Home » خاموش فلموں کا بولتا فنکار
معلومات

خاموش فلموں کا بولتا فنکار

” مزاحیہ اداکاری ، المیہ اداکاری کے مقابلے میں زیادہ مشکل ہے ۔ ۔ ۔ ۔ وہ بندہ جس نے روز ایک قہقہ نہیں لگایا ، سمجھو اس نے اپنی زندگی ضائع کر دی ۔ ۔ ۔ ۔ اپنے قدموں میں دیکھنے والا ، کبھی قوس قزح دیکھ نہیں پاتا ۔ ۔ ۔ ۔ زندگی کو اگر نزدیک سے دیکھا جائے تو یہ المناک ہے جبکہ دور سے دیکھنے پر، اس پر ہنسی آتی ہے ۔ ۔ ۔ ۔ چارلی چیپلن “

چارلی چپلن کا نام فلمی تاریخ میں ایک سنگِ میل ہے اور فلمی دنیا کی بہت سی نامور شخصیتوں کے لیے مشعل راہ بھی ۔ چارلی چپلن کا نام سنتے ہی ذہن میں چھوٹے قد کے ایک انگریز کی تصویر ابھرتی ہے جس نے ایک تنگ کوٹ پہن رکھا ہے ۔ اپنے سائز سے بڑی ڈھیلی ڈھالی پتلون اور ڈھیلے ڈھالے جوتے پہنے ہوئے ہیں ۔ مخصوص طرز کا ‘ ڈربی ‘ ہیٹ پہن رکھا ہے اور ہاتھ میں ایک چھڑی پکڑ رکھی ہے ۔ اس کی مونچھیں بھی مخصوص تراش کی ہیں ۔ جب فلمیں بننا شروع ہوئیں تو آغاز خاموش فلموں سے ہوا ۔ خاموش فلموں میں ویسے تو بہت سے اداکاروں اور اداکاراﺅں نے کام کیا لیکن چارلی چپلن وہ واحد نام ہے جو خاموش فلموں کے ساتھ لازم و ملزوم سمجھا جاتا ہے ۔

چارلی چپلن کے فلمی نام کے پیچھے اس کا اصل نام سر چارلس سپنسر چپلن جونئیر ہے ۔ وہ 16 ، اپریل 1889ء کو ایسٹ سٹریٹ ، وال ورتھ ، لندن میں پیدا ہوا ۔ اس کے والدین بھی سٹیج سے وابستہ تھے اور گایا کرتے تھے ۔ جب دو تین سال کا ہوا تو اس کے والدین میں علیحدگی ہوگئی اور وہ اپنی والدہ ہانا (Hannah) اور اپنے بڑے بھائی کے ساتھ بارلو سٹریٹ میں رہنے لگا ۔ اس کے والد چارلس چپلن سینئر ، ہانا سے علیحدگی کے بعد اپنی داشتہ لوئیز کے ساتھ رہتے تھے اور انہیں شراب سے بلا کی رغبت تھی ۔ چارلی چپلن کا اپنے والد سے بہت کم رابطہ رہا ۔ جب چارلی چپلن کے والد کا انتقال ہوا تو وہ بارہ سال کا تھا ۔

چارلی چپلن کے کیرئیر کا آغاز بالکل حادثاتی تھا ۔ ان کی والدہ ایلڈر شاٹ تھیٹر میں گانا ’ La Cantina ‘ گا رہی تھی تو سامعین نے اس پر ہوٹنگ کرنا شروع کر دی اور جو ہاتھ میں آیا وہ سٹیج پر پھینکنا شروع کر دیا ۔ ہانا اس دوران زخمی ہو گئی اور اسے سٹیج کے عقب میں جانا پڑا ۔ چارلی اس وقت پانچ برس کا تھا ۔ اپنی والدہ کو زخمی حالت میں دیکھ کر وہ سٹیج پر چلا گیا اور جیک جونز ( Jack Jones ) کی ایک مشہور دُھن پر گانا شروع کر دیا ۔ غل غپاڑہ کرنے والے سامعین ان کے گانے پر خاموش ہو گئے اور سٹیج پر سِکوں کی بارش کر دی ۔ یوں چارلی چپلن بطور آرٹسٹ ابھرا ۔ ایسا ہی ایک اتفاق تب بھی ہوا تھا جب لاہور میں ‘ کے ایل سہگل ‘ نے ایک پبلک محفل میں اس وقت گانا گانے سے انکار کر دیا تھا جب بجلی چلی گئی تھی ۔ سامعین شور مچانے لگے تھے تو ایسے میں ‘ فیقو ‘ ( محمد رفیع ) نے تیرہ برس کی عمر میں سٹیج پر آ کر مائیک کے بغیر ہی گانا شروع کرکے سامعین کو خاموش کرا دیا تھا ۔وہ تب تک گاتا رہا جب تک بجلی نہ آ گئی اور کے ایل سہگل نے گانا شروع نہ کر دیا ۔ یوں برصغیر ہند و پاک کے نامور محمد رفیع کے کیرئیر کا آغاز ہوا تھا ۔

