Home » خاندان کی قبر کھودتا ہوا پاکستانی سینیٹ
کالمز

خاندان کی قبر کھودتا ہوا پاکستانی سینیٹ

*صوبہ خیبر پختونخوا میں آٹھ سال سے مخالفت کا شکار خواتین کے خلاف گھریلو تشدد سے بچاؤ اور حفاظت بل 2021 بعض ترامیم کے ساتھ اتفاق رائے سے منظور کر لیا گیا۔وزیر سماجی بہبود حشام انعام اللہ خان نے جمعے کو اسمبلی کے اجلاس میں یہ بل پیش کیا جس کی فلور پر موجود 44 ارکان اسمبلی نے حمایت کی۔
مذہبی جماعتوں سے تعلق رکھنے والی دو خواتین ارکان اسمبلی کی جانب سے اس بل کی بعض شقوں پر اعتراض بھی کیا گیا۔۔۔خیبر پختونخوا میں گھریلو تشدد کے خاتمے کے بل کا مسودہ پہلی بار اگست 2012 میں عوامی نیشنل پارٹی اور پاکستان پیپلز پارٹی کی متحدہ حکومت میں پیش ہوا تھا، جس پر جمیعت علمائے اسلام ف کے مفتی کفایت اللہ نے اعتراضات اٹھائے تھے۔

بعد ازاں 2014 میں تحریک انصاف کے دور حکومت میں سوشل ویلفیئر ڈیپارٹمنٹ نے اسے دوبارہ ڈرافٹ کیا اور جب ڈیپارٹمنٹ آف لا نے اسے اسلامی نظریاتی کونسل کو ارسال کیا تو انہوں نے اس بل کو اسلامی تعلیمات کے منافی قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا تھا۔اس طرح یکے بعد دیگرے یہ بل 2016، 2018 اور 2019 میں پیش ہوتا رہا اور ہر بار مذہبی جماعتوں اور اسلامی نظریاتی کونسل کی مخالفت کی وجہ سے ناکامی کا شکار ہوتا رہا۔اس ضمن میں سول سوسائٹی کی جانب سے اس موضوع پر ہونے والے سینکڑوں سیمینارز اور ورکشاپس بھی غیرموثر رہے۔اسلامی نظریاتی کونسل کے اس وقت کے چیئرمین محمد خان شیرانی نے تو یہاں تک کہہ دیا تھا کہ ’اسلام سے بغض رکھنے والے پاکستان کے آئین کی خلاف ورزی کر رہے ہیں،‘ لہٰذا انہوں نے بل پیش کرنے والوں کے خلاف آرٹیکل چھ استعمال کرنے کا مطالبہ بھی کیا تھا۔

اس بل کے پاس ہونے سے قبل خیبر پختونخوا پاکستان کا وہ واحد صوبہ تھا، جس نے گھریلو تشدد کے قانون کی منظوری نہیں دی تھی۔ صوبہ سندھ 2013 میں، بلوچستان 2014 میں اور پنجاب 2016 میں خواتین کے خلاف گھریلو تشدد سے بچاؤ اور تحفظ بل کی منظوری دے چکے ہیں۔خیبر پختونخوا کے بعد صرف وفاقی سطح پر اس قسم کے قانون کا متعارف ہونا باقی تھا سو وہ بھی 21 جون 2021 کو خاموشی اور جلد بازی سے منظور کر لیا گیا۔یوں لگتا ہے پاکستان کی تمام سیاسی پارٹیاں اس بات سے بے نیاز ہو چکی ہیں کہ اس ملک میں اقدار و روایات، اخلاق و تہذیب اور شرافت و نجابت کو روندنے والی کسی بھی طرح کی قانون سازی ہوتی رہے وہ اس کا حصہ بھی بنیں گی اور انہیں اس کی پرواہ بھی نہیں ہو گی۔

