Home » خواہش اور مقصد میں فرق
بلاگ کالمز

خواہش اور مقصد میں فرق

پوچھا گیا ہے ـــــ خلیل جبران کی اُس سٹیٹمنٹ کے تناظر میں جو دو روز قبل اپنی وال پر پوسٹ کی:”چھوٹے ذہنوں میں ہمیشہ خواہشیں اور بڑے ذہنوں میں مقاصد ہوا کرتے ہیں۔اِس میں اُلجھاؤ صرف ظاہری ہے، ورنہ یہ سادہ سی بات ہے۔ اس میں کوئی پیچیدگی نہیں۔پہلے خواہش اور مقصد کا فرق جان لیں۔ ‘بڑے ذہن والے مقصد’ پر بعد میں فوکس کرتے ہیں۔خواہش یعنی wish یا desire ہوا میں معلّق ایک شے ہے۔ جیسے کوئی کہے: ‘میری خواہش ہے میرا اپنا گھر ہو۔ یا میری خواہشہے میں امریکہ چلا جاؤں۔ یا میری خواہش ہے میں فلسفہ میں ایم فِل کر لوں ۔۔’ایک آدھ بار یا کبھی کبھار ایسے کسی خیال کا اظہار کرنا، پھر ایک آدھ جملہ بول کر فارغ ہو رہنے کا مطلب ہے ‘خواہش’ کرنا، چاہنا۔

ایسی ہی کوئی خواہش جب ‘مقصد’ یا goal بنتی ہے تو صاحبِ خواہش کو پَر لگ جاتے ہیں۔گویا خواہش کرنا ایسا تھا جیسے گھر میں بیٹھ کر وادیِ ہنزہ کی سیر کرنے کا سوچ لیا، اور منہ سے بول دیا۔ اِس خواہش کو ‘مقصد’ بنا لینے کا مطلب ہے آپ ‘چل پڑے’، آپ اٹھ کر ریلوے اسٹیشن، یا بس اسٹینڈ، یا ایئر پورٹ تک آ گئے۔ اور یہاں تک آنے سے پہلےکوئی پانچ ماہ اپنے بجٹ کو کھینچ کر رکھا، ایک منی باکس بنا کر پیسے اکٹھے کرتے رہے۔ مزید، اس پر منصوبہ بندی کرتے رہے کہ کب، کس کے ساتھ، اور کیسی سواری وغیرہ۔خواہش ایک آزاد پرندہ سا ہے، نری ہوا سی۔مقصد ایک قیمت رکھتا ہے، قیمت ادا کرتا ہے۔خواہش ایک خیال ہے، سوچ ہے۔
مقصد عمل ہے، ایکشن ہے، عمل کا تسلسل ہے۔

خواہش کو آپ follow نہیں کرتے، مقصد وہ جس کا تعاقب کیا جائے۔ نظریں اِسی پر گڑی رہتی ہیں۔مقصد نتیجہ ظاہر کرتا ہے، خواہش بےنتیجہ شے ہے۔خواہش ایک تصوّراتی شے ہے یعنی imaginary ــــــــ جبکہ مقصد ایک زمینی حقیقت جسے انگریزی میں گراؤنڈ رِئیلٹی کہتے ہیں۔مقصد ایک حد یا ایک finish line رکھتا ہے، جبکہ خواہش یا خواب بے حدو بے کنار ۔خواہش آپ کو اِنسپائر کر سکتی ہے اور بس، جبکہ مقصد زندگی بدل سکتا ہے۔مقصد فوکس رکھتا ہے، سمت رکھتا ہے، ایکشن میں آتا ہے، جبکہ خواہش بے سمت اور بےعمل شے ہے جو فوکس نہیں رکھتی۔مقصد محنت طلب کرتا ہے۔ اِس کے سفر کی گاڑی اور اِس کے ٹُول کا نام مشقت ہے۔ جبکہ خواہش کو فقط تخیل چاہیئے۔ اِس کے سفر کی گاڑی، اِس کے ٹُول کا نام imagination ہے۔اب آتے ہیں خلیل جبران والے بیان کی طرف۔یہاں ساتھ میں ایک adjective بھی ہے، یعنی ‘بڑے ذہنوں میں مقاصد’ کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں۔’مقصد’ اور ‘بڑے ذہن والے بڑے مقصد’ کا فرق سمجھنا بھی مشکل نہیں۔
دیکھیں، نرا ‘مقصد’ ایک ذاتی سی شے ہوتی ہے۔ آپ امریکہ میں سیٹل ہونا چاہتے ہیں؟ آپ نے پورے تین برس پلاننگ کی، پیسے جمع کیے، انگریزی شریفچمکائی، رابطے استوار کیے وغیرہ وغیرہ۔ یا آپ اپنے ادارے میں ایک بڑے عہدے پر پہنچنے کے متمنّی تھے، آپ نے دن رات محنت کی اور نتیجہ پا لیا ۔۔۔
‘مقصد’ اپنی ‘سَیلف’ کو مطمئن کرنے کا نام ہے۔