چارلی چپلن کی والدہ ہانا جو Schizophrenia کی مریض تھی اور پہلے بھی کین ہل (Cane Hill) کے دماغی ہسپتال میں رہ چکی تھی کو دوبارہ ہسپتال میں داخل ہونا پڑا ۔ چارلی چپلن اور اس کے بھائی سڈنی چپلن نے جیسے تیسے میوزک ہال لندن میں سٹیج پر پرفارم کرکے گزارا کیا ۔ بچپن میں کاٹی یہ غربت بعدازاں اس کی فلموں میں ، اس کے کرداروں اور فلموں کی تھیم پر بھی اثرانداز رہی ۔ چارلی چپلن کا ماں کی طرف سے ایک اورسوتیلا بھائی ویلر ڈرائی ڈن (Wheeler Dryden) بھی تھا جو بعدازاں چارلی چپلن کے ساتھ اس کے ہالی وڈ سٹوڈیو میں کام کرتا رہا ۔ ہانا کا انتقال 1928ء میں ہالی وڈ میں ہوا جہاں سات سال قبل وہ اپنے بیٹوں کے ہمراہ آ گئی تھی ۔

پانچ سال کی عمر میں اپنی ماں کی جگہ ایلڈر شاٹ تھیٹر میں پرفارم کرنے کے بعد چارلی چپلن کے پیشہ وارانہ کیرئیر کا آغاز اس وقت ہوا جب اس نے ” لنکا شائر کے آٹھ لڑکے “ (The Eight Lancashire Lads) نامی ٹروپے (ٹولی) میں شمولیت اختیار کی ۔ یہ ناچنے والوں کی وہ ٹولی تھی جو برطانیہ کے تھیٹرز میں ناچ گانے کے پروگرام کرتی تھی ۔ 1907ء تک برطانیہ کے مختلف تھیٹروں میں کام کرتے کرتے وہ ” سلیپ سٹک کامیڈی کمپنی “ (Slapstick Comedy Company) کے سٹیج شو ” فن فیکٹری“ میں مسخرہ بنے اور اس ٹولی (Troupe) کے سٹار بن گئے ۔

چارلی چپلن نے 1910تا 1912ء تک ” کارنو ٹروپے“ (Karno Troupe) کے ساتھ امریکہ کا دورہ کیا ۔ واپس آ کر وہ دوبارہ اکتوبر1912ء میں’ ’کارنو ٹروپے “ کے ہمراہ ہی دوبارہ امریکہ گیا اور وہیں رہ گیا ۔ 1913ء کے آخر میں فلم پروڈیوسر میک سینیٹ ( Mack Sennett ) نے اس کی پرفارمنس دیکھی اور اسے اپنے سٹوڈیو’’ کی سٹون فلم کمپنی “ میں نوکری دے دی ۔ چارلی چپلن کی پہلی فلم ” میکنگ اے لیونگ “ (Making a Living) جو ایک ریل ( Reel ) کی مزاحیہ فلم تھی ، 2 فروری 1914ء کو نمائش کے لیے پیش ہوئی ۔’ کی سٹون سٹوڈیوز ‘ کے ساتھ اپنی ابتدائی فلموں میں اپنا مشہور کردار’ ٹریمپ ‘ ” Tramp ” ( جو فرانس ، اٹلی، سپین، یونان اور پرتگال میں ”شارلٹ“ کے نام سے جانا جاتا تھا ) بنانے کے ساتھ ساتھ اس نے فلم سازی کا کام بھی تیزی سے سیکھا ۔ ’ Tramp ‘ کے کردار بارے میں وہ اپنی آپ بیتی میں لکھتا ہے :

