Home » خودکشی کے اسباب اور ان کا حل
صحت معلومات

خودکشی کے اسباب اور ان کا حل

ایک زمانہ تھا جب لوگ اپنا گھر اپنے ہاتھوں سے بنایا کرتے تھے، اپنی ضرورت کے ہر کام خود سے کرلیتے تھے، اسی طرح ان کی کل کائنات ان کا گھر ان کی فیملی زیادہ سے زیادہ ان کے گاؤں ہوا کرتے تھے، انہیں بس اتنی ہی دور کی خبریں معلوم ہوا کرتی تھیں، پھر جوں جوں زمانہ ترقی کرتا گیا دنیا ایک گلوبل ولیج اور عالمی گاؤں بنتی گئی، پل پل کی خبریں منٹوں سکینڈوں میں ہم تک پہنچنے لگیں۔اکیسویں صدی کے دو سب سے بڑے فیکٹر اور عوامل ٹکنالوجی اور پالیٹکس ہیں، لیکن ان کے پیچھے بیٹھا ہوا کوئی اور فیکٹر اور عامل ہے جو ان دونوں فیکٹرز کو کنٹرول کررہا ہے جس کا نام ہے مال دار کیپٹلسٹ یا اس کا بنایا ہوا کارپوریٹ، اگر وہ چاہے تو منٹوں سکینڈوں میں حکومتیں گرادے اور بنادے، اسی کے اشاروں پر یہ طے کیا جاتا ہے سائنس کی کس فیلڈ میں ترقی ہوگی کیوں کہ بہرحال کسی بھی سائنسی ریسرچ کے لیے پیسوں کی ایک خطیر مقدار کی ضرورت ہوتی ہے (لیتخذ بعضھم بعضا سخریا)، اب جس فیلڈ میں اسے منافع نظر آتا ہے وہ اس فیلڈ کا انتخاب کرکے سائنس دانوں اور سیاست دانوں کو اپنا ہمنوا بنالیتا ہے۔

ایک مال دار اتنا پاور فل اس لیے بناکہ کیپٹلزم اور سرمایہ داری نے اپنا جادو دکھاکر ایک ہی شخص کو بے انتہا مال دار بنادیا اور پھر بھی اس کی بھوک کو ختم نہ ہونے دیا، اب مزید مال کمانے کے چکر میں اس نے مزید آئیڈیاز ڈھونڈ نکالے، گلوبل ولیج بن جانے کی وجہ سے اس نے پوری دنیا کی ہر مادی شئے کو پروڈکٹ ہر کام کو پیشہ اور ہر انسان کو گراہک اور خریدار تصور کیا۔

