Home » کیا قرآن مجید میں قربانی کا حکم ہے؟
اسلام

کیا قرآن مجید میں قربانی کا حکم ہے؟

دوست کا سوال ہے کہ کیا قرآن مجید میں قربانی کا حکم ہے؟ جواب: قرآن مجید میں بہت واضح طور قربانی کرنے کا حکم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیا گیا ہے جیسا کہ ارشاد باری تعالی ہے: {فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرْ} [الكوثر: 2]۔ ترجمہ: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم آپ اپنے رب کے لیے ہی نماز پڑھیں اور قربانی کریں۔ یعنی عید الاضحی کی نماز پڑھیں اور قربانی کریں۔ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت ہے: «كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْحَرُ قَبْلَ أَنْ يُصَلِّيَ، فَأُمِرَ أَنْ يُصَلِّيَ ثُمَّ يَنْحَرَ» [تفسير الطبري: 24/ 693]۔ ترجمہ: اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے پہلے قربانی کر دیا کرتے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان آیات کے ذریعے حکم دیا گیا کہ پہلے نماز پڑھیں اور اس کے بعد قربانی کریں۔

پھر قربانی کا حکم اور عمل ہمیں سنت میں بھی ملتا ہے۔ اور یہ اشکال پیدا کرنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت سے صرف حج کے موقع پر قربانی کا علم ہوتا ہے، درست نہیں ہے۔ حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے صحیح بخاری میں روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم جنت البقیع کی طرف نکلے اور آپ نے دو رکعتیں پڑھانے کے بعد خطبہ دیتے ہوئے کہا: «إِنَّ أَوَّلَ نُسُكِنَا فِي يَوْمِنَا هَذَا أَنْ نَبْدَأَ بِالصَّلَاةِ ثُمَّ نَرْجِعَ فَنَنْحَرَ فَمَنْ فَعَلَ ذَلِكَ فَقَدْ وَافَقَ سُنَّتَنَا وَمَنْ ذَبَحَ قَبْلَ ذَلِكَ فَإِنَّمَا هُوَ شَيْءٌ عَجَّلَهُ لِأَهْلِهِ لَيْسَ مِنْ النُّسُكِ فِي شَيْءٍ» [صحیح بخاری: 976]۔ ترجمہ: آج عید الاضحی کے دن ہماری پہلی عبادت یہ ہو گی کہ ہم عید کی نماز پڑھیں گے۔ پھر گھر واپس ہو کر قربانی کریں گے۔ جس نے یہ کام کیا تو اس نے ہماری سنت کو پا لیا۔ اور جس نے عید سے پہلے ذبح کر لیا تو اس نے اپنے گھر والوں کے لیے عام گوشت تیار کیا، اس کی قربانی نہیں ہے۔
یہ روایت بھی اس معاملے میں بہت واضح ہے کہ ایک خاص وقت کے بعد اور حضرت انس رضی اللہ عنہ کے قول کے مطابق آیت مبارکہ {فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرْ} کے نزول کے فورا بعد ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سنت جاری کی، کیونکہ اس سے پہلے قربانی کی سنت تو جاری تھی البتہ وہ عید سے پہلے ہوتی تھی۔ تو قرآن مجید کے حکم کے بعد وہ سنت عید کی نماز کے بعد کے وقت کے لیے جاری ہو گئی۔ صحیح مسلم کی ایک اور روایت کے الفاظ ہیں کہ جندب بن سفیان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عید الاضحی کی نماز پڑھی تو کچھ لوگوں نے نماز سے پہلے ہی قربانی کر دی تھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «مَنْ كَانَ ذَبَحَ أُضْحِيَّتَهُ قَبْلَ أَنْ يُصَلِّيَ أَوْ نُصَلِّيَ فَلْيَذْبَحْ مَكَانَهَا أُخْرَى وَمَنْ كَانَ لَمْ يَذْبَحْ فَلْيَذْبَحْ بِاسْمِ اللَّهِ» [صحیح مسلم: 1960]۔ ترجمہ: جس نے عید کی نماز سے پہلے قربانی کر لی تو وہ اس کی جگہ دوبارہ قربانی کرے۔ اور جس نے قربانی نہیں کی تو وہ نماز کے بعد اللہ کے نام سے قربانی کرے۔