ایسی ہی ایک ’’وسیع البنیادقومی مصالحت‘‘ کا نظارہ 21جون2021ء کو پاکستان کے ایوانِ بالا یعنی ’’سینیٹ‘‘میں دیکھنے کا موقع ملا، جب ان تمام سیاسی پارٹیوں نے اپنے اختلافات بھلا کر بجٹ کی گالیوں بھری ’’گہما گہمی ‘‘میں بھی گھریلو تشدد (Domestic Violence) کی روک تھام کا بل آناً فاناً منظور کر لیا۔اس مشترکہ قانون سازی کے دوران نہ کسی کو ’’این آر او‘‘ کے طعنے یاد آئے، نہ ’’عمران نیازی‘‘ کو پکار کر گالیاں دینے کی نوبت آئی اور نہ ہی اس قانون میں سندھ کی اجرک اور ٹوپی کی توہین نظر آئی۔ایسے قوانین صرف پاکستان میں ہی نہیں بلکہ دنیا بھر کے ممالک میں تہذیبی، اخلاقی اور معاشرتی عمارت یعنی ’’خاندان‘‘ کی بنیادوں کو ہلانے اور آخر کار اسے مسمار کرنے کے لیئے نافذ کیئے جاتے ہیں۔

پاکستان کے خاندانی نظام کی مضبوط عمارت کو گرانے والے اس ’’جمہوری کدال‘‘ کو پاکستان کی تمام سیاسی پارٹیوں نے مشترکہ طور پر اپنے ہاتھ میں پکڑا ہوا تھا اور خاندان کی عمارت ڈھانے کے لیئے ووٹ دیئے جا رہے تھے۔چاروں صوبوں کے اس نمائندہ ایوان میں صرف جماعت اسلامی کے سینیٹر مشتاق احمد کی آواز گونجتی رہی۔ لیکن اس شخص کے نوحے ، مرثیے اور ماتم کے باوجود سینیٹ میں ’’جمہوری ووٹنگ کی کربلا‘‘ برپا کر دی گئی۔دکھ اور تکلیف کی بات یہ ہے کہ خاندانی نظام کی تباہی اور اسلامی اقدار کے منافی جس بل کو منظور کیا گیا ہے ،

اسے جس کمیٹی نے ترتیب و تدوین بخشی اس کا سربراہ ولید اقبال تھا،جو شاعرِ مشرق علامہ اقبالؒ کا پوتا ہے۔ وہ اقبال جس کی اشک سحرگاہی اس تباہی پر ماتم کرتے گذری ہے۔گھریلو تشدد (تدارک اور روک تھام) کے اس بل میں گھریلو تشدد کی جو تعریف اس کے آرٹیکل (3) میں ہے وہ اس قانون کے خفیہ مقاصد کی وضاحت کیلئے از خود ہی کافی ہے۔چونکہ یہ بل سینٹ میں انگریزی میں پیش کیا گیا تھا اور دانستہ طور پر اس کا اردو ترجمہ بھی فراہم نہیں کیا گیا،
اس لیئے پہلے انگریزی الفاظ کی ’’بُنت‘‘ میں چھپی ہوئی تلواروں کو محسوس کریں اور ساتھ ہی اردو ترجمہ بھی کر رہا ہوں تاکہ اس قانون کے نفاذ کے بعد آئندہ آنے والے دنوں کا نقشہ کھل کر سامنے آ جائے۔
Domestic Violence shall mean all acts of physical, emotional, psychological, sexual and economic abuse committed by a respondent against women, children, vulnerable persons, or any other person with the respondent is or has been in a domestic relationship that causes fear, physical or psychological harm to the aggrieved person.
’’گھریلو تشدد میں ایسے تمام افعال شامل ہوں گے جو کسی گھر میں عورت، بچے یا ’’نقصان پہنچائے جانے کے قابل شخص‘‘ پر جسمانی، جذباتی، نفسیاتی، جنسی یا معاشی بدسلوکی کا باعث بن رہے ہوں۔ایسا شخص گھر میں مقیم کسی بھی رشتے دار کو خوف کا شکار کرتا ہو، جسمانی طور پر نقصان پہنچاتا ہو یا نفسیاتی طور پر پریشان کرتا ہو‘‘۔