”۔ ۔ ۔ مجھے ” میکنگ ان لیونگ “ میں اپنا پریس رپورٹر کا کردار اور میک اپ پسند نہیں آیا تھا لیکن وارڈ روب تک جاتے جاتے میں نے سوچ لیا تھا کہ میں ڈھیلی ڈھالی پتلون ، بڑے سائز کے جوتے ، چھڑی ، ڈربی ہیٹ استعمال کروں گا ۔ میں ہر چیزمیں تضاد ڈالنا چاہتا تھا ۔ ڈھیلی ڈھالی پتلون پر تنگ کوٹ ،چھوٹا ہیٹ ، کھلے جوتے۔ لیکن ابھی میں یہ فیصلہ نہیں کر پایا تھا کہ میں بوڑھا لگوں یا جوان ۔ لیکن سینیٹ مجھے جوان کردار میں نہیں دیکھنا چاہتا تھا لہذا میں نے بڑا لگنے کے لیے اپنے چہرے پر مونچھوں کا اضافہ کیا ۔ مجھے اس کردار کا کوئی اندازہ نہیں تھا مگر جب میں اس گٹ اپ میں سٹیج پر گیا تو Tramp پوری طرح وجود میں آ چکا تھا اور میں اسے اچھی طرح جانتا تھا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “

چارلی چپلن نے 1915ء میں اپنی چھوٹی فلموں کی ہدایتکاری اور تدوین کرنا شروع کر دی اور فلمی دنیا کا یہ سفر آگے سے آگے ہی بڑھتا گیا ۔ اس نے اپنا فلم سٹوڈیو بھی بنایا اور 1919ء میں میری پِک فورڈ ، ڈگلس فیئر بینکس اور ڈی ڈبلیو گرفتھ کے ہمراہ ” یونائیٹڈ آرٹسٹس “ نامی فلمیں تقسیم کرنے کی کمپنی کھڑی کی جس کے بورڈ آف ڈائریکٹرز میں وہ 1952ء تک رہا ۔ چارلی چپلن کا فلمی کیرئیر بہت لمبا ہے ۔ 1914ء سے لے کر 1967ء تک اس کی فلموں کی تعداد پچاسی سے زیادہ تھی ۔ جن میں سے بیشتر اس نے خود لکھیں ، ان میں کام کیا اور ڈائریکٹ کیں ۔

بولتی فلمیں ، گو ، 1927ء سے بننا شروع ہو گئی تھیں لیکن چارلی چپلن نے 1940ء تک خاموش فلمیں بنانے اور ان میں کام کرنے کو ہی ترجیح دی ۔ ” دی گریٹ ڈکٹیٹر“ (1940) اس کی پہلی بولنے والی فلم تھی ۔ یہ فلم ایڈولف ہٹلر اور اس کے نازی ازم کے خلاف تھی ۔ اس فلم میں چارلی چپلن نے ہٹلر کا کردار خود ادا کیا تھا ۔ ساتھ ہی ایک یہودی بال کاٹنے والے کا کردار بھی کیا جسے نازی بے دردی سے قتل کردیتے ہیں ۔ ہٹلر کے کردار میں چارلی چپلن اپنے مزاحیہ کردار سے بالکل ہٹ کر اسی طرح لوگوں سے مخاطب ہوتا ہے جس طرح ہٹلر ہوا کرتا تھا ۔ چارلی چپلن کے بارے میں اس فلم کے حوالے سے ایک روایت بھی ہے : جب ایک نازی نے ان سے پوچھا کہ کیا وہ یہودی ہے تو اس نے سادگی اور بھولے پن سے جواب دیا؛’ نہیں مجھے یہودی ہونے کا اعزاز حاصل نہیں ہے ۔

چارلی چپلن کی بہت سی فلمیں زبردست اور کامیاب تھیں جن میں” دی گریٹ ڈکٹیٹر“ اور” لائم لائٹ “، ” ماڈرن ٹائمز“ ، ” مونسیور ورڈاکس “ نمایاں ہیں ۔ ” لائم لائٹ “ گو 1952 ء میں بنی لیکن امریکہ میں ایک ہفتے سے زائد نمائش نہ ہونے کے باعث اسے دو دہائیوں تک آسکر ایوارڈ کے لیے منتخب نہیں کیا گیا ۔ 1972ء میں اس فلم کو آسکر دیا گیا ۔ اس کی خاموش فلم ‘ گولڈ رش ‘ بھی اہم ہے ؛ اس فلم میں پورا شہر سونے کی تلاش میں نکل پڑتا ہے ۔ دنیا میں کہیں بھی دولت کا آسان اور تیز رفتار ذریعہ سامنے آئے تو لوگ اس پر پل پڑتے ہیں ۔ یوں’ گولڈ رش ‘ (Gold Rush) کی اصطلاح استعمال ہوتی ہے ۔

