Home » ڈگری ڈگری ہوتی ہے۔۔۔
بلاگ

ڈگری ڈگری ہوتی ہے۔۔۔

مملکت خداداد میں سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ افرادی قوت کی فراوانی کے باوجود سکلز کا شدید فقدان ہے۔ اس کی وجہ کہ یونیورسٹیوں سے ڈگریاں بٹ رہی ہیں اور ہر سال لاکھوں لوگ بیکار ڈگری یافتہ بنتے جا رہے ہیں۔ ہمارا نظام تعلیم جیسا ہے اس پر کیا بات کرنی مگر کہنا یہ چاہتا ہوں کہ ریاست کو اگر فرصت ہو تو اس بارے بھی غور فرمائے کہ ان ڈگریوں کا کرنا کیا ہے ؟پچھلے سال مئی 2020 میں اقوام متحدہ نے ایک جاب اناونس کی۔ اس کو میں نے اسی پروفائل پر شیئر کیا تھا۔ ایک عدد فوٹوگرافر/ ویڈیوگرافر کی جاب تھی۔ اچھی خاصی پیمنٹ والی جاب تھی۔ ادارہ اچھا معاوضہ دیتا ہے مگر بدلے میں قابل لوگ چاہتا ہے۔ اس جاب پر لگ بھگ پورے پاکستان سے 1123 اپلیکیشنز موصول ہوئیں۔ کورونا کے سبب اور کچھ آفس کے اندرونی مسائل کے سبب اس جاب پر ہائرنگ ملتوی ہو گئی اور اب جا کر دوبارہ پراسس شروع ہوا۔

اپلائی کرنے والوں میں سے ان لوگوں کو چھانٹی کیا گیا جن کی ڈگری متعلقہ تھی۔ یعنی فلم اینڈ ٹی وی یا ماس کمیونیکیشن۔ ان کی تعداد 700 کے لگ بھگ نکلی۔ 700 افراد ڈگری یافتہ تھے۔ ادارے نے مجھے انگیج کیا کہ میں انٹرویو بورڈ میں بیٹھوں اور فوٹوگرافی کے متعلقہ ٹیکنیکل سوالات امیدواروں سے کروں۔ اس جاب پر کوئی سفارش نہیں چل سکتی تھی۔ میں ذاتی حیثیت میں کسی کی سفارش کرنے کے قابل تھا نہ یو این میں سفارشی کلچر ہوتا ہے۔ سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ کوئی شخص کسی جاب کے لئے کسی کی سفارش کر دے۔قصہ مختصر یہ کہ ان سات سو بچوں اور بڑوں نے بورڈ کے سامنے حاضری دی۔ کیا آپ یقین کریں گے کہ ڈگری سب کے پاس تھی مگر اسکلز کسی کے پاس نہیں تھیں۔ ایک تو ہمارا المیہ یہ کہ سی وی یا پروفائل کو بھرنے کے لئے دنیا جہان کی گپیں لکھ مارتے ہیں۔ جب ان کی سی وی کو پڑھ کر اور پروفائل ورک دیکھ کر سوالات کرنا شروع کییے تو جواب ندارد۔۔۔

ہر کسی نے کسی نہ کسی طرح نجانے کیسے پروفائل ورک پیش کر رکھا تھا اور خوب کوٹ کوٹ کر سی وی بھرا ہوا تھا۔ کیا آپ یقین کریں گے کہ آدھے لوگوں کو فوٹوگرافی کی بیسکس نہیں معلوم تھیں ؟ کئیوں کو سمپل وائٹ بیلنس سیٹ کرنے کا نہیں معلوم تھا۔ کچھ نے پوچھا سنا ہوا ہے مگر یہ ہوتا کیا ہے۔ ایک صاحب نے تو حد ہی کر دی۔ بولے ” آپ مجھے کام دے کر دیکھیں اگر آپ کے مطلب کا کر کے نہ دیا تو کہیئے گا۔ ویسے مجھے انٹرویو دینا نہیں آتا”۔پورا دن یہ سلسلہ چلتا رہا اور 8 گھنٹوں بعد صرف 2 لوگ ایسے بچے جن کی پروفائل میرے ہاتھ تھی اور یہی 2 انٹرویو میں قدرے بہتر تھے۔ ان دونوں کو پھر سے بلایا۔ کسی ایک کو چننا تھا۔ دونوں سے مزید سوالات کیئے اور آخر کار فیصلہ کیا کہ نہیں۔ جاب ویکنسی دوبارہ اناونس کی جائے شاید اب کی بار کوئی ایک سکلز والا انسان ہی مل جائے۔
مسئلہ یہ ہے کہ سمسٹر سسٹم بس پاس کرنا ہوتا ہے۔ ڈگری ہاتھ میں لینی ہوتی ہے۔ یونیورسٹیوں کو بھی معلوم ہے کہ وہ بھاری فیسوں کے عوض کیا بانٹ رہے ہیں اس واسطے وہ بھی ڈگریاں پائپ کی طرح گول کر کے دیتے ہیں کہ لو موج مارو۔۔۔

Add Comment

Click here to post a comment