Home » انجینئر محمد علی مرزا
بلاگ خبریں

انجینئر محمد علی مرزا

جب انجینئر بغیر مطلوبہ دینی تعلیم یا کسی اسلامی یونیورسٹی سے فارغ التحصیل ہوئے بغیر مفتی اور عالم بن جائیں تو یہی ہوتا ہے۔ کوئ بھی ذی ہوش اور ذی فہم عالم دین اس قسم کے دعوے نہیں کرسکتا۔ علم والے پگڑیاں نہیں اچھالتے۔ مسلمانوں میں افہام و تفہیم اور یگانگت پیدا کرنے کے بجائے اس قسم کے متنفر کرنے والے بیانات اور گروہ بندی قطعی قابل قبول نہیں ہونی چاہئے۔ کسے مسلمان عالم کا کسی غیرمسلم عالم سے مناظرے کا چیلنج تو سمجھ میں آتا ہے لیکن یہ ایک مسلمان کا دوسرے مسلمان کو چیلنج کچھ سمجھ نہیں آتا۔ یعنی اس مناظرے کا مقصد کیا ہے اور نتیجہ کیا نکلے گا۔ ھارنے والا کس پر ایمان لے آئے گا؟

پچھلے سال چار مئی 2020 کو جہلم پولیس نے آن لائن مذہبی لیکچر دینے والے محمد علی مرزا کو اس وقت گرفتار کیا تھا جب ان کی ایک ویڈیو وائرل ہوئی تھی۔
انٹرنیٹ پر وائرل ہونے والی ایک ویڈیو میں محمد علی مرزا پیری مریدی، اور بیعت کی شرعی حیثیت پر بات کرتے نظر آتے ہیں جس میں وہ اپنی بات کے ثبوت میں متعدد احادیث کے حوالے پیش کرتے ہیں۔ان کی گرفتاری پر ڈی پی او جہلم عمر فاروق نے بتایا تھا کہ محمد علی مرزا کا جو ویڈیو کلپ وائرل ہوئی تھی جس میں انھوں نے چند شخصیات کا نام لے کر کہا کہ ان لوگوں کو قتل کر دینا چاہیے، جس کی وجہ سے ان سے اختلاف کرنے والے دیگر فرقوں سے تعلق رکھنے والے لوگ مشتعل ہو رہے تھے، اس لیے پولیس نے یہ کارروائی کی۔

انھوں نے کہا تھا کہ وہ یہ بات واضح کر دینا چاہتے ہیں کہ یہ مقدمہ کسی مذہبی اختلاف کی وجہ سے درج نہیں کیا گیا بلکہ اس لیے کیا گیا کیونکہ انھوں نے مذہبی شخصیات کا نام لے کر انھیں قتل کرنے کو کہا، اس لیے مقدمہ پولیس کی اپنی مدعیت میں درج کیا گیا۔امت مسلمہ پہلے ہی شدید ترین بحران سے گزر رہی ہے اور ان جیسے علما بجائے امت کو متحد کرنے کے اس میں مزید انتشار پیدا کررہے ہیں۔ مسلکی عقائد کی بنیاد پر مسلمانوں کو گروہ در گروہ تقسیم کرنا اور ان میں آپس میں دشمنی پیدا کرنا انتہائ قبیح فعل ہے۔ اللہ ان کو ھدایت عطافرمائے۔

Add Comment

Click here to post a comment