چارلی چپلن گو پیدائشی عیسائی تھا لیکن وہ تمام عمر تشکیک کا شکار ( Agnostic ) رہا ۔ اس کی سیاسی ہمدردیاں ہمیشہ بائیں بازو کے ساتھ رہیں ۔
1940ء کی دہائی میں چارلی چپلن جیسا مشہور اداکار، فلم ساز اور اثرورسوخ رکھنے والے امریکہ میں رہائش پذیر ، غیر ملکی کے ایسے خیالات بہت سے امریکیوں کے لئے ناپسندیدہ تھے ۔ چارلی چپلن کی فلم ” گریٹ ڈپریشن “ سے قبل ان کی فلموں میں کوئی سیاسی رنگ نہیں تھا سوائے اس کے کہ Tramp کا کردار غربت اور محرومیوں کی عکاسی کرتا تھا اور بار بار اس کردار کا ٹاکرا ریاستی قانون سے ہوتا تھا ۔ چارلی چپلن نے 1930ء کی دہائی میں جو فلمیں بنائیں وہ واضع طور پر سیاسی تھیں ۔ ” ماڈرن ٹائمز“ میں صنعتی کارکنوں اور غریب عوام کو بے روزگاری کے عالم میں دکھایا گیا تھا ۔ ” دی گریٹ ڈکٹیٹر“ میں اس بات کو کُھلے عام کہا گیا تھا کہ حُب الوطنی اور قوم پرستی کی اندھا دھند تقلید نہیں کرنی چاہیے ۔ 1942ء میں چارلی چپلن کھلے عام اس بات کی بھی حمایت کرتا رہا کہ سوویت یونین کی مدد کے لیے اتحادی فوجوں کو جرمنی کے خلاف ایک اور محاذ کھولنا چاہیے ۔ اس کی تقریروں کے حوالے سے یہ بھی کہا جاتا ہے کہ وہ تقریروں میں واضح طور پر کہتا تھا کہ دوسری جنگ عظیم کے ختم ہونے پر کمیونزم ساری دنیا پر چھا جائے گا اور انسانی ترقی کی باگ ڈور سنبھال لے گا ۔ ان تقریروں کے علاوہ چارلی چپلن نے جنگ کے حوالے سے کی جانے وا لی سرگرمیوں کی حُب الوطنی کے جذبے کے تحت حمایت کرنے سے انکار کردیا جس پر لوگ خاصے ناراض ہوئے ۔ جنگ کے بعد 1947ء میں اس کی فلم ’ موسیور ورڈاکس ‘ (Monsieur Verdoux) میں سرمایہ داری نظام کو جس طرح تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا اس نے چارلی چپلن کی مخالفت کو اور ہوا دی ۔ امریکہ کے مختلف شہروں میں اس فلم کے خلاف مظاہرے بھی کئے گئے ۔ چارلی چپلن کی آخری امریکی فلم ” لائم لائٹ “ (1952) البتہ کم سیاسی تھی ہاں ” اے کنگ اِن نیویارک “ (1957ء) جو اس نے یورپ میں بنائی تھی ، میں اس نے اس سیاسی دشمنی کو شدید طنز کا نشانہ بنایا جس کی بنیاد پر پانچ سال قبل اسے امریکہ چھوڑ کر سوئیٹزر لینڈ میں آباد ہونا پڑا تھا ۔ اس فلم کے بعد چارلی چپلن نے سیاسی بیانات دینے سے گریز کرنا شروع کر دیا اور مذاقاً یہ کہنا شروع کر دیا کہ مزاحیہ اداکار اور مسخرے سیاست سے ماورا ہوتے ہیں ۔ اس کی شاید ایک وجہ یہ بھی تھی کہ سوویت یونین نے بھی ان کی حوصلہ افزائی نہیں کی تھی کیونکہ وہ باوجود بائیں بازو کے حامی ہونے کے اس کے کیمپ میں شامل نہیں تھا ۔