اس نے غور کیا کہ ایک انسان کو کیسے بدلا جاسکتا ہے، کیسے اس کو اپنا گاہک بنایا جاسکتا ہے، اور یوں اس نے میڈیا کی قوت و طاقت دریافت کی پھر اس نے میڈیا ہاؤسز بنانے شروع کئے، اب اس مال دار کے پاس پیسے کی بےپناہ طاقت کے ساتھ ساتھ میڈیا کی بھی طاقت جمع ہوچکی تھی جس کے ذریعے وہ لوگوں کے دماغوں کو تبدیل کرسکتا تھا، نیز کوئی اس کا احتساب کرنے والا بھی نہ تھا کیوں محتسب ریاست خود اس کی جیب میں تھی یعنی وہ مطلق العنان بن چکا تھا۔
اور پھر تین مرحلوں میں اس نے اکیسویں صدی کے انسان کو ایک زندہ لاش بنادیا اور اس کی زندگی تباہ کرکے رکھ دی:
پہلا مرحلہ
چوں کہ ان میڈیا ہاؤسز کو چلانے والے بڑے بڑے کارپوریٹ ادارے تھے، اور ان کا منتہائے نظر پیسہ تھا، اور زیادہ پیسوں کے لیے انہیں زیادہ افراد کی ضرورت تھی اس لیے انہوں نے سب سے پہلے تمام مواصلاتی ذرائع کے ذریعے عام انسانوں کے سامنے پیسوں کی اتنی اہمیت بیان کی کہ پھر ایک عام آدمی کی زندگی کا سب سے بڑا مقصد زیادہ سے زیادہ پیسے کمانا رہ گیا، اس کو یہ باور کرایا کہ اپنے آس پاس کے لوگوں کو تم اسی وقت خوش رکھ سکتے ہو جب تمہارے پاس ڈھیر سارے پیسے ہوں، اس کو خوش عیشی اور عیاشی کے سنہرے خواب دکھائے اور پھر وہ ضرورت بھی جس کو انسان اپنے ہاتھوں سے پورا کرسکتا تھا، اس کے بارے میں یہ سمجھایا کہ یہ کام تم نہیں کرسکتے، دوسرا اچھے انداز میں کرے گا اور پھر ہر کام کے لیے ایک الگ انڈسٹری اور ایک الگ پروفیشن ایجاد کیا گیا حتیٰ کہ اپنی ضروریات میں سے سب سے آسان کام ناخن کاٹنے تک کو پیڈی کیور کا نام دے کر الگ پروفیشن بنادیا گیا اور دماغوں میں یہ بٹھادیا گیا کہ اگر تم خود سے ناخن کاٹوگے تو اچھے سے نہیں کاٹ پاؤگے کسی پروفیشنل پیڈی کیور کے سامنے پیسے پھینکو تاکہ تمہیں ناخن کاٹنے کی زحمت بھی نہ اٹھانی پڑے اور یوں ایک طرف تو اسے پورے طور پر سست بنادیا گیا اور دوسری طرف ضرورت سے بھی زائد کمانے کی حرص پیدا کردی تاکہ وہ اپنا وقت ان کمپنیوں کو دے اور پھر اس کی محنت سے یہ اپنے خدا یعنی پیسوں میں اضافہ کرکے لوگوں کے سامنے اپنی خدائی کا سکہ جماسکیں۔

لیکن گزشتہ زمانوں کے خداؤں اور آج کے خداؤں میں ایک بڑا فرق یہ ہے کہ پچھلے خدا رعونت و تکبر سے پر ہوا کرتے تھے، مال دار ہوجانے کے بعد وہ کسی کو بھی خاطر میں نہ لاتے تھے لیکن آج کے خدا نے تکبر کے ساتھ ساتھ ظاہراً عاجزی اختیار کرنے کا ہنر بھی سیکھ لیا ہے، کیوں؟ اس لیے کہ اسے اس عاجزی کو بھی بیچنا تھا، لہذا اس نے “آپ اتنے امیر کیسے بنے” اور “میری لائف میری محنت کی داستان” جیسے عنوانات کے ذریعے لوگوں کو اپنی فرضی کہانیاں سناسناکر بھی ایک انڈسٹری تیار کرلی، اور پیسے کمانے کا ایک نیا ہنر ڈھونڈ نکالا، یعنی ایک جملے میں کہیں تو آج کے امیر پہلے کے امیروں سے زیادہ چتر نکلے۔

نتیجۃً ایک عام انسان نے اپنا آئیڈیل ایک امیر شخص کو بنایا، اور پیسے کمانے کی ہر ممکن جتن کرنے لگا، اس کے دماغ میں دھیرے دھیرے یہ چیز سرایت کردی گئی کہ پیسہ جیسے بھی آئے جہاں سے بھی آئے بس پیسہ آنا چاہئے کیوں کہ اگر پیسہ ہے تو انسان ہے ورنہ اس سے اچھا ہے کہ انسان خودکشی کرکے مرجائے، اور پھر یہاں سے خودکشی کا ٹرینڈ چلا جس کی بنا پر سویٹزرلینڈ جو پوری دنیا میں سب سے زیادہ مال دار ملک ہے سب سے زیادہ خود کشی کرنے والے ملکوں میں بھی نمبر ون پہ آگیا۔

