Home » “انٹیلجنٹ ڈیزائن”” ۔۔۔۔(Intelligent Design) “خالق کا تعارف”۔۔۔۔!!
اسلام معلومات

“انٹیلجنٹ ڈیزائن”” ۔۔۔۔(Intelligent Design) “خالق کا تعارف”۔۔۔۔!!

جدید علوم میں خدا کے وجود کی سب سے بڑی دلیل “انٹیلجنٹ ڈیزائن” کی ہے۔۔۔ انٹیلیجنٹ ڈیزائن کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ یہ کائنات ایک زندہ، باشعور اور ذہین خالق کی تخلیق و نشانی ہے، جس نے اس دھرتی پر کائناتی قوتوں کو اس طرح منظم کیا ہے کہ یہ زندگی کا گہوارہ بنی ہوئی ہیں لیکن بعض لوگوں کے نزدیک ہمارے جسم میں جو بعض حیاتیاتی نقائص پائے جاتے ہیں، ان کی بنا پر انٹیلی جنٹ ڈیزائن کا تصور غلط ثابت ہو جاتا ہے۔ انھوں نے قرآن کی آیت ”ہم نے انسان کو بہترین ساخت پر پیدا کیا ہے“ کو لیا ہوتا ہے اور یہ ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ یہ آیت اور انٹیلی جنٹ ڈیزائن کا تصور دونوں ہی غلط ہیں اور اپنی بات کو منوانے کے لیے انسانی جسم میں پائے جانے والے اپینڈیکس (Appendix) کو بطور مثال پیش کرتے ہیں جو کہ انکے نزدیک انسانی جسم میں ہاضمے کی نالی کا ایک غیر ضروری حصہ ہے جو ارتقاء کے عمل کے دوران میں باقی رہ گیا ہے۔ ان کے نزدیک اس اپینڈیکس (Appendix) کا پایا جانا اس بات کا ثبوت ہے کہ انسانی جسم ناقص ہے اور اسکا کوئی خالق نہیں اور یہ بس اندھے ارتقاء کی پیداوار ہے۔۔۔

حقیقت یہ ہے کہ اس طرح کی باتیں سطحی اندازِ فکر کا نمونہ ہوتی ہیں۔ اس لیے کہ جدید تحقیق اب یہ ثابت کر چکی ہے کہ اپینڈیکس(Appendix) کا حصہ کچھ ایسے بیکٹیریا کی رہائش گاہ ہوتا ہے جو انسانی جسم کے لیے لازمی تو نہیں، مگر مفید ضرور ہوتے ہیں۔۔۔ اس لیے اس طرح کا سطحی سائنسی فہم اور یہ انداز فکر سطحی قرآن فہمی کا نمونہ بھی ہے۔۔۔ مثلاً قرآن کی آیت میں اللہ تعالیٰ نے ”احسن تقویم“ کے الفاظ استعمال کیے ہیں لیکن ایسوں نے بہت سطحی انداز سے اس کا مطلب پرفیکٹ یا ”کامل“ نکالا ہے اور اپنی طرف سے کچھ نقائص بیان کر کے یہ سمجھ لیا کہ قرآن کی تردید ہو گئی حالانکہ کسی چیز کا کامل ہونا بالکل الگ اور بہترین ہونا الگ ہوتا ہے۔۔۔ کامل کا مطلب بےعیب ہوتا ہے اور بہترین کامطلب بےعیب نہیں ہوتا بلکہ دوسروں کے مقابلے میں بہتر ہونا ہوتا ہے۔۔۔۔

انسانی جسم ہو یا اس کائنات میں کارفرما ڈیزائن، کوئی یہ نہیں کہتا کہ وہ پرفیکٹ ہے۔۔۔ بلاشبہ یہ کائنات، انسانی جسم اور دیگر مخلوقات کئی پہلوؤں سے ناقص ہیں بلکہ ہمارا تو کہنا ہی یہی ہے کہ وہ آخرت کی دنیا ہو گی جو کامل ہو گی۔۔۔ اسکے علاوہ کیا کوئی اس حقیقت کا بھی انکار کر سکتا ہے کہ اس دھرتی پر وہ سارے انتظامات جو کہ خود بخود نہیں ہوۓ بلکہ کیے گئے ہیں اور جو اسے زندگی کا گہوارہ بنا دیتے ہیں۔۔۔ یہ انتظامات ایسی متنوع اور متضاد طاقتوں کو ایک نظم میں لا کر کیے گئے ہیں جو عام حالات میں زندگی کے لیے زہر قاتل کی حیثیت رکھتی ہیں اور اس حقیقت کا انکار کرنا سورج کا انکار کرنے کے مترادف ہے۔۔۔ یہ کائنات، کرہ ارض اور وجود انسانی ہر پہلو سے اس طرح بنایا گیا ہے کہ انسان زندہ رہتے ہیں اور کائنات کی ہر چیز ان کی زندگی کو برقرار رکھنے کے لیے سرگرم عمل ہے حالانکہ اپنی حقیقت کے اعتبار سے یہ کائنات ایک قاتل کائنات ہے جو اپنی اصل میں زندگی کی ہر شکل کے لیے موت کا پیغام ہے۔۔۔ مثلاً اس کرہ ارض کے علاوہ کائنات میں ہر جگہ درجہ حرارت اتنا زیادہ یا اتنا کم ہے کہ زندگی ایک لمحہ میں ختم ہو جائے گی مگر ایک خالق نے اس دھرتی پر کائناتی قوتوں کو اس طرح منظم کیا ہے کہ ہر چیز حیات بخش ہو چکی ہے اور اسی کو انٹیلی جنٹ ڈیزائن کہا جاتا ہے۔۔۔ موجودہ حالات میں بلاشبہ یہ بہترین انتظام ہے، اگرچہ یہ بعض پہلوؤں سے کامل نہیں۔ تاہم اس غیر کاملیت کی بھی اپنی حکمت ہے لیکن یہ ایک الگ موضوع ہے۔۔۔۔۔حقیقت یہ ہے کہ یہ کائنات اپنی ذات میں اپنے خالق کا تعارف ہے جو کتاب ہستی کے ہر ورق پر لکھا ہے۔۔۔ لیکن یہ ورق غور و فکر کرنے والے ہی پڑھ سکتے ہیں سرسری انداز سے دیکھنے والے نہیں۔۔۔۔۔ (تحریر::: ابو یحی)

Add Comment

Click here to post a comment