Home » کھلاؤ سونے کا نوالا اور دیکھو شیر کی نگاہ سے
بلاگ

کھلاؤ سونے کا نوالا اور دیکھو شیر کی نگاہ سے

یہ محاورہ ان تمام لوگوں کو اچھی طرح سے پتہ ہے جن کی عمر 40 سال سے زیادہ ہے۔ کیونکہ ان کے والدین کی تربیت کا انداز ایسا ہی تھا۔ اس زمانے میں چھ سات سے کم کسی کی اولاد نہیں ہوتی تھی اور نہ ہی مالی طور پر آج کل کے زمانے کے حساب سے اتنے مستحکم تھے۔ مگر کم آمدنی اور زیادہ بچوں کے باوجود ہر بچے کی انتہائی بہترین انداز میں تربیت کرتے تھے۔ انہیں والدین میں سے ایک میرے والد بھی تھے۔ میں سوچتا ہوں کہ بچپن میں جس طرح کا تھا اگر میرے والد صاحب کے جوتے نہ ہوتے تو آج میں ایک سڑک چھاپ ہوتا کیونکہ میں جس طرح سے گھومنے پھرنے اور کرکٹ کا شوقین تھا مجال ہے کہ پڑھائی کی طرف چلا جاتا لیکن ابا نے اتنے جوتے مارے کے آخر کار ساری آوارہ گردی دھول بن کر اڑ گئی اور مجھے کتاب سے محبت ہوگئی۔ مجھے اچھی طرح سے یاد ہے کے بچپن میں مجھے کرکٹ کا ایک جنون تھا دل کرتا تھا کہ ہر وقت کرکٹ کھیلتا رہوں۔ اور ابا بولتے تھے کہ ہر چیز کا ایک وقت ہوتا ہے۔ ہماری حالت یہ تھی کہ ہم یہ کہتے تھے کہ پہلے کرکٹ بعد میں کیا ہوگا پٹائی ہو گی نہ تو پٹ لیں گے۔

میچ کھیل کر جب واپس آتا تھا تو تالا جن دو کنڈوں کے درمیان میں لگتا ہے اس کے درمیانی سوراخ سے دیکھتا کے اندر کیا حالات ہیں اگر ابا سامنے ہوتے تو غائب ہو جاتا پھر تھوڑی دیر بعد دیکھتا اگر سامنے ابا نہیں ہوتے تو فورا چپل اتارکر ہاتھ میں پکڑتا اور دروازے پر چڑھ جاتا اور دروازے سے چھلانگ لگا کر گھر میں گھستا کیونکہ اگر چپل پہن کر دروازے پر سے چھلانگ مارتے تو آواز آ جاتی۔ ایک دن جیسے ہی میں نے چھلانگ ماری ابا گیٹ کے کونےپہ کھڑے ہوئے دیکھ رہے تھے۔ میری ہی چپّل سے میری اتنی دھنائی کی کہ طبیعت درست ہوگئی۔ مارتے جاتے تھے اور کہتے جاتے تھے انٹر تک میری مرضی پر چلنا پڑے گا اور انٹر کے بعد تمہاری مرضی جو دل چاہے وہ کرنا ۔ مجھے میرے دوست بولتے تھے کہ تم بالکل وسیم اکرم کی طرح بولنگ کرتے ہو بس دل و دماغ میں وسیم اکرم چڑھ گیا تھا۔ مگر ابا نے اتنا مارا اتنا مارا کہ وسیم اکرم دھل کر نکل گیا۔ ابا چھٹی پر کسی بھی قسم کا کوئی سمجھوتا نہیں کرتے تھے اگر اسکول جانے کا بہانہ بھی کرو تو سامنے کھڑے ہوتے تھے اور بڑے پیار سے اپنے پاؤں کی چپل صرف پاؤں سے نکالتے تھے اور ہماری طرف آنکھوں سے چپل کی طرف اشارہ کرواتے تھے کہ چپل پاؤں سے نکال لی ہے بس ہمارے لئے یہ دھمکی ہی کافی ہوتی تھی کہ اب اگر ذرا بھی رکے تو خیر نہیں ہوگی ۔ ان کے اس انداز کی وجہ سے ہم سب میں ایک خاص مستقل مزاجی پیدا ہو گئی جو آج بھی ہم سب کی زندگی کا ایک حصہ ہے۔