 

چارلی چپلن کو کامیابی کی بلندی امریکہ میں حاصل ہوئی اور اس نے 1914ء سے 1952ء تک کا عرصہ امریکہ میں بطور ’ ریذیڈنٹ ‘ گزارا لیکن امریکی شہریت کبھی اختیار نہ کی اور اپنی برطانوی شہریت کو برقرار رکھا ۔ میکارتھی ازم کے زمانے میں چارلی چپلن کو امریکہ مخالف سرگرمیوں میں ملوث قرار دیا گیا ۔ ان پر شبہ کیا جاتا تھا کہ وہ کمیونسٹوں کے ہمدرد تھے۔ ایف بی آئی کے ڈائریکٹر ”جے ایڈگر ہوور“ (J. Edgar Hoover) نے ایف بی آئی کو ہدایت کر رکھی تھی کہ ان کی کڑی نگرانی کریں اور ان کی ہر حرکت پر خفیہ فائلیں تیار کریں ۔ 1942ء میں جب چارلی چپلن نے سوویت یونین کی حمایت میں سیاسی تقاریر کیں تو ایف بی آئی کا دباﺅ اور بڑھ گیا اور 1940ء کی دہائی ختم ہونے تک یہ مسلسل بڑھتا رہا۔

چارلی چپلن 1952ء میں مختصر دورے پر اپنے آبائی ملک برطانیہ آیا ۔ جے ایڈگرہوور کو جب اس کا پتہ چلا تو اس نے ان کا امریکہ میں دوبارہ داخل ہونے کا پرمٹ کینسل کروا دیا ۔ یوں چپلن نے یورپ میں ہی بس جانے کا فیصلہ کیا اور سوئیٹزرلینڈ کے شہر’ وی وے‘ (Vevey) میں گھر بنا لیا ۔ بیس برس بعد جب اسے اعزازی آسکر دیا گیا اور اکیڈیمی آف موشن پکچر آرٹس اینڈ سائنسز نے آسکر لینے کے لیے تقریب میں آنے کی دعوت دی تو امریکی حکومت نے انہیں سنگل انٹری ویزا دیا اور وہ بھی صرف دو ماہ کے لیے حالانکہ اب چارلی چپلن بوڑھا ہو چکا تھا اور غیر سیاسی بھی مگر میکارتھی ازم کے زمانے کا لگا ٹھپہ امریکی حکومت کے لیے 1972ء میں بھی اہم تھا ۔

چارلی چپلن کو پہلا اعزازی آسکر 1929ء میں فلم ” دی سرکس “ کے لیے ملا تھا جبکہ دوسرے کے لیے انہیں چوالیس برس انتظار کرنا پڑا لیکن یہ انتظار اپنی جگہ اس لیے بھی یادگار بن گیا کہ جب وہ آسکر ایوارڈ لینے سٹیج پر گئے تو سامعین نے کھڑے ہو کر ان کے لیے پانچ منٹ تک تالیاں بجائیں جو آسکر ایوارڈزکی تاریخ میں پہلی بار کسی کے لیے ہوا تھا ۔ ان کی فلم ” دی گریٹ ڈکٹیٹر “ اور” مونسیور ورڈوکس “ بھی آسکر کے لیے نامزد ہوئیں ۔ ” لائم لائٹ “ اور ” ماڈرن ٹائمز “ بھی اعلیٰ پائے کی فلمیں تھیں لیکن چونکہ چارلی چپلن اپنے سرگرم سالوں میں اکیڈیمی پر اپنی طنز کے نشتر چلاتے رہتے تھے لہذا ان کی ان فلموں کو اکیڈیمی نے اہمیت نہ دی ۔ البتہ ان کی فلم” لائم لائٹ “ (1952) کو بیس برس بعد آسکر دینا ہی پڑا ۔ چارلی چپلن کی آخری فلم ” اے کاﺅنٹیس فرام ہانگ کانگ “ (1967) تھی جس میں مرکزی کردار صوفیہ لورین اور مارلن برانڈو نے ادا کئے تھے ۔ چارلی چپلن نے اس میں ایک مختصر کردار کرتے ہوئے اپنی جھلک آخری بار فلم میں دکھائی ۔

