Home » برائلر مرغی کے نقصانات سے کیسے بچا جائے؟
معلومات

برائلر مرغی کے نقصانات سے کیسے بچا جائے؟

حال ہی میں سوشل میڈیا پرگردش کرتی ایک وڈیو نظر سے گزری جس میں کہا گیا ہے کہ جنگ کے بعد عراق کی کسی قدیم عمارت کا ملبہ ہٹانے کے دوران ایک بزرگ کی کتاب مِلی جس میں اُن بزرگ نے فرمایا ہے کہ پاکستان کے لوگ خَنزیر نُما خوراک (برائلر چکن) کھائیں گے اور دین سے دُور ہوتے جائیں گے۔ اِس بات کو تقویت دینے کیلیئے وڈیو بنانے والے صاحب نے پھر جدید تحقیق کا سہارا لیا اور کہا کہ فلاں یونیورسٹی کے فلاں پروفیسر نے ثابت کیا ہے کہ برائیلر اور خنزیر کے گوشت میں کوئ فرق نہیں ہے۔

کہتے ہیں کہ جھوٹ کے پاؤں نہیں ہوتے! ہمیں کوئ صرف دو سوالوں کا جواب دے دے:1۔ جو کتاب ملبے سے ملی اُس کتاب کا نُسخہ کہاں موجود ہے اور کِس صفحے پر لکھا ہے کہ پاکستانی خنزیر کھائیں گے؟2۔ اگر خنزیر اور برائیلر کے گوشت میں کوئ فرق ہی نہیں، تو جِن ممالک میں خنزیر جائز سمجھ کر کھایا جاتا ہے، وہاں خنزیر کی فارمنگ کرنے کا کیا جواز ہے؟ وہ برائلر چکن ہی کیوں نہیں کھا لیتے؟

عرض یہ ہے کہ جُھوٹ بولنے میں اتنے آگے نہ جائیں کہ پھر وضاحت دینا ناممکن ہو جائے!پاکستان میں ٹیکسٹائل کی صنعت کے بعد دوسری بڑی صنعت پولٹری کی صنعت ہے۔ ایک اندازے کے مطابق صرف ایک وقت میں 20 کروڑ سے زیادہ چوزے پاکستان کے پولٹری فارموں میں پرورش پا رہے ہوتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر فارمی چکن یعنی برائلر کے بارے میں آئے روز کچھ نہ کچھ دیکھنے کو ملتا رہتا ہے، مگر حقیقت کیا ہے، یہ جاننے کی نہ تو کوئ کوشش کرتا ہے اور نہ ہی کسی کے پاس اِتنا وقت ہے۔ دوسری طرف یہ بھی حقیقت ہے کہ فارمی مرغیاں پاکستانیوں کی خوراک میں اِس حد تک داخل ہو چکی ہیں کہ اِن سے بچنا تقریباً محال ہے۔ اِس مضمون میں ہم مستند تحقیقات کی روشنی میں فارمی چکن کے مثبت یا منفی پہلوؤ ں کا جائزہ لیں گےاور آپ کو اِس بات کی رہنمائ فراحم کریں گےکہ فارمی چکن کے ممکنہ مضر اثرات سے کیسے بچا جا سکتا ہے۔

برائلر چکن پر لگائے جانے والے اعتراضاتبرائلر چکن پر لگائے جانے والے اعتراضات میں پانچ چیزوں کا ذکر خصوصی طور پر کیا جاتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ برائلر چکن کی نشونما میں 1) سٹیرائیڈ ادویات ، 2) سنکھیا، 3) اینٹی بائیوٹک ادویات 4) ویکسین اور 5) نامناسب خوراک کا استعمال کیا جاتا ہے، جن کی وجہ سے یہ گوشت کھانے سے انسانی صحت کو نقصان ہو سکتا ہے۔