دوسرا مرحلہ: ان مال داروں کے ذریعے بنائے گئے کارپوریٹ نے میڈیا ہاؤسز کے توسط سے اپنی شہرت، شائقین اور منافع میں اضافے کی خاطر انسانی نفسیات پر غور کرنا شروع کیا کہ انسان کی توجہ کدھر زیادہ مبذول ہوتی ہے، اور پھر وہ دو نتیجوں پر پہنچے:پہلا یہ کہ انسان فحاشی و عریانیت میں زیادہ دلچسپی لیتا ہے، لہذا انہوں نے مخلوط کلچر کے نام پر فحاشی پھیلانے کو اپنا مطمح نظر بنالیا حالاں کہ مخلوط کلچر کے نام پر وہ پردے کو بھی عام کرسکتے تھے جیسا کہ اکثر مشرقی ممالک میں بلاتفریقِ مذہب پردے کا چلن عام ہے مگر نیت مخلوط کلچر کی نہیں بل کہ پیسہ کمانا تھا عریانیت کو استعمال کرکے، تو انہوں نے اس ننگے پن کو بھی بیچنا شروع کردیا، فیشن شوز سے لے کر فلموں اور ایڈورٹائزنگ تک ہر چیز کو انہوں نے فحاشیت سے بھردیا، عورتوں کے لئے پوری دنیا کے سامنے اپنے حسن کا اظہار فیشن بنادیا گیا، اس فحاشیت کو عام کرنے میں ایک بڑی رکاوٹ خاندانی سسٹم بھی تھا جو کبھی اپنی ماں بہنوں کو اس طرح کی فحاشیت کی اجازت نہ دیتا مگر انہوں نے اول تو خاندان کا مفہوم ہی بدل کر رکھ دیا اور اتنا محدود کردیا کہ سوائے ماں باپ بھائی بہن کے خاندان میں اور کسی کا نام نہیں شمار ہوسکتا، پھر ان محدود خاندان کے مردوں کو کلچر کو فروغ دینے کے نام پر بے حس بنایا گیا، اور خود انہیں اس بے حیائی کے کام میں اتنا ملوث کردیا گیا کہ وہ اپنی عورتوں کی غلط حرکتوں پر چاہ کر بھی کچھ بول نہ سکیں، اور جو پھر بھی مخالفت کرتے رہے انہیں آزادئ رائے کے نام پر بے بس کردیا گیا کہ لڑکی بالغ ہے وہ اپنی مرضی سے جو چاہے کرسکتی ہے۔

