Home » اردو ربان کے مشہور کردار عمرو عیار اور داستان امیر حمزہ کی تاریخ
Uncategorized

اردو ربان کے مشہور کردار عمرو عیار اور داستان امیر حمزہ کی تاریخ

طلسم ہوشربا کی پہلی کتاب 1880میں ہوی جس میں عمرو عیار کا کردار پہلی بار دکھایا گیا اس کے مصنف منشی حسین جان تھے یہ پہلی دفعہ فارسی میں لکھی گئ اس سے قبل 1570 کے اردگرد مغل بادشاہ اکبر کے دور میں اکبر کے دربار میں اس سیریز کے مشہور کردار امیر حمزہ کی داستانیں شنائیں جاتی تھیں جس کو اکبر بڑے شوق سے سنتا تھا سوال یہ ہے کہ کیا ان کردارو تعلق حقیقی زندگی سے ہے یا نہیں

مورخین کے متابق 569 عیسوی میں ایرانی بادشاہ نعشروا عاول (کیہسرو اول) کے دور میں امیر حمزہ نام کا ایک انسان تھا جو بلکل داستان امیر حمزہ جیسا تھا نعشروا عاول ہی کے دور میں ایک ایسا آدمی پایا جاتا تھا جو لوگوں کو عیاریا سکھاتا تھا اس نے باقاعدہ ایک ادارہ بنا رکھا تھا جس میں وہ عیاریوں کی تعلیم دیا کرتا تھا اس کے طالب علموں کی تعداد 1 لاکھ سے بھی زیادہ تھی مورخین عمرو کے کردار کو ایسی انسان سے تشبی دیتے ہیں شہنشاہ افراسیاب جو کہ داستان امیر کا ولن ہے اس کو محقین ایران بادشاہ افراسیاب جو اپنی بری عادات کی وجہ سے مشہور تھا اس سے تشبی دیتے ہیں بہت سے مصنفوں نے طلسم ہوشربا سے متاثر ہو کر لکھنا شروع کیا ان میں مشہور معروف مصنف ابن صفی بھی شامل اور خالد نور بھ اس متاٽر ہوے اور انہوں نے تو عمرو کے کردار پر 1000 سے زاید کہانیاں بھی لکھیں

اب تو عمرو کے کردار پر ایک فلم بھی بنائ جارہی ہے جس کا نام omro ayar the great bignig ہے یہ فلم اس سال کے آخر میں سینما گھروں کی زینت بنے گی اس میں عمرو کا رول مشہور اداکار عٽمان مختار کرہے ہیں اور یہ وی آر چلی پروڈکشن کے زیراہتمام ہے اور اس کی ہدایت کاری اظفر جعفری کر رہے ہیں۔ اس فلم کا ٹایٹل ریلیز کر دیا گیا ہے

 

Add Comment

Click here to post a comment