صحیح مسلم کی ایک اور روایت میں ہے: «إِذَا رَأَيْتُمْ هِلَالَ ذِي الْحِجَّةِ وَأَرَادَ أَحَدُكُمْ أَنْ يُضَحِّيَ فَلْيُمْسِكْ عَنْ شَعْرِهِ وَأَظْفَارِهِ» [صحیح مسلم: 1977.02]۔ ترجمہ: جو تم میں ذی الحجہ کا چاند دیکھ لے اور اس کا قربانی کا ارادہ ہو تو وہ اپنے ناخن اور بال نہ کاٹے۔ یہ روایت بھی حج کے بارے میں نہیں ہے بلکہ عام ہے۔ البتہ ناخن اور بال نہ کاٹنا یہ مسنون عمل ہے۔ اگر ناخن اور بال کاٹ لے تو بھی قربانی ہو جائے گی۔ اسے اصطلاح میں یوں کہتے ہیں کہ یہاں حکم استحباب کے معنی میں ہے۔سنن ترمذی کی ایک اور روایت میں ہے کہ عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: «أَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْمَدِينَةِ عَشْرَ سِنِينَ يُضَحِّي»۔ ترجمہ: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ منورہ میں دس سال قیام کیا اور قربانی کرتے رہے۔ اس روایت کو شیخ شعیب ارنووط رحمہ اللہ نے صحیح کہا ہے جبکہ علامہ البانی رحمہ اللہ نے راوی کے عنعنہ کی وجہ سے ضعیف کہا ہے۔ لیکن بہر حال یہ معنی دیگر بہت سی روایات سے ثابت ہے۔

تو قربانی کے سنت ہونے پر تمام فقہائے اسلام کا اتفاق ہے البتہ اختلاف اس میں ہے کہ یہ سنت ہونے کے ساتھ واجب بھی ہے یا نہیں۔ تو جمہور فقہاء مالکیہ، شوافع اور حنابلہ کا موقف یہ ہے کہ قربانی کرنا سنت موکدہ ہے جبکہ احناف کا موقف یہ ہے کہ قربانی کرنا واجب ہے۔ جمہور فقہاء کی دلیل یہ ہے کہ صحیح مسلم کی روایت میں ارداے کے الفاظ نقل ہوئے ہیں کہ جس کا ذی الحجہ میں قربانی کا ارادہ ہو تو وہ اپنے بال اور ناخن نہ لے۔ یہ نہیں کہا گیا کہ جس پر قربانی واجب ہو تو وہ اپنے بال اور ناخن نہ لے۔ مزید جمہور نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے فتاوی سے بھی دلیل پکڑی ہے جیسا کہ سنن بیہقی کی روایت میں ہے کہ شیخین حضرت ابو بکر وعمر رضی اللہ عنہما کا کسی سال قربانی اس لیے نہیں کرتے تھے تا کہ لوگ اسے واجب نہ سمجھ لیں۔ اسی طرح کے اور بھی کچھ دلائل ہیں۔
دوسری طرف احناف کی دلیل حضرت ابو ہریرۃ رضی اللہ عنہ سے سنن ابن ماجہ کی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «مَنْ كَانَ لَهُ سَعَةٌ، وَلَمْ يُضَحِّ، فَلَا يَقْرَبَنَّ مُصَلَّانَا»۔ ترجمہ: جس کے پاس وسعت اور فراخی ہو اور وہ قربانی نہ کرے تو ایسا شخص ہماری عید گاہ کے قریب بھی نہ آئے۔ علامہ البانی رحمہ اللہ نے اس روایت کو حسن کہا ہے جبکہ شیخ شعیب ارنووط نے ضعیف کہا ہے۔ اس روایت کے مرفوع اور موقوف ہونے میں اختلاف ہے۔ جمہور فقہاء جو قربانی کو سنت موکدہ کہتے ہیں تو ان کے نزدیک یہ روایت موقوف ہے جبکہ احناف کے نزدیک مرفوع ہے۔