ابا کا ایک روپ یہ تھا اور دوسرا روپ یہ تھا کہ جب میں بی کام کر رہا تھا تو امتحانی فیس جمع کرانے کے لیے اسلامیہ کالج میں بہت لمبی لائن لگی ہوئی تھی میں نے پی سی او سے ابا کو فون کیا کہ یہاں بہت لمبی لائن ہے اور وہ بھی بے ترتیب ہے میرا نمبر نہیں آئے گا ابا نے فورا کہا تم وہیں رکو میں آتا ہوں۔ وہ ملیر سے دو بسیں بدل کر اسلامیہ کالج آئے اور فارم جمع کروایا۔ کتابوں سے بڑی دلچسپی تھی جس کتاب کو پڑھ رہے ہوتے اس کی خاص خاص باتیں ضرور بتاتے۔ اور جب بھی کسی کتاب میں موجود نظریے یا تاریخ دان کی بات کو بتاتے تو اس کے ساتھ ہی ہمیشہ اس سے متعلق دوسرے نظریئے یا دوسرے تاریخ دان کی رائے بھی ضرور بتاتے جس کی وجہ سے ہم سب کا دماغ بن گیا کہ ہر چیز میں مختلف آراء ہو سکتی ہیں اور یہ سوچ دراصل انسان میں تحقیق کا دروازہ کھولتی ہے۔

میں نے بھی اپنے پروفیشنل کیریئر کا آغاز اپنے والد کے شعبے تدریس سے کیا اور کافی عرصے تک مختلف کالجز میں کانٹریکٹ پر پڑھاتا رہا۔ لیکن جب کمیشن کا امتحان پاس نہیں ہوا تو نہ چاہتے ہوئے دکھی دل کے ساتھ کے الیکٹرک میں اسسٹنٹ منیجر کے طور پر نوکری شروع کر دی۔ مگر شام میں مختلف کوچنگ سینٹرز میں پڑھا کر اپنے نشے کو پورا کرتا۔ جب میں k الیکٹرک میں مینیجر بن گیا اور میری تنخواہ ایک لاکھ سے اوپر تھی تو میرا کمیشن کا امتحان لیکچرر گریڈ 17 کے لیے پاس ہوگیا۔ میں نے اپنے آفس سے ہی اپنے والد کو فون کیا اور یہ خوش خبری سنائی۔ میرے والد نے مجھ سے کہا تمہارا کیا ارادہ ہے میں نے کہا میرا تو دل کرتا ہے ابھی کہ ابھی ہی استعفیٰ دے دوں اور لیکچرر شپ جوائن کر لوں۔ مگر مسئلہ یہ ہے کہ اس وقت مجھے کے الیکٹرک میں تنخواہ ایک لاکھ سے اوپر مل رہی ہے۔ جبکہ لیکچرر شپ میں 16000 روپے ہیں اس میں گزارا کیسے ہو گا۔ ابا نے کہا سوچ لو سب تمہاری مرضی ہے۔ پھر رات کو میں ان سے مشورہ کرنے گیا اور کہا میرا شوق ذوق سب کچھ تدریس ہے مگر مسئلہ ہے تنخواہ کا تو پھر ابا نے عجیب و غریب جواب دیا . کہنے لگے فیصلہ تمہارا ہی ہے تمہاری مرضی مگر یاد رکھنا جب تم اپنے شوق کے پیچھے بھاگتے ہو تو پیسہ بھی تمہارے پیچھے پیچھے بھاگتا ہے اور جو روحانی سکون ملتا ہے وہ الگ ہے۔ اور جب تم پیسوں کے پیچھے پیچھے بھاگتے ہو تو یاد رکھنا زندگی خوار ہو جاتی ہے اور کوئی سکھ روحانی طور پر نہیں مل پاتا۔

