Home » “جوبائیڈن , عمران خان اور پاکستان !!
خبریں

“جوبائیڈن , عمران خان اور پاکستان !!

جوبائیڈن نے صدر کا حلف اٹھانے کے بعد اپنے پینٹاگون کے دورے کے بعد جو پہلا خطاب وہاں کیا اس کا مرکزی خیال کچھ یوں تھا۔۔۔۔ “کہ ہم چین کا راستہ روکنے کے لیئے ہر ممکن اقدام اٹھایئں گے اور چین کا راستہ روکنے کے لیے ایشیاء میں ہمیں ایک “ایشیئن طرز کی نیٹو” بنانا ہو گی”

اب اس بیان پر غور کریں۔۔۔ امریکہ کا بنیادی مقصد اس خطے میں چین کے خلاف ایک اتحاد کھڑا کرکے اس اتحاد کو چین کے مقابل لانا ہے اور جو اس اتحاد میں شامل نہیں ہوگا امریکہ اس کا بایئکاٹ کرے گا- یہ وہی چیز ہے جو ہم نے 2001 میں دیکھی کہ امریکہ نے افغانستان میں آپریشن کرنے کے لیے دنیا پر پریشر ڈالا اور دنیا کی حمایت لی۔۔۔ اِس وقت “ایشیئن نیٹو ” بنانے کے لیئے سب سے زیادہ اہمیت پاکستان کو حاصل ہے کیونکہ پاکستان ایک ایسی پوزیشن پر واقع ہے یہ جس کے ساتھ کھڑا ہوا اس کا مخالف گھوڑے لگ جایئگا- امریکہ کا سب سے پہلا بنیادی مقصد اس وقت چین کے بی آر آئی منصوبے کو سبوتاژ کرنا ہے اور چین کی “سٹرنگ آف پرلز” سٹریٹیجی کو توڑنا ہے۔۔۔ سی پیک چین کے منصوبے بی آر آئی کا ایک حصہ ہے اور امریکہ سے تعلقات کی پہلی شرط سی پیک سے دستبرداری ہے۔۔۔ یاد رہے کہ اگر آبنائے ملاکہ والے رستے پر امریکہ اپنا ہولڈ حاصل کر کے چین کی اس راستے سے ہونے والی ساری تجارت بند بھی کردیتا ہے تو چین کو اس سے ککھ فرق نہیں پڑے گا کیونکہ چین کے پاس اس کا متبادل راستہ سی پیک ہے۔۔۔ یہی وجہ ہے چین کے خلاف امریکہ کی بنائی ہوئی کوئی بھی سکیم یا پلان اس وقت تک کامیاب نہیں ہوسکتا جب تک پاکستان امریکہ کی طرف اپنا پلڑا نہ جھکائے۔۔۔ اسی وجہ سے امریکہ پاکستان کو پریشر میں لانے کی کوشش کر رہا ہے اور پاکستان کو سرد مہری دکھارہا ہے۔۔۔ امریکہ اس وقت 2018 سے پہلے کے سٹیٹ آف مائینڈ میں پھنسا ہوا ہے کہ پہلے یہ ہمیں بے اعتنائی دکھاتا تھا تو ہم بھاگ کر اس کے پاس جاتے تھے, لیکن اب کی بار سامنے عمران خان بیٹھا ہے, جو امریکیوں کو ان کی زبان میں جواب دے رہا ہے۔۔۔