جبکہ ‘بڑے مقصد’ کی سمت اپنی طرف نہیں، مجموعی فلاح کی طرف ہوتی ہے۔ اس کا دائرہ وسیع ہے، اس کا سفر طویل ہے، اس کی قیمت زیادہ ہے، اور اِس کا نتیجہ بہت بڑا !!اگر عہدہ پانے کی تمنّا ہوتی، اور یہی ‘مقصد’ ہوتا تو ہندوستان کے سب سے بڑے عہدے کا اشارہ تو مل گیا تھا جناح علیہ الرحمہ کو ـــــ ملفوف لفظوں میں متحدہ ہندوستان کا گورنر جنرل بن جانے کی آفر۔ مگر ‘بڑا مقصد’ بڑا عہدہ پانا نہ تھا۔فاطمہ جناح نے اپنی کتاب ‘میرا بھائی’ میں لکھا ہے کہ جناح کو جب پتہ چل گیا کہ اُنہیں ٹرمینل ٹیوبرکلوسس ہے تو پہلے اپنے ذاتی معالج (ایک پارسی ڈاکٹر) کو سختی سے منع کر دیا کہ یہ بات کسی سے شیئر نہیں کرنی۔ پھر جب میں نے اصرار کیا کہ انگلینڈ سے آئے ڈاکٹر کے پاس جا کر علاج کروائیں تو صاف انکار کر دیا۔

کہا یہ بات میں اُس ڈاکٹر سے نہیں کہہ سکتا چونکہ یہ ڈاکٹر اور ماؤنٹ بیٹن آپس میں دوست ہیں، رات اکٹھے بیٹھ کر شراب پیا کرتے ہیں۔ یہ اپنا منہ اُس کے سامنے کھول دے گا۔اب فاطمہ نے پریشان ہو کر کہا کہ یہ تو خود کشی ہے، اور خود کشی حرام ہے، دوزخ میں جلو گے۔جواب ملا ہاں، ہے خود کشی ۔ مگر ایک بندہ مرے گا نا! اگر اِس ڈاکٹر کو پتہ چل گیا تو نو کروڑ مسلمانوں کا مستقبل داؤ پر لگ جائے گا۔فاطمہ جناح لکھتی ہیں، جناح نے کہا جب میں اللّہ کے پاس جاؤں گا تو کہوں گا ایک بہت ہی بڑے حلال کام کی خاطر ایک چھوٹا سا حرام کام کرنا پڑا۔ کہا میں نے یہ ‘کیس’ تیار کر رکھا ہے ـــــ اُس بڑی عدالت میں پیش کرنے کو ۔۔۔in that bigger courtقائد اعظم جب وفات پا گئے، اور ماؤنٹ بیٹن کے علم میں یہ بات آئی تو اُس کی سٹیٹمنٹ ریکارڈ پر ہے۔ کہا، “اگر مجھے پتہ چل گیا ہوتا کہ جناح کو ٹرمینل ٹیوبرکلوسس ہے تو میں قیامِ پاکستان والی بات کو اگلے 10 سال تک لٹکاتا رہتا۔”یہ ہوتا ہے’ بڑا مقصد’۔ 🙂

ہمایوں تارڑ

Add Comment

Click here to post a comment