پھر پورن انڈسٹری چلاکر فحاشیت کو اس کی معراج تک پہنچادیا، اس پورن نے عام آدمی کی جنسی زندگی برباد کرکے رکھ دی، مرد کے دماغ میں یہ گھسایا کہ تم میں مردانگی کی کمی ہے اور عورت کے ذہن میں یہ بٹھایا کہ تمہارا مرد تمہاری جنسی ضروریات کو پورا کرنے میں ناکام ہے اس سے بہتر انداز میں تمہاری جنسی ضرورت پوری کی جاسکتی ہے جس نے اسے دوسرے مردوں سے ملنے اور ناجائز رشتے بنانے پر آمادہ کیا، اور یوں انسان کی خانگی اور پرسنل لائف تباہ ہوکر رہ گئی جس کی بنا پر انسان خود کشی پر مجبور ہورہا ہے۔
تیسرا مرحلہ:
میڈیا کے کورس میں اس بات کی تعلیم دی جاتی ہے کہ خبر کی خاصیت یہ ہے کہ اس میں کچھ انوکھا پن ہو، کچھ نیا ہو، کچھ دھماکے دار ہو، کچھ ایسا ہو جو انسان کی توجہ کو فوراً اپنی طرف مبذول کرے، وہیں سے بریکنگ نیوز کی اصطلاح وجود میں آئی، پہلے پہل تو اس میں ہر انوکھی واردات کو خبر کے زمرے میں رکھا جاتا تھا خواہ وہ مثبت ہو یا منفی، لیکن چوں کہ ان کا خدا پیسہ اور مادی ترقی تھا تو پیسے کمانے کے لیے انسانی نفسیات پر جب انہوں نے ریسرچ کیا تو دوسرا نتیجہ یہ سامنے نکل کر آیا کہ انسان منفی چیزوں کی طرف جلدی لپکتا ہے، لہٰذا انہوں نے اپنے اخبارات نیوز چینل ٹی ویز پہ منفی خبروں کو ترجیح دینا شروع کردیا، اس کے دو نتائج سامنے آئے ایک تو یہ کہ عام آدمی سوچنے لگا کہ میرے آزو بازو ہر جگہ بہت برائی پھیلی ہوئی ہے، یہ سماج یہ دنیا اب رہنے کے لائق نہیں رہی جہاں روز کوئی نہ کوئی حادثہ پیش آتا رہتا ہے، کیسے کوئی انسان چھ مہینے کی بچی کے ساتھ عصمت دری کرسکتا ہے؟ کیسے کوئی سمجھ دار شریف چھوٹی سی بات پر اپنے پڑوسی کا قتل کرسکتا ہے؟ ایک عام آدمی جب صبح صبح اٹھ کر نیوز پیپر لیتا ہے یا ٹی وی کا ریموٹ آن کرتا ہے اور اسے قتل و عصمت دری، لوٹ کھسوٹ، کرپشن، ایکسیڈنٹ، سیاسی چالبازی اور ہندومسلم فسادات، اکثریت کے اقلیت پر حملے کی خونچکاں واردات وغیرہ جیسی منفی خبریں سننے کو ملتی ہیں، ایسے میں اس کا ڈپریشن میں چلاجانا یقینی امر ہے، اور یہ ڈپریشن پھر اس کی پرسنل لائف کو بھی برباد کر دیتی ہے اور اجتماعی زندگی کو بھی، خود کشی کی یہ بھی ایک بڑی وجہ ہے۔

ان منفی خبروں کا دوسرا نتیجہ یہ سامنے آیا کہ انسان کی نظروں میں ان جرائم اور واردات کی حیثیت ختم ہونے لگی، مثلاً پہلے انسان نے پورن دیکھنا شروع کیا، پھر دیکھنے کے بعد کرنے کا من کیا، تو سماج میں اس نے جائز طریقے سے اپنی ضرورت پوری کرنے کی کوشش کی مگر سماج نے کم عمر ہونے کی وجہ سے اور عیاشی کے بقدر پیسوں کے نہ ہونے کی وجہ سے اسے جائز طریقہ اپنانے کی اجازت نہ دی تو اس نے ناجائز طریقے کا سہارا لیا، پھر اس نے خبروں میں دس مرتبہ نابالغ اور چھوٹی بچیوں کے ساتھ ریپ کئے جانے کے واقعات سنے، پہلے پہل تو اسے عجیب سے واقعات لگے پھر دھیرے دھیرے انسان کی کھوجی فطرت نے اسے ایک مرتبہ خود سے ٹرائی کرنے پر بھی ابھارا، اور یوں وہ خود اس جرم میں ملوث ہوگیا، اس نے پورن دیکھتے ہوئے والدین کے ساتھ بھابھیوں اور بہنوں کے ساتھ کئے گئے پورن کو دیکھا تو دھیرے دھیرے اس کی نیت اپنی ماؤں بہنوں پر بھی بگڑنے لگی، اس نے قتل کی وارداتوں کو اتنا سنا اور گیم کھیلتے ہوئے لوگوں کو گولی سے مارنے کی اتنی پریکٹس کی کہ اب رئیل لائف میں جب ایسا موقع آیا تو اس نے بلا چون و چرا گولی چلادی اس کی پرواہ کئے بغیر کہ ایک انسان کی زندگی کتنی اہم ہوتی ہے۔