آئیے اب اِن کا باری باری جائزہ لیتے ہیں:سٹیرائیڈ ادویات کا استعمال عام طور پر خیال کیا جاتا ہے کہ برائیلر چکن کی نشونما کو تیز کرنےکیلیئے اسٹیرائڈ ادویات کا استعمال کیا جاتاہے۔ تاہم اِس بارے میں مختلف حلقوں کی رائےمختلف ہے۔سید علی افضل (2016) نے اپنی تحریر میں لکھا ہے کہ فارمی مرغیوں میں سٹیرائڈ ادویات کے استعمال کی ضرورت ہی نہیں ہوتی کیونکہ یہ پرندے Genetic Selection کے عمل سے گزرنے کے بعد زیادہ گوشت پیدا کرنے کیلیئے منتخب کیئے گئے ہوتے ہیں۔ چنانچہ یہ قدرتی طور پر زیادہ گوشت پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں (پڑھیں ریفرینس نمبر 01)۔

ڈاکٹر وے چائے جو کہ میسیسیپی یونیورسٹی (امریکہ) کے شعبہ پولٹری سائینس کے ریسرچ پروفیسر ہیں، کی رائے میں Breeding scientists مسلسل بہتر سے بہتر چکن کی تلاش جاری رکھتے ہیں اور اِس کام کیلیئے صرف ایسی مرغیاں منتخب کی جاتی ہیں جو تیزی سے بڑھیں، کم خوراک کھائیں اور زیادہ بیماریوں کا شکار نہ ہوں (پڑھیں ریفرینس نمبر 02)۔

ایک عام غلط فہمی یہ ہے کہ فارمی مرغیوں کو خوراک اور پانی کے ذریعےہارمون دیئے جاتے ہیں۔ ایسا کرنا اِس لیئے سود مند نہیں ہو سکتا کیونکہ ایسے ہارمون مرغیوں کے معدہ میں موجود تیزابی اثرات سے متاثر ہو کر اپنی تاثیر کھو بیٹھتے ہیں۔ باقی رہی بات کہ ہارمون ٹیکوں کے ذریعے دیے جائیں؛ ایسا کرنا ممکن تو ہے، مگر ایسا روزانہ کرنا پڑے گا کیونکہ ہارمون اپنا اثر زیادہ دیر تک برقرار نہیں رکھ سکتے۔ سوال یہ ہے کہ اگر ایک پولٹری فارم میں 2000 مرغیاں ہیں، تو کیا اُن دو ہزار مُرغیوں کو روزانہ ہارمون کا ٹیکہ لگایا جاسکتا ہے؟ ایسا کرنا ممکن نہیں ہے کیونکہ اِس کام پر خرچہ اِتنا آئے گا کہ فائدے کی بجائے نقصان ہو جائے گا (پڑھیں ریفرینس نمبر 01)۔

سٹیرائڈ ادویات استعمال کرنے سے متعلق الزامات صرف پاکستان میں ہی نہیں، بلکہ دوسرے ملکوں میں بھی پولٹری سیکٹر پر لگتے رہے ہیں، مگر جب تحقیق ہوئ تو پتہ چلا کہ الزامات درست نہیں ہیں۔ ایسی ہی ایک تحقیق “کوسٹا ریکا” میں ہوئ جس کا حوالہ نیچے ریفرنس نمبر 11 میں موجود ہے: تحقیق کے شوقین افراد اِسے پڑھ کر اپنی تسلی کر سکتے ہیں۔اِن سب حقائق کے باوجود کچھ حلقے اِس بات پر اصرار کرتے ہیں کہ برائیلر مرغیوں کو سٹیرائیڈ ہارمون کے استعمال سے بڑا کیا جاتا ہے۔ اِن حلقوں میں یہ بات تسلیم کی جاتی ہے کہ ہارمون کا استعمال پولٹری کی صنعت میں رائج ہے۔