جس دن مجھے آفر لیٹر ملا میں نے ابا سے کہا میں k الیکٹرک کو استعفی دینا چاہتا ہوں ابا بجلی کی تیزی سے اپنی میز کرسی پر گئے اور فورن میرے نام سے استعفی لکھ کر لے آئے اور بولے جاؤ اسے دستخط کر کے k الیکٹرک میں دے آو۔ جب میرے والد صاحب کا انتقال ہوا تو ان کے ایک ساتھی میرے قریب آئے اور مجھ سے کہا کہ تم ہی کالج میں پڑھاتے ہو نا، میں نے کہا جی، کہنے لگے تمہیں پتہ ہے تمہارے والد تم سے کتنا پیار کرتے تھے۔ جس دن تم نے کالج جوائن کیا تھا تمہارے والد نے مجھے فون کرکے کہا تھا۔ ” میں آج تمہیں بتا نہیں سکتا کہ میں کتنا خوش ہوں اتنا خوش تو میں اپنے کسی بڑے سے بڑے کام کے ہونے پر بھی نہیں ہوا جتنا میں آج خوش ہوں” میں نے پوچھا کیا وجہ ہے اتنی خوشی کی تو کہنے لگے ” آج میرا بیٹا لیکچرار بن گیا ہے میں تمہیں بتا نہیں سکتا میں کتنا خوش ہوں” ۔ پھر وہ ابا کے دوست کہنے لگے کہ تم کو میں ان کی اس خوشی کا بتا ہی نہیں سکتا جو ان کی آواز سے ظاہر ہو رہی تھی۔ اپنے دوست کو تو اپنے دل کی بات بتا دی لیکن حیرت اس بات کی ہے کہ مجھے یہی بولتے رہے کہ مرضی تمہاری ہے جو دل چاہے کرو مگر اپنی مرضی کو چھپائے رکھا۔

پتہ نہیں کون کہتا ہے کہ بچوں کو مارنا نہیں چاہیے۔ لیکن مجھے تو ایسا لگتا ہے کہ اگر میرے والد صاحب نے مجھے نہیں مارا پیٹا ہوتا اور میں جس طرح کا ہوں کبھی بھی پڑھائی کی طرف نہیں آتا۔ جب ہمارے ابا کسی کام کی وجہ سے شہر سے باہر جاتے تو وہ دن میرے لیے عید کے دن ہوتے تھے پورا وقت کرکٹ کے میدان میں گزرتا تھا۔ بچپن میں جب میں اپنے ابا کو دیکھتا تھا اور اپنے دوستوں کی کرکٹ میں اپنی تعریف کو سوچتا تھا تو بس مجھے ایسا لگتا تھا کہ میری پوری زندگی میں سب سے بڑی مصیبت میرے ابا ہی ہیں جو مجھے میری مرضی نہیں کرنے دے رہے۔ جب دیکھو بات بات پر پٹائی کر دیتے ہیں۔ پورا بچپن میں اپنے ابا کو اپنی زندگی اور شوق کے لیے ولن سمجھتا رہا لیکن جب شعور آیا تو پتہ چلا کہ میرے والد کا ایک ایک تھپڑ میرے لیے ایک نعمت تھا۔ اور خدا کا شکر ہے کہ مجھ جیسے آدمی کو انسان بنا دیا۔

ایک شام کو جب میں اپنے گھر آیا تو مجھے میرے چھوٹے بھائی نے بتایا کہ آج ابو کا الٹراساؤنڈ ہوا تھا جس میں پتا چلا ہے کہ ان کو کینسر ہے اور وہ بھی آخری اسٹیج پر ۔ اف وہ وقت میں آج بھی نہیں بھول سکتا۔ کیونکہ میں نے اپنی زندگی کا ہر فیصلہ ہر کام ہر چیز اپنے والد کے مشورے سے کی تھی مجھے تو ایسا لگ رہا تھا کہ پوری دنیا ختم ہونے والی ہے۔ میں نے اپنے کمرے میں آ کر دروازہ بند کیا اور زور زور سے رونے لگا مجھے ایسا لگ رہا تھا جیسے مسجد سے اعلان ہو رہا ہے انا للہ وانا الیہ راجعون پروفیسر صاحب کا انتقال ہو گیا ہے نماز جنازہ کے لیے تشریف لے آئیں۔ ان اعلانات کو اپنے کان میں محسوس کر کے میرا دل چاہ رہا تھا کہ میں دیواروں سے سر ٹکرا ٹکرا کر مر جاؤں مگر یہ الفاظ نہ سنوں۔ لیکن قدرت کو یہی منظور تھا آخری دن بہت تکلیف کے عالم میں تھے کینسر نے ہر طرف سے جکڑ لیا تھا اور جگر تقریبا ختم ہو چکا تھا ان کی تکلیف کی شدت میں اب تک محسوس کر سکتا ہوں۔ اس شدت میں میری بڑی بہن نے ان سے کہا ابو آپ دنیا کے سب سے اچھے ابو ہیں آپ جیسا کوئی نہیں ہو سکتا۔ آپ کی آنکھیں بند تھیں ایک لمحہ کے لیے کھولیں اور اس تکلیف میں بھی ہلکا سا مسکرائے اور آنکھیں بند کر لیں۔

Add Comment

Click here to post a comment