Home » کرپٹو کرنسی اور سازش
معلومات

کرپٹو کرنسی اور سازش

میرا ایک نظریہ یا یوں کہہ لیں کہ تجربہ ہے۔ دنیا میں بدیہیات کے علاوہ ہر چیز میں دو قوتیں یا دو نظریات کے حامل لوگ ہوتے ہیں۔ آپ انہیں نیکی اور بدی کی قوتیں کہیں یا کچھ اور۔ یہ دو سے زیادہ ہو سکتے ہیں، ایک بہت کم اور دوسرے بہت زیادہ ہو سکتے ہیں، وقت طور پر ایک ختم ہو سکتے ہیں لیکن زیادہ عرصہ ایک سمت معدوم نہیں رہ سکتی۔ اسے آپ ہر میدان میں آزما سکتے ہیں۔ یہ تو ممکن ہے کہ ہمارے علم میں دوسری سمت نہ ہو لیکن پائی ہی نہ جائے، یہ ناممکن لگتا ہے۔

دین دار ہیں تو فاسق و فاجر بھی ہیں۔ اللہ پر ہر لمحہ یقین رکھنے والے ہیں تو دہریے بھی ہیں جو اللہ کو مانتے ہی نہیں ہیں۔ جدیدیت کے ایسے حامی ہیں جو دن رات نت نئی چیزوں کے تجربے کرتے ہوں تو ایسے مخالفین بھی ہیں جو نام بھی نہ سن سکتے ہوں۔ زمین کے گرد سیٹلائیٹس گھمانے والے ہیں تو زمین کو چپٹا کہنے والے بھی ہیں۔ انٹراسٹیلر کو پار کرنے والے ہیں تو سورج کو زمین کے گرد گھمانے والے بھی ہیں۔ گریوٹی کی قوت ہے تو سینٹری فیوج بھی ہے۔ ماس ہے تو انرجی بھی ہے۔ آدم علیہ السلام کو اللہ پاک کے حکم سے پیدا ماننے والے ہیں تو ارتقاء والے بھی ہیں۔ ایکٹو امیونائزیشن پر محنت کرنے والے ہیں تو پیسو کو حل ماننے والے بھی ہیں۔ اپنے ملک کا کہنے والے صہیونی ہیں تو ایران میں رہنے والے یہودی بھی ہیں۔ یہ لسٹ بہت طویل ہے اور میں اس کی بے شمار مثالیں دے سکتا ہوں۔ ہر فیلڈ میں ایسے دو گروہ موجود ہیں، حتی کہ فرعون کے لیے موسی علیہ السلام اور دجال کے لیے عیسٰی علیہ السلام بھی ہیں۔ یہ اس کائنات کی بیلنسنگ ہے اور اس کا ایک ریشو بھی قرار دیا جاتا ہے جسے گولڈن ریشو کہتے ہیں (لیکن میں نے ریشو کو آزمایا نہیں ہے)۔

ایسے ہی دنیا میں پرو ڈالر اور اینٹی ڈالر کی ایک تقسیم ہے۔ کچھ لوگ ایسے ہیں جو ڈالر کے حامی ہیں اور اسے پھلتا پھولتا دیکھنا چاہتے ہیں تو کچھ اس کے مخالف بھی ہیں۔ یہ مخالفین مسلم بھی ہیں اور غیر مسلم بھی اور یہ اس کے متبادل کے لیے مستقل جدوجہد کرتے رہتے ہیں۔ کبھی یہ ملائشیا میں درہم و دینار بناتے ہیں، کبھی بارٹر سسٹم پر چلنے والی ویب سائٹس تو کبھی ڈیجیٹل کرنسیز۔ دوسری قوت بھی ان کا توڑ کرتی رہتی ہے۔ یوں یہ جنگ جاری رہتی ہے۔اگر آپ نے ستوشی ناکاموٹو کا مقالہ پڑھا ہو تو اس نے بٹ کوائین کے نام سے کوئی نئی چیز نہیں بنائی تھی۔ اس سے پہلے ہی کرپٹو گرافی اور ڈیجیٹل کرنسیز بن چکی تھیں اور اس نے ان کا حوالہ دیا ہے۔ اس نے پہلے کی تحقیقات کو یکجا کر کے ایک یونیک ماڈل بنایا تھا جس نے پرانی سب خامیوں کو دور کر دیا۔ یوں پرو ڈالر قوت اس کا توڑ کرنے میں ناکام ہو گئی اور جب تک وہ خطرات سے چونکتی، بٹ کوائین نے اپنی جگہ عوام میں بنا لی تھی۔