1970ء کی دہائی میں جہاں اس نے اپنی آپ بیتی ” مائی لائف ان پکچرز“ (1974) لکھی وہاں اس نے اپنی خاموش فلموں کے لیے موسیقی ترتیب دینا بھی شروع کی ۔ چنانچہ ” دی کِڈ “، ” دی سرکس “ اور ” اے وومن آف پیرس “ چارلی چپلن کی موسیقی میں دوبارہ ریلیز ہوئیں ۔چارلی چپلن کی زندگی میں عورتوں کی آمدورفت لگی رہی ؛ ان خواتین نے اس کی زندگی کو خاصے عذاب میں رکھا ، بہرحال ایسا تو ہوتا ہے پھر اس طرح کے کاموں میں ۔ کم از کم چار خواتین تو ایسی ہیں جو چارلی چپلن کی مختلف ادوار میں بیویاں بھی رہیں : مِلڈرڈ ، لیلیتا ، پالیٹی اور اوونا ۔ اس کی چوتھی بیوی اوونا نے اس کے آٹھ بچے پیدا کیے تھے ۔ 1919 ء اور 1962 ء کے دمیان چارلی کے گیارہ بچے ہوئے جن میں سے نارمن صرف تین دن ہی زندہ رہا ۔ اس کے بعد پیدا ہونے والے دو بیٹے چارلس چپلن جونئیر اور سڈنی چپلن بھی اب دنیا میں نہیں رہے ۔ اس کے سارے بچے فنون لطیفہ ، فلم ، موسیقی اور سرکس سے وابستہ رہے اور ہیں ؛ ان میں گیرلڈین چپلن (Geraldine Chaplin) نے اداکاری میں نام کمایا ؛ وہ ڈیوڈ لین کی فلم ڈاکٹر ژواگو (Dr. Zhivago ) ، 1965 ، میں اپنے کردار ‘ تونیا گرومیکو ‘ کے حوالے سے جانی جاتی ہے وہ اس وقت 75 برس کی ہے ۔ چپلن کا سب سے چھوٹا بیٹا ‘ کرسٹوفر ‘ ہے جو پیانو بجاتا ہے اور موسیقار ہونے کے ساتھ ساتھ اداکار بھی ہے ۔

جس طرح دوسرے آسکر نے اسے 44 برس انتظار کروایا اسی طرح ” نائٹ ہڈ “ کا اعزاز بھی اسے اتنے ہی برس بعد ملا ۔ نائٹ ہڈ کے لیے اسے پہلی بار 1931ء میں نامزد کیا گیا تھا پھر دوبارہ 1956ء میں ایک بار اور اس کی نامزدگی ہوئی لیکن برطانیہ کے کنزرویٹوز نے امریکہ سے تعلقات خراب ہونے کے خدشے کے تحت ان نامزدگیوں کو ویٹو کر دیا ۔ بہرحال 4 ، مارچ 1975ء کو اسے ملکہ الزبتھ دوم نے 85 برس کی عمر میں ” نائٹ ہڈ “ عطا کر ہی دی ۔

88 برس کی عمر میں ، 25 دسمبر 1977ء جب دنیا کرسمس منا رہی تھی ، کو فلمی دنیا کا یہ بڑا اداکار، فلمساز، موسیقار، گیت نگار اور ہدایتکار جس سے فلمی تاریخ کا ایک بہت بڑا حصہ بھرا پڑا ہے ، نیند کے عالم میں اس دنیا سے رخصت ہوگیا ؛ اپنی زندگی کے آخری دنوں میں بھی اس کا مزاح برقرار تھا ۔ ایک پادری نے اسے دعا دی ؛” خدا تمہاری روح پر رحم فرمائے۔۔ “جواباً چارلی چیپلن نے کہا ؛” کیوں نہیں ! اس کا یہی کام تو ہے۔ “وہ اپنے غم لوگوں سے چھپاتا تھا ۔ اس کا کہنا تھا ؛ ” ۔ ۔ ۔ مجھے بارش میں چلنا پسند ہے کیونکہ بارش میں میرے آنسو کوئی نہیں دیکھ پاتا ۔ ۔ ۔ “