پولٹری کی صنعت میں سنکھیا (Arsenic) کا استعمالعام مشاہدہ کی بات ہے کہ پولٹری فارم میں تیار ہونے والی مرغیاں صرف 40 دن کے اندر ذبح ہونے کیلیئے تیار ہو جاتی ہیں۔ ایسا کیونکر ممکن ہوتا ہے؟ایک اہم حقیقت جِس کو بہت سے لوگ نہیں جانتے، یہ ہے کہ اِن فارمی مرغیوں کی نشو نما کو تیز کرنے کیلیئے سنکھیا کے کیمیائ مرکبات کو اِن کی خوراک میں شامل کیا جاتا ہے (پڑھیں ریفرینس نمبر 10)۔ سنکھیا کے مرکبات زہریلے اثرات رکھتے ہیں۔ اگر سنکھیا کی مقدار فارمی مرغیوں کی خوراک میں زیادہ ہو جائے، تو اِن پرندوں میں 4 سے 6 دن کے اندر اَندھا پن، سَر کانپنا، پَٹھوں کی حرکت میں بےترتیبی آنا، چال خراب ہونا اور جِسم کا کوئ حصہ مَفلُوج ہونے جیسے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں (پڑھیں ریفرینس نمبر 03)۔پولٹری خوراک میں عام طور پر استعمال کیئے جانے والے سنکھیا کےکیمیکلز میں مندرجہ ذیل مرکبات شامل ہیں:- (Roxarsone (ROX- (Arsanilic acid (ASA

چکن کے جسم میں خوراک کے ذریعے داخل ہونے کے بعد سنکھیا (Arsenic) کے یہ کیمیکل مختلف کیمیائ مرکبات میں تبدیل ہو کر اُس کے جسم کے مختلف حصوں مثلاً جگر اور پٹھوں تک پہنچ جاتے ہیں۔ مرغی کے انڈوں میں بھی سنکھیا پہنچ جاتا ہے (زَردی میں کم اور سفیدی میں زیادہ) ۔ ایسے میں اگر ایسی چکن کو ذبح کر کے استعمال کر لیا جائے تو انسانی صحت کو یقیناً نقصان ہو سکتا ہے (پڑھیں ریفرینس نمبر 04)۔

سنکھیا کےمرکبات سے انسانی جسم میں کینسر ہونےکے امکانات بڑھ سکتے ہیں (پڑھیں ریفرینس نمبر 05)۔ انہی وجوہات کی بنا پر بہت سے یورپی ممالک میں سنکھیا کے استعمال پر پابندی عائد ہے۔ یورپی یونین نے یہ پابندی 1999 میں عائد کی جس کے بعد سے وہاں پر پولٹری کے کاروبار میں سنکھیا کا استعمال ناپید ہے(پڑھیں ریفرینس نمبر 06)۔ FDA نے 2013 میں سنکھیا کے استعمال پر پابندی عائد کی جس کے بعد سے امریکا میں بھی سنکھیا کا استعمال بند ہے (پڑھیں ریفرینس نمبر 07) ۔ کچھ ایسا ہی حال بہت سے دوسرے ترقی یافتہ ممالک کا ہے۔

پاکستان میں 2016 میں اِنکشاف ہوا کہ ملک میں استعمال کئے جانے والے مرغ کے گوشت میں سنکھیا کی بہت زیادہ مقدار موجود ہے۔ اس حقیقت کا انکشاف ڈیپارٹمنٹ آف کمیونٹی ہیلتھ سائنسز(آغا خان یونیورسٹی) اور جاپان کی جیچی میڈیکل یونیورسٹی کی مشترکہ ریسرچ میں ہوا۔ ڈان نیوز نے اپنی خبر میں اِس ریسرچ کے بارے میں لکھا کہ خوراک میں سنکھیا کی معمولی مقدار کو بھی قابلِ قبول قرار نہیں دیا جا سکتا اور خوراک میں سنکھیا کی مقدار جتنی کم ہو، اُتنا ہی بہتر ہے۔ مگر مُلک میں اِستعمال ہونے والے فارمی مرغ کے گوشت میں سنکھیا کی مقدار خطرناک حد تک زیادہ ہے(پڑھیں ریفرینس نمبر 08) ۔ مزید یہ کہ سنکھیا سے متاثرہ گوشت صرف ایک بار کھانے سے مسئلہ پیدا نہیں ہوتا، بلکہ اِس کے مُسلسل استعمال سے صحت کے مسائل جنم لینے لگتے ہیں۔