اس قانون کے تحت چونکہ صرف جسمانی تشدد کی وضاحت کی ضرورت نہیں تھی کیونکہ وہ بہت واضح ہوتا ہے اور نظر آتا ہے اور اس کی میڈیکل رپورٹ بنائی جا سکتی ہے اس لئے تفصیل درج نہیں کی گئی۔مگر ’’جذباتی تشدد‘‘ کی وضاحت چونکہ ضروری تھی اس لیئے وضاحت کے طور پر آرٹیکل کے ( سیکشن میں نو (9) طرح کے جذباتی اور نفسیاتی تشدد کی فہرست دی گئی ہے۔ان میں سے چند ایک ملاحظہ فرمائیں،جس کی حسبِ ضرورت تشریح بھی کی جا رہی ہے تاکہ قانون کے پیچھے چھپی ’’خباثت‘‘ واضح ہو سکے۔(1۔کسی شخص کے ذہن میں جنون کی حد تک کسی دوسرے شخص پر اختیار (Obsessive Possessive) کا مسلسل اظہار، یا کسی خاندانی ممبر سے اس قدر حسد وغیرہ جس سے اس فرد کی آزادی، ذاتی خلوت (Privacy)یا اسکی سلامتی خطرے میں آ جائے(اس شق کے تحت اگر کوئی باپ اپنی اولاد سے شدت کی محبت کرتے ہوئے اسے غلط کام کرنے سے ٹوکتا ہے اور وہ اولاد اسے اپنی زندگی میں دخل اندازی محسوس کرتی ہے تو پھر وہ بیٹا یا بیٹی اپنے والد کے بتائے ہوئے اخلاقی، مذہبی یا معاشرتی بندھنوں کے خلاف باپ پر مقدمہ کر سکتی ہے۔)

(2۔اگر کوئی فرد گھر میں کسی کا مذاق اڑاتا ہے، اس کی توہین کرتا ہے ۔(یعنی اگر باپ یا ماں، بھائی یا بہن کسی کو ’’جگت‘‘ بھی مار دیں تو مقدمہ ہو سکے گا)
(3۔کوئی شخص اپنی بیوی یا گھر کے کسی دوسرے شخص کو کہتا ہے کہ میں تمہیں ماروں گا۔(یعنی اگر آپ اولاد کو ڈرانے کے لئے مارنے کی دھمکی دیتے ہیں تو یہ ایک جرم ہے)(4۔کوئی خاوند اپنی بیوی سے کہتا ہے کہ میں تمہیں طلاق دے دوں گا یا دوسری شادی کر لوں گا اور بیوی پر بانجھ پن یا پاگل پن کے جھوٹے الزامات لگاتا ہے۔(یعنی طلاق اور دوسری شادی تو دور کی بات ہے ایسے دھمکی آمیز الفاظ بھی منہ سے نکالنا جرم ہیں)(5۔ کوئی شخص مرضی سے یا بے خبری سے گھر کے افراد سے قطع تعلق کر لیتا ہے۔ ان نو (9)شقوں میں سب سے خوفناک شق ’’Stalking‘‘ ہے جس کے اردو اور انگریزی لغت میں بیمار معنی ہیں،
یعنی اکڑ کر چلنا، تعاقب کرنا وغیرہ وغیرہ۔ اس کا مطلب ہے کہ کسی باپ کو آپ صرف اس بات پر بھی عدالت کے کٹہرے میں لا کر کھڑا کر سکتے ہیں کہ اس نے اپنی اولاد کے بارے میں اتنی سی معلومات حاصل کرنے کی کوشش کی تھی کہ وہ کہیں غلط ہاتھوں میں آ کر نشہ وغیرہ کی عادی تو نہیں ہو گئی ہے۔
اس قانون کے تحت گھر کا کوئی بھی ’’ناراض‘‘ شخص عدالت میں درخواست دے سکے گا اور عدالت اس سے پہلا سوال یہ کرے گی کہ تم اس ’’باپ‘‘ ،’’ماں‘‘ ، ’’خاوند‘‘ یا ’’بیوی‘‘کے ساتھ ایک ہی گھر میں رہنا چاہتے ہو یا نہیں۔اگر وہ نہ کر دے تو عدالت ملزم کو حکم دے گی کہ وہ اسے علیحدہ گھر لے کر دے یا اگر وہ ایسا نہ کر سکتا ہو تو پھر عدالت اسے کسی دارالامان وغیرہ بھیج دے گی۔