یہ کس نے بنائی؟ یہ پوشیدہ ہے لہذا یہ بھی پوشیدہ ہے کہ کیوں بنائی؟ ممکن ہے کہ 2008 کے معاشی کرائسس میں امریکی ایجنسیوں کو ہی یہ سوجھی ہو کہ ڈالر کو ہم کتنا سنبھالیں گے، اس کی جگہ پر دوسری کرنسی لانی چاہیے۔ ممکن ہے کہ کوئی اور ہو، کوئی ملک، ٹیم، فرد۔اب سوال یہ ہے کہ کیا یہ دنیا کے ممالک کے خلاف سازش ہے؟ ایک بار پھر دونوں قسم کے لوگ ہیں۔ وہ جو اسے سازش مانتے ہیں اور وہ جو نہیں مانتے۔ جو سازش سمجھتے ہیں ان میں بھی دو ہیں: جو اس سے ڈر کر دور بھاگنا چاہتے ہیں اور جو آگے بڑھ کر برابر کی ٹکر دینا چاہتے ہیں۔

فرض کیجیے کہ یہ ایک سازش ہے اور مقصد بھی یہ ہے کہ دنیا کے معاشی نظام کو کنٹرول کیا جائے۔ طریقہ کیا ہوگا؟ دو میں سے ایک ممکن ہے: یہ کہ سب سے ڈالر لے کر بٹ کوائین دے دیے جائیں اور پھر انہیں قبول کرنے سے انکار کر دیا جائے۔ یہ کسی ایک ملک کے لیے ممکن نہیں ہے۔ دنیا کی تجارت میں یہ یا اس جیسی کوئی اور چلنے لگے گی اور ڈالر کا بھٹہ بیٹھ جائے گا۔ جیسے چین اور روس ایران کے ساتھ بغیر ڈالر کے بارٹر کرتے ہیں یا جیسے چین نے یوآن کو عالمی کرنسی کی حیثیت دلوائی ہے۔

دوسرا یہ کہ بٹ کوائین کو بہت مہنگا کر دیا جائے اور اسے اصل ریزرو بنا دیا جائے۔ مجھے بتائیے کہ ایسی صورت میں وہ ممالک اور لوگ فائدے میں ہوں گے جن کے پاس یہ ہوگی یا وہ جو اس سے دور بھاگ کر کاغذی ٹکڑے رکھ کر بیٹھے ہوں گے؟ ہمیں سازش سے دور بھاگنا چاہیے یا اس کا مقابلہ کرنا چاہیے؟ کیا ہم ہمیشہ یہی کریں گے کہ پہلے پیچھے ہٹیں گے اور پھر جب چیز عام ہو جائے گی تو ڈرتے ڈرتے اسے ہاتھ لگائیں گے کہ “بھؤ” نہ کر دے؟ کیا پہلے ایسے تجربے (عصری علوم، انٹرنیٹ، میڈیا وغیرہ) ہم نہیں کر چکے؟میں ہرگز نہیں کہتا کہ کرپٹو کرنسی کی تجارت کریں یا جمع کریں….. لیکن کم سے کم سوچنا تو ضروری ہے۔

Add Comment

Click here to post a comment