ٹرمپ کی پارٹی کے سینٹر لنڈسے گراہم نے جوبائیڈن کو آڑے ہاتھوں لیا اور کہا کہ امریکہ پاکستان سے رابطہ نہ کرکے اپنی تاریخ کی سب سے بڑی غلطی کررہا ہے-جوبائیڈن یہ سمجھتا ہے کہ پاکستان سے رابطہ نہیں کرے گا تو اس سے افغانستان کی صورتحال سے پاکستان پر پریشر پڑے گا- اور پاکستان خود ہی امریکہ کی شرائط کے آگے جھکے گا۔۔۔ لیکن پاکستان کے پاس بھی “پلان بی” ریڈی ہے جو کہ عمران خان نے اپنے ایچ بی او کو انٹرویو میں ڈھکے چھپے الفاظ میں بتایا۔۔ واشنگٹن پوسٹ میں لکھے آرٹیکل میں بھی بتایا اور پھر نیویارک ٹائمز کو دیے گئے انٹرویو میں بھی بتایا اور وہ ہے کہ۔۔۔ افغانستان پر ط البان کا قبضہ۔۔۔ کیونکہ افغان حکومت اس قابل نہیں ہے کہ وہ امریکہ اور نیٹو کے جانے کے بعد افغانستان کو سنبھال سکے۔۔۔ لہذا عمران خان بار بار اشارے کنایوں میں بتا رہا ہے کہ ط البان قبضہ کر لیں گے۔۔۔۔۔۔ جبکہ امریکہ بہادر اس خوش فہمی میں ہیں کہ اب دوبارہ سے افغانستان میں خانہ جنگی سٹارٹ ہو جائے گی۔۔۔ اور اپنے پٹھوؤں کے ذریعے اس بیانیے کو پروموٹ کیا جا رہا ہے کہ اب افغانی خود طالبان کے خلاف لڑیں گے۔۔۔ جبکہ ان پٹھوؤں کو زمینی حقائق کا گھنٹا علم نہیں ہے۔۔۔ ط البان ایک کے بعد ایک علاقہ فتح کرتے جا رہے ہیں اور (برائے نام) افغان فوج وہاں سے بھاگتی جا رہی ہے۔۔ اگر ہر طرح کی ٹریننگ اور ہتھیاروں سے لیس ہونے کے باوجود افغان فورسز، امریکن اور نیٹو ط البان کا کچھ نہیں بگاڑ سکے۔۔ تو جن عوام کو لیکر آپ شیخیاں مار رہے ہیں وہ کیا بگاڑ لیں گے۔۔

پھر امریکہ یہ چاہتا ہے کہ اگر ط ا لبان افغانستان میں اقتدار میں آجاتے ہیں تو ان کی حکومت کو تسلیم نہ کیا جائے۔۔ تو عمران خان نے 2 ٹوک کہا حکومت جس کی بھی ہوگی ہم ان کے ساتھ چلنے کو تیار ہیں۔۔۔ لیکن وہ چاہتے ہیں کہ حکومت جمہوری طریقے سے آئے, پر ان حالات میں یہ ممکن نہیں۔۔۔ اسی چیز پر ہنندوستان کو تکلیف ہورہی کیونکہ ہنندوستان کا اثر و رسوخ افغانستان میں ختم ہورہا ان کا پیسہ ڈوب رہا لہذا عمران خان بار بار امریکہ کو کہہ رہا ہے کہ پاکستان کو ماضی کی طرح ٹریٹ نہ کرو پاکستان اب تمہارے کسی بھی مطالبے کو نہیں مانے گا کہ فلاں کے خلاف آپریشن کرو اور فلاں کو مار دو۔۔۔ عمران خان نے کہا پاکستان 22 کروڑ لوگوں کا ملک ہے, ہمارے ساتھ تعلقات بنانے ہیں تو تجارت کی بنیاد پر تعلقات بناو۔۔ باقی کاموں کے خلاف ہم تمہارا ساتھ نہیں دیں گے۔۔۔۔ایڈ نہیں ٹریڈ–
باقی کاموں سے یہاں مراد افغانستان اور چین کے خلاف کسی قسم کا اتحاد ہے- جو کہ امریکہ کی اس وقت سب سے بڑی خواہش ہے آج پاکستان چین کے خلاف کاروائی کے لیے امریکہ کا ساتھ دینے کی حامی بھرلے تو آج ہی امریکہ کا صدر جوبائیڈن گھٹنوں کے بل چل کر پاکستان آئے گا- اور پاکستان گرے لسٹ سے بھی نکل جائے گا۔۔۔ لیکن ان سب مشکلات کے بعد بھی الحمد اللہ عمران خان تمام تر پریشر کے باوجود چٹان کی طرح امریکہ کے خلاف سینہ تان کر کھڑا ہے۔۔۔ ورنہ مشرف جیسے ایک فون کال پر گرگئے جبکہ اب کی بار امریکی وزیر خارجہ سے بات کرنے سے انکار کر دیا ، امریکی سی آئی اے چیف سے ملنے سے انکار کر دیا۔۔۔

اے خانوں کے خان!!! آپ پر رب کی سلامتی ہو۔۔۔ خود پر بھونکنے والوں کی پرواہ مت کیجیئے۔۔ پاکستانی قوم اور ہم آپ کے ساتھ ہیں اور آپ کی ڈھال ہیں۔۔۔ آپ اپنا مشن اور کام جاری رکھیں۔۔۔۔۔

Add Comment

Click here to post a comment