کل ملاکر ایک عام آدمی صبح اٹھتے اخبار پڑھ کر ٹی وی دیکھ کر منفی جذبات اور جنسی جذبات اپنے اندر بھرتا ہے، پھر کام پہ جاکر اپنی غربت کی شدت کو محسوس کرتا ہے، شام کو گھر واپس آکر پھر اسی تھکن، میڈیا ساختہ غربت کی مایوسی، جنسی بے راہ روی کے اثرات اور منفی خبروں سے پیدا ہوئے ڈپریشن کے ساتھ اپنے اہل خانہ سے ملتا ہے تو وہ نہ تو خود خوش رہ پاتا ہے اور نہ فیملی کو خوش رکھ پاتا ہے اور پھر دوبارہ ٹی وی آن کرکے اسی منفیت کو اپنے اندر سمونا شروع کردیتا ہے اب اتنے سارے غموں کے درمیان آدمی خودکشی نہ کرے تو اور کیا کرے۔کیا لطف انجمن کا جب دل ہی بجھ گیا ہویا پھر ریلیکس کرنے کے لیے اسی کارپوریٹ کے بنائے انسٹاگرام ریلس یوٹیوب وغیرہ استعمال کرکے ذہن کو عارضی سکون پہنچانے کی سعی نا تمام کرتا ہے، یعنی اسی کارپوریٹ نے آپ کی زندگی تباہ کی اور پھر یہی کارپوریٹ اب آپ کے سکون کا سامان بھی فراہم کررہا ہے تاکہ اس عارضی سکون کے بدلے میں بھی پیسے کمائے۔
غمِ دوراں غمِ جاناں غمِ عقبیٰ غمِ دنیا کنولؔ اس زندگی میں غم کے ماروں کو نہ چین آیا

اب اس عام آدمی کو برباد زندگی سے نکال کر پھر سے ایک پرسکون زندگی کی طرف واپس کیسے لایا جاسکتا ہے؟1 اکیسویں صدی کے انسان کو سب سے پہلے اپنی سوچ بدلنی ہوگی، اپنی ترجیحات بدلنی ہوں گی، اسے پیسے کو اپنی ترجیحات سے نکالنا ہوگا، اسے یہ سمجھنا ہوگا کہ ایک خوش حال زندگی گزارنے کے لیے پیسے ثانوی حیثیت رکھتے ہیں، اولین حیثیت آج بھی آپ کی خوش اخلاقی اور اچھے برتاؤ کو حاصل ہے، اسے اجتماعی اخلاق کو اپنا منتہائے نظر بنانا ہوگا، پھر تعلیم کو اور پھر پیسوں کو، اسے یہ سمجھنا ہوگا کہ اس کے دل میں ضرورت سے زیادہ مال کی محبت اس لیے ڈالی گئی ہے تاکہ وہ کارپوریٹ ورلڈ کی غلامی کرسکے، یعنی زیادہ مال کی حرص آپ کے گلے میں زندگی بھر کے لیے غلامی کا طوق پہنا کر چھوڑے گی۔

2 اکیسویں صدی کے انسان کی سب سے بڑی ممتاز صفت ہے بے اعتدالی یعنی افراط و تفریط، اس نے اتنی معلومات اکٹھی کرلی ہیں اتنا زیادہ با خبر رہنے لگا ہے کہ وہ معلومات اب اسے نقصان پہنچانے لگی ہیں، اس منفی خبروں کی بھرمار نے اسے ڈپریشن اور خودکشی کے دہانے پر لاکر کھڑا کردیا ہے، اب اکیسویں صدی کے انسان کے لیے سب سے زیادہ ضروری ہے کہ وہ اپنی دنیا کو اپنی معلومات کو محدود کرے، وہ پہلے اپنی سطح متعین کرے سماج میں اور پھر اپنی سطح کے اعتبار سے ہی ضروری خبروں سے واقفیت حاصل کرے۔