اینٹی بائیوٹک ادویات اور ویکسین کا استعال:جس طرح انسانوں میں اینٹی بائیوٹک ادویات اور ویکسین سے جراثیموں پر قابو پایا جاتا ہے، اُسی طرح فارمی چکن میں بھی اِن ادویات کے استعمال سے جراثیمی بیماریوں سے نجات حاصل کی جاتی ہے ۔ اینٹی بائیوٹک ادویات کا اثر مختصر مدت کیلیئے جبکہ ویکسین ادویات کا اثر (اینٹی باڈیز کی شکل) میں لمبے عرصے تک باقی رہتا ہے۔

نامناسب خوراک : کہا جاتا ہے کہ برائیلر مرغی کی نشونما کے دوران اُسے انتہائ نامناسب خوراک دی جاتی ہے۔ کچھ لوگ تو یہاں تک کہتے ہیں کہ اِن مرغیوں کو خون اور مُردہ مرغیوں کی باقیات کھلائ جاتی ہیں۔ مزید یہ کہ اِن کی خورا ک میں خنزیر اور دوسرے حرام جانوروں کے حصے استعال کئیے جاتے ہیں ، جس وجہ سے برائیلر مرغی حرام ہو جاتی ہے۔عرض یہ ہے کہ سنت نبویﷺ میں ایسی کوئ دلیل نہیں ملتی جِس سے برائیلر مرغی کے استعمال کو حرام ثابت کیا جا سکے۔ بلکہ حدیث سے مرغی کا حلال ہونا ثابت ہے۔ ابو موسٰی اشعری رضی اللہ عنہ ارشاد فرماتے ہیں:”رایت النبی صلی اللہ علیہ وسلم یا کل دجاجا”معنی: ” میں نے نبی اکرم ﷺ کو مرغی کا گوشت کھاتے ہوئے دیکھا”(صحیح بخاری مع فتح الباری ج9، ص561)

مزید یہ کہ کسی جانور کے حلال یا حرام ہونے کا تعلق اِس کی خوراک سے نہیں ، بلکہ احکاماتِ شریعت سے ہے۔ جو لوگ برائیلر مرغی کو اُس کی نامناسب خوراک کی وجہ سے حرام قرار دیتے ہیں، کیا اُن کی مراد یہ ہے کہ اگر کوئ شخص خنزیر کو حلال اور انتہائ پاک صاف خوراک دے کر پالے اور بڑا کرے،تو اُس کیلیئے وہ خنزیر حلال ہو جائے گا؟ ہرگز نہیں، خنزیر حرام ہی رہے گا چاہے اسے جو بھی کھلا دو، اور برائیلر مرغی حلال ہی رہے گی، چاہے اسے جو بھی کھلا پلِا دو !

برائیلر چکن کے مُمکنہ نقصانات سے کیسے بچا جائے ؟حال ہی میں کی جانے والی ایک ریسرچ میں یہ بات سامنے آئ کہ سنکھیا مِلی خوراک دینے سے فارمی مرغیوں کے جسم میں سنکھیا کے مرکبات کی مقدار دن بدن بڑھتی جاتی ہے۔ تاہم اِن پرندوں کے جسم میں یہ صلاحیت موجود ہوتی ہے کہ وہ اپنے فُضلے کےراستے سنکھیا اور دوسرے زہریلے مادوں کو جسم سے خارج کر سکیں۔ فارمی مرغیوں کے جسم میں سنکھیا کے مرکبات کی ھاف لائف 24 گھنٹے یا اِس سے کم ہوتی ہے؛ اس سے مراد یہ ہے کہ فارمی مرغیوں کے جسم میں داخل ہونے والے سنکھیا کی مقدار 24 گھنٹوں کے بعد آدھی رہ جاتی ہے (پڑھیں ریفرینس نمبر 09)۔

چنانچہ اگر فارمی مرغیوں کی خوراک بدل کر اِنہیں ذبح کرنے سے پہلے، 5سے 7 دن تک سنکھیا اور دوسرے ممکنہ زہریلے مادوں سے پاک خوراک دیں، تو اِن کے جگر اور پٹھوں سےان زہریلے مادوں کی مقدار کو خاطرخواہ حد تک کم کیا جا سکتا ہے اور صحت کے نقصان سے بچا جا سکتا ہے۔ھدایات .مندرجہ ذیل ھدایات پر عمل کر کے آپ اپنے استعمال میں آنے والی برائیلر چکن کو مُضر اثرات سے پاک کر سکتے ہیں اور اسے بغیر کسی خطرے کے استعمال کر سکتے ہیں:

1 ۔ سب سے پہلے اِس بات کا تعین کریں کہ آپ کا گھرانہ ایک ہفتے میں کِتنی برائیلر چکن استعمال کرتا ہے۔ عام طور پر 2 سے 5 پرندے کافی ہوتے ہیں۔2 ۔ کسی وَیلڈر سے رابطہ کر کے ایک پنجرہ بنوا لیں۔ یاد رکھیں یہ پنجرہ نیچے سے کُھلا ہونا چاہیئے۔3 ۔ عام طور پر ۳ فٹ لمبائ، ۲ فٹ چوڑائ اور ۲ فٹ اونچائ کا پِنچرہ 6 برائیلر چکن کیلیئے کافی ہوتا ہے۔4 ۔ ہفتے میں کسی ایک دن اپنی ضرورت کے جتنےبرائیلر چکن درکار ہوں خرید کر گھر لے آئیں اور اِس پنجرے میں ڈال دیں۔ خریدتے وقت یاد رکھیں کہ کسی برائیلر چکن کا وزن ۲ کلو سے زیادہ نہ ہو۔ اگر گھر میں کچی زمین موجود ہو تو پنجرہ وہاں پر رکھیں؛ کچی مٹی میں یہ پرندے خوش رہتے ہیں اور اِن کے فُضلے سے بُو بھی نہیں پیدا ہوتی۔ اگر گھر کا فرش پکا ہو، تو پھر اِسے روزانہ پانی بہا کر صاف کر لیں تاکہ گندگی اور بُو پیدا نہ ہو۔

5 ۔ اِن برائیلر چکن کو خوراک میں صرف باجرہ اور پانی دیں۔ یاد رہے یہ پرندے پانی زیادہ پیتے ہیں، اس لیئے پانی فراوانی سے دیں اور تازہ پانی دیتے رہیں۔6 ۔ چونکہ یہ پرندے پیدائیش کے بعد سے پنجروں یا بند جگہوں (مثلاً پولٹری فارم) میں رہنے کے عادی ہوتے ہیں، اِس لیئے یہ پنجرے سے باہر خوراک بھی کھانا پسند نہیں کرتے۔ چنانچہ انہیں پنجرےکے اندر ہی خوراک دیں۔7 ۔ شروع شروع میں یہ پرندے اُٹھ کر چلنے سے بھی عاجز ہوتے ہیں، مگر دوسرے یا تیسرے دن تک یہ اپنی توانائ واپس حاصل کر لیتے ہیں۔

8 ۔ رات کو پنجرے کو کسی پرانے کمبل یا پولیتھین سے ڈھانپ دیں، تاکہ پرندے سردی سے بچے رہیں۔9 ۔ چونکہ اِن پرندوں کو پہلے ہی ویکسین اور اینٹی بائیوٹک ادویات دی گئی ہوتی ہیں، اِس لیئے اِن کے بیمار ہونے کے امکانات کم ہوتے ہیں۔10 ۔ سات دن کے بعد اِن پرندوں کو اپنے قصائ کے پاس لے جا کر ذبح کروا لیں اور نئے پرندے لا کر گھر کے پنجرے میں ڈال دیں۔

آپ یہ دیکھ کر حیران رہ جائیں گے کہ ہفتے تک گھر میں پالے جانے والے پرندوں کے گوشت کا رنگ نسبتاً زیادہ سُرخ رنگت اختیار کر لے گا۔ اِسی طرح اِن کے جگر (کلیجی) کا رنگ بھی بہتر ہوگا۔ مزید یہ کہ اِن کی ہڈی بھی نسبتاً سَخت ہو چکی ہوگی۔ جب آپ اِس چکن کو پکائیں گے تو وہ عام برائیلر کی نِسبت پَکنے میں تھوڑا زیادہ وقت لے گا۔ اِس کا ذائقہ بھی عام دستیاب برائیلر سے زیادہ لذیز ہوگا۔

آزمائش شرط ہے !

Add Comment

Click here to post a comment