وہ ، وی وے ‘ Vevey ‘ ، سوئیزر لینڈ میں دفن ہے جہاں اس سے عقیدت کے اظہار میں اس کا مجسمہ بھی کھڑا ہے ۔ اسی سے ملتا جلتا ایک اور مجسمہ لند ن میں بھی نصب ہے۔ مادام تساﺅ کے مومی عجائب گھر میں بھی اس کا مجسمہ شامل ہے ۔ بہت سے مشہور فلم سازوں اور ہدایت کاروں جن میں پیزولینی، اولمی ، لیون اور فیلینی نمایاں ہیں ، نے اپنی کئی فلموں کو چارلی چپلن کے نام منسوب کیا ۔چارلی چپلن کی اداکاری کی نقل دنیا کے بہت سارے اداکاروں نے بھی کی جس کی ایک بڑی مثال پاک و ہند کے مشہورسپُرسٹار راج کپور کی ہے جس نے ” شری 420 “ ،” میرانا م جوکر“ اور کئی دوسری فلموں میں اس جیسا گٹ اپ اپنایا اور اس جیسی اداکاری کرنے کی کوشش کی ۔

1985ء میں برطانیہ نے اس کا یادگاری ڈاک ٹکٹ جاری کیا جبکہ امریکیوں کو اس کا خیال 1994ء میں آیا اور چارلی چپلن کی یادگاری ٹکٹ جاری کر ہی دی ۔ لیکن ان کا بغض جاری رہا ۔ 1999ء میں امریکن فلم انسٹی ٹیوٹ نے ایک سروے کروایا جس کا نام Greatest Stars of All Times تھا ، اس میں چارلی چپلن کو دسویں نمبر پر جگہ دی گئی ۔ لیکن چارلی چپلن کے چاہنے والے بھی بہت تھے جس کی ایک مثال فلم ‘ چپلن ‘ تھی جسے مشہور ہدایت کار رچرڈ ایٹن برگ نے 1992ء میں ریلیز کیا تھا ؛ اس فلم میں چارلی چپلن کی بیٹی ‘ گیرلڈین ‘ نے اپنی دادی کا کردار ادا کیا تھا ۔ بعد ازاں کینیڈا کا مشہور فوک گیت نگار اور گلوکار ٹیروِس میک ری (Travis MacRae ) نے 2006ء میں اپنی البم ” برائے مہربانی مجھے پانی کے ساتھ شیطان بھی پکڑا دو“ ( Pass me the Devil and Water Please ) کو شروع ہی چارلی چپلن کی اس مشہور تقریر سے کیا جو اس نے اپنی فلم ” دی گریٹ ڈکٹیٹر“ میں کی تھی ۔

سن 2014 ء میں چارلی چیپلن کے سوانح نگار ‘ ڈیوڈ رابنسن ‘ نے’ فُٹ لائٹس‘ نامی ایک ناول مرتب کیا ۔ یہ چارلی چیپلن کی 1952 ء میں بننے والی فلم ’ لائم لائٹس ‘ کے سکرپٹ پر مبنی تھا ۔ بقول ڈیوڈ رابنسن چارلی چپلن نے اس فلم کے سکرپٹ کو لکھنے سے پہلے یہ ناول لکھا تھا ۔ ‘ فٹ لائٹس ‘ 70 صفحوں پر محیط ہے اور اس میں تقریباً 34 ہزار الفاظ ہیں ۔ چارلی چیپلن کو اپنے ناول کو فلم کے سکرپٹ میں بدلنے میں تین سال لگے تھے ۔ اس ناول کے ابتدائی حصے اٹلی کے شہر بولونیا میں چیپلن آرکائیوز میں ملے تھے ۔ چارلی چیپلن کے تخلیق کردہ کردار ’ لٹل ٹریمپ ‘ کے 100 سال پورے ہونے کے موقعے پر لندن میں ایک تقریب میں اس ناول کی رونمائی کی گئی ۔

2017 ء میں چارلی چیپلن کی 128ویں سالگرہ کے موقعے پر اس کے مداحوں نے سوئٹزرلینڈ کے شہر ویویے میں ایک منفرد انداز میں ، اُس کے گھر کے سامنے اِس سپرسٹار کو یوں خراج عقیدت پیش کیا کہ انہوں نے ایسےکرداروں کے میک اَپ کر رکھے تھے جو چارلی چپلن نے اپنے فلمی کیرئیر میں نبھائے تھے ۔ اس سے ایک سال پہلے ” چارلی چپلن ورلڈ میوزیم ” کا افتتاح بھی کیا گیا تھا جسے پہلے ہی سال میں لگ بھگ تین لاکھ لوگوں نے دیکھا تھا

Add Comment

Click here to post a comment