میں زمین پر ایک خلیفہ بنانے والا ہوں”(1)۔ انسان کو ایک مقصد عطا کیا گیا ہے اور اس مقصد کی تکیمل کے لیے اسے مادی اور غیر مادی دونوں طرح کے وسائل یعنی tools عطا کیے گئے ہیں۔ مادی قوتوں اور خزانوں سے زمین کو بھر دیا گیا ہے اور خود انسان کو تمام مخلوقات میں سب سے زیادہ consciousness عطا کی گئی ہے۔ یہ consciousness بھی عطا کردہ یعنی innate ہے۔ بالکل اسی طرح ہمارے اندر صحیح اور غلط کی پہچان کے لیے ایک قطب نما یعنی compass پہلے سے موجود ہے۔ اس کے علاوہ ہمیں آسمانی وحی یعنی خدا کے براہِ راست کلام سے بھی نوازا گیا ہے جس کے ذریعے مقصد کی مزید وضاحت ہوتی ہے اور صحیح اور غلط کی پہچان اپنی تکمیل کو پہنچتی ہے۔ اس کے ذریعے سے بنی نوع انسان میں نظم و ضبط پیدا ہوتا ہے اور نہ صرف ایک فرد اپنی زندگی کی sense بنا پاتا ہے بلکہ پورا معاشرہ ایک مشن پر گامزن ہو جاتا ہے۔ زندگی جینے کی سمت متعین ہو جاتی ہے۔ اور وہ مشن ہوتا ہے خالق کی مکمل اطاعت، ایک دوسرے کی خدمت اور تسخیرِ کائنات جو کہ خلیفہ ہونے کا ایک تقاضا ہے۔دہریت سے بالکل متضاد اسلام نہ صرف ایک مضبوط مقصد کا دعویدار ہے بلکہ ایک مضبوط فلسفہءحیات کا داعی بھی ہے۔ اسی طرح دہریت کی جدید قسم new atheism میں جہاں ہر کوئی اپنا الگ بنیادی مقصد بنائے گا، اسلام میں اس کے متضاد تمام انسانوں کا بنیادی مقصد ایک ہی ہوگا وہی مقصد جو سیدنا آدم علیہ السلام کا تھا، اللہ کی خلافت کے امر کو انجام دینا۔

جب تک انسان کو اس کا مقصد واضح نہیں ہوتا وہ فلسفہءحیات تک نہیں پہنچ سکتا کیونکہ مقصد کے بغیر جو بھی فلسفہ ہو گا و بودا ہوگا۔ اسی لیے مسلمان کے لیے لازم ہے کہ وہ سب سے پہلے اپنے مقصد کی سمجھ میں غلط فہمیوں کا ازالہ کرے۔ مقصد دو نہیں ہو سکتے، ایک ہی ہوگا۔ اگر دو بنیادی مقصد ہو گئے، جیسا کہ بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں ہو رہا ہے تو دو مختلف فلسفہءحیات کھڑے ہو جائیں گے جو آپس میں ٹکرائیں گے جس کے نتیجے میں انسان کی نفسیات میں فلسفیانہ تفاوت یعنی philosophical dissonance پیدا ہوگی اور شدید ذہنی کرب و اذیت سے گزرنا پڑے گا حتی کہ identity crisis سے لیکر existential crisis تک کا سامنا کرنا پڑے گا۔

اسی لیے مسلمان کو خاص طور پر نوجوان مسلمان کو اسلام کا فلسفہءحیات واضح ہونا انتہائی ضروری ہے ورنہ زندگی کو بے معنی سمجھ بیٹھے گا مگر درحقیقت تو وہ بے معنی نہیں ہو گی بلکہ اس کا اصل مقصد تو اپنی جگہ مسلم رہے گا۔ زندگی وقت کی قید میں پابند ہے۔ ہمارے یہ چاہنے سے کہ وقت تھم جائے، وقت نہیں تھم سکتا۔ ہمارے یہ چاہنے سے کہ موت کبھی نہ آئے زندگی ابدی نہیں ہو سکتی کیونکہ کائنات کا ایک مقصد ہے اور نظام ہے جس کو disrupt نہیں کیا جا سکتا۔ موت اٹل حقیقت ہے اور فلسفہءاسلام میں موت کے بعد زندگی اس سے بھی بڑی اٹل حقیقت ہے جو کہ موجودہ زمان و مکان کی قید میں پابند نہیں ہو گی۔ جس میں فقط زندگی ہے اور موت نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مسلمان کے پاس اسلام کو قبول کرتے ہوئے اس حقیقت سے فرار ممکن نہیں کہ فلسفہءحیات اسلام ہی ہے۔ ہاں دہریت کی اور بات ہے جیسا کہ پہلے عرض کیا ہے۔

زندگی کا فلسفہ واضح ہو جانے سے کیا ہوگا؟ بہت کچھ۔ آپ پر کنفیوژن کا جو بوجھ ہے وہ اتر جائے گا اور آپ کو زندگی کی sense بننا شروع ہو جائے گی۔ آپ کو اللہ کی قدرت کا احساس ہونے لگے گا اور ساتھ ہی آپ کی نظر اللہ کی منشاء پر بھی جانے لگے گی۔ آپ کو یہ سمجھ آنا شروع ہو جائے گا کہ اب آپ کے ساتھ زندگی میں فلاں واقعہ پیش آنے کے پیچھے کیا ہو سکتا ہے اور فلاں وقت میں فلاں واقعہ یا مصیبت کیوں طاری ہوئی تھی۔

یاد رکھیے سب سے بڑی بے چینی تب پیدا ہوتی ہے جب مسافر کو یہ نہ پتہ ہو کہ کہاں سے آ رہا ہوں اور کہاں جا رہا ہوں اور دورانِ سفر مجھے کرنا کیا ہے۔ اسلام کا فلسفہءحیات ان تینوں سوالات کا احاطہ کرتا ہے اور شکوک و شبہات کے بتوں کو لا الہ الا اللہ کی صدا سے توڑ دیتا ہے۔ نتیجتاََ انسان کی قوتِ ارادی میں ایک عظیم انقلاب برپا ہوتا ہے جس سے ایک بے خوف زندگی کا آغاز ہو تا ہے جو اللہ کے تمام نبیوں کی سنت رہی ہے،اگر کسی غیر مسلم کو بھی فلسفہءحیات واضح ہو جائے تو اس میں عزم و ہمت پیدا ہو جااتے ہیں اور مسلمان کو اس کا فلسفہءحیات واضح ہو جائے تو پھر وہی ہوتا ہے جسے اقبال نے کہا ہے کہ

توڑ ڈالیں جس کی تکبیریں طلسمِ شش جہات ایسے ہی لوگوں کے لیے اللہ نے کہا ہے کہ ” جو لوگ کھڑتے ہوئے، بیٹھے ہوئے اور اپنے پہلووں کے بل اللہ کو یاد کرتے ہیں اور آسمانوں اور زمین کی تخلیق میں غور و فکر کرتے ہیں، (کہتے ہیں کہ) اے ہمارے رب تو نے یہ سب بیکار تو نہیں پیدا کیا۔ تو پاک ہے، تو ہمیں آگ کے عذاب سے بچا لے۔”(2)

حوالہ جات:

(1) ۔ سورۃ البقرۃ آیت نمبر 30

(2) ۔ سورۃ آلِ عمران آیت نمبر 191 See less

Add Comment

Click here to post a comment