بہر حال فقہاء کا اس پر اتفاق ہے کہ قربانی سنت ہے۔ اب جو اس کے وجوب کا موقف رکھتے ہیں تو ان کے پاس بھی دلائل ہیں۔ اور جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ قربانی صرف حج کے ساتھ مخصوص ہے یہ تو بدعی فکر ہے کہ جس کی کوئی دلیل کتاب وسنت میں موجود نہیں ہے۔ البتہ یہ بات درست ہے کہ روایات میں قربانی میں تفاخر یا دکھلاوے کو پسند نہیں کیا گیا ہے۔ سنن الترمذی کی روایت میں ہے کہ حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے سوال ہو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں قربانی کیسے ہوتی تھی؟ تو انہوں نے جواب دیا: «كَانَ الرَّجُلُ يُضَحِّي بِالشَّاةِ عَنْهُ وَعَنْ أَهْلِ بَيْتِهِ فَيَأْكُلُونَ وَيُطْعِمُونَ حَتَّى تَبَاهَى النَّاسُ فَصَارَتْ كَمَا تَرَى» [سنن الترمذی: 1505]۔ ترجمہ: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ایک شخص اپنی طرف سے اور اپنے پورے اہل خانہ کی طرف سے ایک بکری کی قربانی کرتا تھا، خود بھی کھاتا تھا اور دوسروں کو بھی کھلاتا ہے۔ اور اب لوگوں نے کثرت قربانی میں مقابلہ بازی شروع کر دی ہے اور معاملہ تمہارے سامنے ہے۔

تو قربانی کریں کہ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے۔ اور عشرہ ذی الحجہ کے شروع کے دس دن سال کے تمام دنوں سے افضل ہیں۔ یعنی ان دس دنوں میں جو نیکی کا کام کیا جاتا ہے، سال بھر کے دنوں میں اسی نیکی کے کام سے زیادہ اجر ان دنوں میں وہ نیکی کا کام کرنے سے ملتا ہے۔ اور ان عشرہ ذی الحجہ کے شروع کے دس دنوں میں افضل ترین دن یوم النحر یعنی قربانی کا دن ہے۔ اور قربانی کے دن میں افضل ترین نیکی اور عمل قربانی کا عمل ہے۔ تو افضل ترین دن میں افضل ترین نیکی کے عمل کو چھوڑنا بھی بے وقوفی ہے اور اس چھوڑنے پر لوگوں کو اکسانا تو بے وقوفی در بے وقوفی ہے۔ سنن ترمذی کی روایت میں ہے: «إِنَّ أَعْظَمَ الْأَيَّامِ عِنْدَ اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى يَوْمُ النَّحْرِ ثُمَّ يَوْمُ الْقَرِّ» [سنن الترمذی: 1765]۔ ترجمہ: اللہ کے نزدیک دنوں میں سب سے افضل دن قربانی کا دن ہے، اور اس کے بعد افضل ترین دن اس کے بعد والا دن ہے۔ اسی طرح سنن ابن ماجہ کی روایت میں ہے: «مَا عَمِلَ عَمِلَ ابْنُ آدَمَ يَوْمَ النَّحْرِ عَمَلًا أَحَبَّ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، مِنْ هِرَاقَةِ دَمٍ» [سنن ابن ماجہ: 3126]۔ ترجمہ: قربانی کے دن اللہ کے نزدیک محبوب ترین عمل خون بہانا ہے۔ واضح رہے کہ بعض محققین نے اس روایت کی سند کو ضعیف کہا ہے۔ علامہ البانی رحمہ اللہ نے مشکاۃ کی تحقیق میں اسے صحیح کہا ہے۔ بہر حال معنا یہ بات درست ہے لہذا نقل کر دی ہے۔

تحریر : حافظ محمد زبیر

Add Comment

Click here to post a comment