نیز اس بات کا بھی دھیان رکھے کہ اگر وہ اپنے لئے سماج میں کسی مؤقر جگہ یا سطح کا انتخاب کرتا ہے تو پھر اسی کے بقدر ذہنی طور پر مضبوط بننے کی مشق کرے، کیوں کہ ایک جہان کا غم اپنے سر پر اٹھانا ہر ایرے غیرے نتھو خیرے کے بس کا نہیں۔ بہتر یہ ہے کہ وہ ٹی وی دیکھنے کے بجائے ٹویٹر پر محض سرسری خبریں پڑھ لینے پر اکتفاء کرلیا کرے تاکہ اس کے ذہنوں اور اس کی پسند ناپسند کو مزید ہیپناٹائز نہ کیا جاسکے۔

3 اسے اپنی پرسنل لائف اور سوشل لائف میں بھی اعتدال پیدا کرنا ہوگا، ورنہ عموماً یہاں بھی افراط و تفریط دیکھنے کو ملتا ہے، کسی نے اپنی پرسنل لائف کو اتنی ترجیح دے رکھی ہے کہ سماج میں کیا ہورہا ہے اس کی قوم اس کی کمیونٹی پر کیا ستم ڈھائے جارہے ہیں اسے کوئی پرواہ نہیں ہوتی، اور دوسری جانب کسی نے اپنی سوشل لائف کو اتنا حاوی کیا ہوا ہے اپنے اوپر کہ پرسنل لائف تباہ ہوکر رہ گئی ہے، یاد رکھیں انفرادی زندگی کو برباد کرکے آدمی سوشل لائف کی آبادی کا ذریعہ کبھی نہیں بن سکتا بلکہ وہ سوشل ورکنگ کے نام پر قوم کے پیسے کھانے پر مجبور ہوجائے گا الا یہ کہ وہ انتہائی مضبوط قوت اعصاب کا مالک ہو اور بے حد ایمان دار ہو مگر آج کے زمانے میں یہ چیز خال خال ہی دیکھنے کو ملتی ہے۔

4 کیپٹلزم کے تیار کردہ ماحول نے کامیابی اور شادی کا ایک معیار بنادیا ہے، جب تک اپنی بیوی کے لیے بھرپور سامان تعیش فراہم نہ ہو نیز ہونے والے دو بچوں کے لئے دس پندرہ لاکھ کھاتے میں نہ ہوں تب تک آپ شادی کرنے کے اہل نہیں ہیں، ابھی اگر آپ شادی کرلیں گے تو پھر آپ جکڑ جائیں گے کامیاب نہیں ہوپائیں گے، اور بنا معاشی طاقت حاصل کئے آپ اپنے بچوں کا فیوچر بھی تباہ کردیں گے، یہ ساری من گھڑت باتیں آپ کو اپنے دماغ سے نکالنی ہوں گی، اگر آپ کے پاس سر چھپانے کے لیے چھت ہے اور خرچ اٹھانے کے لیے بقدر کفایت روزی کا بند و بست تو آپ ایک لائق انسان ہیں جو ایک عورت کی ذمہ داری اٹھانے کا پورے طور پر اہل ہے، لہٰذا آپ جب بھی اتنا کمانے لگیں یا پھر آپ کے گھر والے نفقہ برداشت کرنے کے اہل ہوں اور اجازت دیں تو فوراً شادی کرلیں، جلد شادی اور جائز طریقے سے جنسی ضروریات کی تکمیل اکیسویں صدی کے انسان کے لیے مصیبتوں سے چھٹکارے کا ایک بہترین حل ہے۔5 اسے اپنا تعلیمی نصاب ہر حال میں بدلنا ہوگا کیوں کہ انسان کے افکار و خیالات کا منبع اس کی تعلیم ہوا کرتی ہے اور موجودہ نصاب بہرحال اسے ایک اچھا انسان بنانے میں ناکام رہا ہے، اب تعلیم گاہوں کو ہی سماجی تنظیم، کونسلنگ سینٹر، اور لاء فرم کا رول بھی پلے کرنا ہوگا۔

Add Comment

Click here to post a comment