Home » کیا تم جانتے ہو کہ اعتماد کسے کہتے ہیں ؟
اسلام

کیا تم جانتے ہو کہ اعتماد کسے کہتے ہیں ؟

کیا تم جانتے ہو کہ اعتماد کسے کہتے ہیں ؟ ہاتھ میں ہاتھ دینے کو جیسے حسن بن علی رضی اللہ عنہ نے اور جیسے حسین بھی علی رضی اللہ عنہ نے امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے ہاتھ میں ہاتھ دیا تھا۔اعتماد کہتے ہیں سپردگی کو، جیسے ابن خطاب رضی اللہ عنہ نے شام کی امارت ابن ابی سفیان کے سپرد کی تھی۔ جیسے محمد کریم ﷺ نے معاویہ رضی اللہ عنہ کو کتابت قرآن کا امین بنایا تھا، اور کبھی سوچئے کہ کیا کائنات کی سب سے عظیم امانت کا رکھوالا دنیا کا سب سے بڑا امین نہیں ہوگا ؟

آپ پوچھتے ہو کہ سرداری ہوتی کیا ہے؟ادھر آؤ میں بتاتا ہوں، مکہ کی فتح کا منظر ہے، جان کے دشمن کپکپا تے ہیں، پریشان ہیں، پتھر مارنے والے آج اپنی جان کی خیر مناتے ہیں، مگر یہ کیا؟ اعلان ہوا کہ معاویہ کے باپ کے گھر میں داخل ہو جئیے سب خطائیں معاف، پناہ مل جاوے گی۔ارے سردار اس کو کہتے ہیں، جس کے گھر آنے والے جاں کے دشمن کو بھی معاف کردیا جائے۔ابوسفیان کے بیٹے کو بھی اللہ نے سردار ہی بنایا تھا، ان کو دیکھنے والوں کی نگاہوں میں رسول اللہ ﷺ کا زمانہ گھوم جاتا تھا، ابن عمر رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے :

ما رایت بعد رسول اللہ ﷺ اسود من معاویۃ رضی اللہ عنہ” میں نے رسول اللہ ﷺ کے بعدمعاویہ سے زیادہ پر شوکت دیکھا ہی نہیں۔” تاریخ دمشق لابن عساکر، 59/173، وسندہ صحیح حکومت بھلا کیا ہوتی ہے؟ کیا تم جانتے ہو کہ اصل حکومت دلوں کی حکومت ہوتی ہے، وہ حکومت جو دلوں سے محبت کجھینچ لائے، جس کے لئے دلوں کی تہوں سے دعاؤں کے قافلے سفر کریں،🤔

اماں عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں :” فتنے کے دور میں میری تمنا رہی کہ اللہ میری عمر بھی معاویہ کو لگا دے۔” الطبقات لابی عروبہ حرانی، ص 41، وسندہ صحیح گویا اماں کہتی ہوں گی، جگ جگ جیویں اور میرے مٹھڑے لال کسک، ہڑک، تڑپ؟ تم نے بڑی تعریفیں کی ہوں گی، سنی ہوں گی، پڑھی ہوں گی، ملاحظہ کی ہوں گی، مشاہدہ کیا ہوگا : لیکن ادھر کی تڑپ ےو یہ ہے۔ لوگ سارے تو تیرے شہر کے دیوانے ہیں …میری خواہش ہے کہ میں تیرا زمانہ دیکھوں

تیرا زمانہ دیکھنے کے بعد پھر تجھے یاد کیا کروں، پھر جب کوئی تیری حدیث کے لئے میلوں کا سفر کرتا دیکھوں تو عش عش کر اٹھوں، تیرے نقوش راہ کی تلاش کروں، کبھی حسن بن علی رضی اللہ عنہ کو دیکھ کر تیرا سراپہ یاد کروں، اور تب مجھے کوئی بتائے کہ اس دور میں رسول اللہ ﷺ کی نماز شام میں ملتی ہے، پھر شام جاکر ابو سفیان کے بیٹے کی اقتداء میں نماز پڑھوں اور تیرے دور کی یادوں میں کھو کھو جاؤں ۔

ابودرادء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں :میں نے رسول اللہ ﷺ کی وفات کے بعد معاویہ کے بعد کسی کو نبوی نماز پڑھنے والا نہیں دیکھا ۔ الفوائد المتقاۃ للسمرقندی : 67، وسندہ صحیح  ….فخر کیا ہوتا ہے ؟اللہ کا محبوب پیغمبر صحابہ کی محفل میں کھڑا ہو کر کہتا ہے، او میرے لاڈلو ! اللہ تم پر فرشتوں کی موجودگی میں فخر کرتا ہے ۔ صحیح مسلم: اس حدیث کو سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ نے بیان کیا ہے۔ اچھا یہ بتاؤ! فیصلہ بھلا کون کرتے ہیں؟ سردار کرتے ہیں نا ؟ اور حق کا فیصلہ کون کرتے ہیں؟ ابووقاص کا بیٹا سعد رضی اللہ عنہ کہا کرتا تھا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کے بعد معاویہ رضی اللہ کی طرح حق کے مطابق فیصلہ کرنے والا کوئی نہیں دیکھا ۔ تاریخ دمشق 59/161، وسندہ حسن …. ارے جناب ! تم نے جنت کا نام سنا ہے، اس کو دیکھا نہیں ہے، تم اللہ سے جنت کی طلب کرتے ہو، میں بھی جنت کی طلب کرتا ہوں، تم جنت کا سوال کرتے ہو، میں جنت کا سوال کرتا ہوں، مگر ہمیں نہیں معلوم کہ جنت ہوتی کیا ہے، جانا بھی ہے یا نہیں جانا لیکن اگر ہم کو اللہ لے جائے اور اللہ تو لے جانا، دیکھ، ہم تیرے نبی کے صحابہ سے محبت کرتے ہیں،۔

جب ہم جنت جائیں گے تو وہاں تختوں پر بیٹھے کچھ لوگ نظر آئیں گے، بادشاہوں کی طرح، جیسے دنیا میں بادشاہ تھے، آخرت میں بھی بادشاہ، ان میں نظر دوڑائیے گا تو شاہوں میں ایک شاہ شام کا شاہ امیر معاویہ رضی اللہ عنہ بھی ہوگا۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :” میری امت کے جو لوگ سمندری جہاد کریں گے، میں نے انہیں جنت میں بادشاہوں کی طرح تختوں پر ٹیکیں لگائے دیکھا ہے ۔” صحیح البخاری : 2877

ربا ! جب تو جنت میں لے جانا تو محمد رسول اللہ ﷺ کی ہمسائیگی ضرور دینا، وہاں صحابہ کا جمگھٹا دیکھیں گے، وہاں تیرے رسول کا چہرہ دیکھیں گے، وہاں چاند اور ستاروں کا جھرمٹ دیکھیں گے، جنت کا مزہ بھی تب ہے یار، جب اس میں رسول اللہ ﷺ ہوں، رسول اللہ ﷺ کے ساتھی ہوں، رسول اللہ ﷺ کے پیارے ہوں وگرنہ تو وہی بات جو افتخار تبسم نے کہی تھی :  مکان بغیرِمکین اور دل بدونِ حبیب   قسم خدا کی تبسم اجاڑ ہوتے ہیں ۔

Add Comment

Click here to post a comment