عدالت کو اگر اس درخواست کے آغاز میں ہی یہ اندازہ ہو جائے کہ ملزم کے خلاف مقدمہ درست بنتا ہے تو وہ ایک عارضی حکم جاری کرے گی جس کے تحت ملزم سے کہا جائے گا کہ وہ درخواست گذار سے براہ راست یا فون اور موبائل پر بات چیت بھی نہیں کر سکتا۔ایسے ملزم کو درخواست گذار سے دور رکھنے کے لئے اس کے ہاتھ میں ایک پٹہ پہنا دیا جائے گا جس میں ایک جی پی ایس ٹریکر لگا ہو گا، تاکہ معلوم ہو سکے کہ ملزم کہیں عدالت کے حکم کی خلاف ورزی تو نہیں کر رہا۔
عدالت اپنے احکامات کی نگرانی کے لئے علاقے کے تھانے کے ایس ایچ او کی ذمہ داری لگائے گی۔یہ قانون سینیٹ نے 21جون 2021ء کو منظور کر لیا ہے اور اس کی منظوری میں جس سیاسی اتحاد کا مظاہرہ ہوا ہے، اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ قومی اسمبلی میں بھی اس کی منظوری یقیناً ہو جائے گی۔ اس بل کی پیش کار شیریں مزاری نے قانون پیش کرتے ہوئے کہا کہ ہم اسے اقوامِ متحدہ کے قوانین کی پاسداری میں بنا رہے ہیں۔عالمی اداروں کا نام سن کر ٹانگیں تو کانپنا تھیں ہمارے جمہوری رہنماؤں کی۔

کسی بھی معاشرے میں جب حکومتیں ایسے قانون نافذ کرتی ہیں جن کا عوام کی اخلاقیات اور معاشرتی زندگی سے دور کا بھی واسطہ نہیں ہوتا تو پھر تاریخ میں اس کے دو ردّعمل نظر آتے ہیں۔عوام میں سے بزدل لوگ اس طرح کے قوانین سے بچنے کے لیے بیشمار طریقے اختیار کرتے ہیں مگر اس پر عمل نہیں کرتے۔لیکن عوام کی اکثریت کے علاوہ لاتعداد ناراض لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جو اس طرح کے اخلاقی زوال پر شدید برہم ہو جاتے ہیں جس کے نتیجے میں بیشمار لٹھ مار گروہ ضرور پیدا ہوتے ہیں جو قوتِ بازو سے ایسے قوانین کا راستہ روکتے ہیں۔پاکستان جیسے مسلمان معاشرے میں ایسے ’’قانون‘‘ کے نفاذ سے دوہرا مقصد حل کیا جا رہا ہے۔اگر لوگ راضی ہو گئے تو خاندان کی تباہی و بربادی کا راستہ نکل آئے گا۔اور مرد حضرات شادی کرنے سے انکاری ہو جائیں گے اور بوائے فرینڈ گرل فرینڈ کا رواج عام ہو جائے گا اور مغرب کی طرح حرامزادوں کی پیدائش ہو گیلیکن اگر لوگ اٹھ کھڑے ہوئے تو یہ کہنے کا بہانہ مل جائے گا کہ مسلمان تو ہیں ہی ’’شدت پسند‘‘۔اس سے بڑھ کر عورت کی کیا توہین ہو گی کہ اس سے اس کی عزت احترام چادر چاردیواری ہمیشہ کے لئے چھین کر مغربی عورت کی طرح بازاری طوائف رنڈی گشتی بنا دیا جائے

جو دو وقت کی روٹی کے لئے اپنے جسم کو بیچنے پر مجبور ہو جائےجس پر راہ چلتا ہر مرد تشدد کر سکتا ہواس کی عزت سے کھلواڑ کر سکتا ہوسر چھپانے کے لئے چھت میسر نہ ہوبیماری میں علاج اور حال پوچھنے والا کوئی نہ ہواس سے بڑھ کر پاکستانی عورت سے اور کیا انتقام لیا جائے گااگر پاکستانی عوام کو ذرا سا بھی ہوش ہے تو اس بل کو سمجھیں اور اپنے خاندانی نظام کو مضبوط کرنے کی کوشش کریںدین اسلام میں جو خاندانی نظام کے لئے اصول دئیے گئے ہیں انہیں پڑھیں سمجھیں ان پر سختی سے عمل کریں ان شاء اللہ تعالیٰ خیر ہی خیر برآمد ہو گیکیونکہ اللہ تعالیٰ کے بنائے ہوئے قوانین ہمیں سمجھ آئیں نہ آئیں ان پر عمل پیرا ہونے میں ہی دو جہانوں کی کامیابی ہےاللہ تعالیٰ ہمیں سوچنے سمجھنے اور دشمن کی چالوں کو پہچاننے کی توفیق عطا فرمائےآمین ثم آمین یا رب العالمین جزاک اللہ خیرا و الحسن الجزا

Add Comment

Click here to post a comment