Home » بندر کا گھاؤ ۔۔۔ از ھاجرہ مسرور
Uncategorized

بندر کا گھاؤ ۔۔۔ از ھاجرہ مسرور

وہ برآمدے میں جھلنگی کھاٹ پر نئی دلہن کی طرح گٹھری بنی پڑی تھی۔ گرمی کی بھری دوپہر، اس پر ٹھیرا ہوا بخار۔۔۔ جی بولایا جارہا تھا۔ کمرے میں گھر کے سب افراد دروازے بند کیے آرام سے ہنس بول رہے تھے۔ کئی بار اس کا جی چاہا کہ وہ بھی سورج کی تپش سے پناہ لینے کے لیے کمرے میں جا پڑے۔ لیکن اس کو ڈر تھا کہ کہیں اسے دیکھتے ہی کڑوی نصیحتوں کی بوتلیں نہ کھل جائیں۔ اس لیے وہ سورج کی تپش اور بخار کی حالت میں بھی اس تھوڑی سی تنہائی کو غنیمت سمجھ رہی تھی۔

تیز دھوپ اور تیز بخار۔ اسے رہ رہ کے ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ اس کی ہڈیوں کا گودا پگھل گیا ہے اور اس میں اس کی نس نس تلی جا رہی ہے اور اس کی کمانوں کی طرح ابھری ہوئی پسلیوں کو ایک مضبوط ہاتھ جھاڑو کی سینکوں کی طرح توڑ مروڑ دینا چاہتا ہے۔ اس عجیب احساس سے اسے کھانسی آنے لگی۔ وہی کھانسی۔۔۔ اس طرح جیسے کوئی لکڑی کے گھنے ہوئے خالی صندوق کو دھپ دھپائے، کھانستے کھانستے اس کے حلق سے کوئی چیز امنڈ آئی اور اس نے لیٹے لیٹے کھاٹ کے ڈھیلے بانوں کو سرکا کر تھوکا۔ جمے ہوئے خون کا ایک چھوٹا سا لوتھڑا چپ سے زمین پر چپک گیا اور اس سے پہلے کہ وہ خون کو دیکھ کر کچھ سوچتی، بندروں کے خوخیانے کی آواز سن کر بے حس و حرکت پڑگئی۔ کیونکہ اسے بندروں سے بہت خوف معلوم ہوتا تھا۔ اس نے بغیر گردن موڑے آنکھیں گھما کر اس طرف دیکھا جدھر سے آواز آ رہی تھی۔

ہائے اللہ۔۔۔ اس کے پپڑیائے ہوئے ہونٹوں کو اور بھی جھلساتا ہوا نکلا افوہ! کتنےبہت سےبندر باورچی خانے کے پچھواڑےوالی نیم سے دھپا دھپ چھت پر الٹی سیدھی چھلانگیں لگا رہے تھے۔ اس کا دل ایک دم چاہا کہ وہ بھاگ کر کمرے میں گھس جائے۔ لیکن اس ڈر کے مارے وہ حرکت نہ کرسکی کہ کہیں یہ سب بندر اس پر ٹوٹ نہ پڑیں۔کائی سے کالی منڈیر پر ایک مرجھلا سابندر پڑا سسک رہا تھااور اس کےارد گرد کئی موٹےموٹے بندر بیٹھے اس کی پیٹھ کے سیاہ گھناؤنے گھاؤ کو اپنےتیز ناخنوں سے کرید رہے تھے۔ بندر کا مکروہ گھاؤ دیکھ کر اسے پھر یریاں آنےلگیں۔ اور بندر تھے کہ زخم کے معائنے میں پوری طرح منہمک، ابھی ایک گھاؤ میں ہاتھ گھنگھول رہا ہے اور دوسرا کھیسیں نکالتا، پپوٹے پیٹتا، وہی عمل شروع کردیتا۔ گویا ایک زخمی اور سینکڑوں جراح۔ اور وہ بیچارہ مرجھلا بندر تھا کہ مارے تکلیف کے سرڈھلکائے دیتا۔ ایسا معلوم ہوتا کہ بس اب مرا، اب مرا۔ وہ سوچنے لگی کہ یہ کمبخت یہاں سے بھاگ کیوں نہیں جاتا؟ بھلا اس طرح اپنے گھاؤ کا معائنہ کراتے کراتے جان دینے سے حاصل؟ لیکن بے عقل جانور، پھر بھی اسے اس مظلوم کی بے کسی پر بڑا رحم آرہا تھا۔

اس کا جی چاہا کہ وہ کسی طرح ان دھوں کے دھوں بندروں سےاس کا پیچھا چھڑا دے جو ہمدردی کے بہانے تماشہ دیکھ رہے ہیں لیکن۔۔۔ لیکن یکلخت اس کی پسلیوں پر کوئی مضبوط ہاتھ زور آزمائی کرنے لگا۔ کھانسی اور سینے سےلے کر حلق تک گدگدی۔ اس کامنہ اس طرح بھر گیا جیسے اس نے بیک وقت پان کی کئی گلوریوں کی پیک اکٹھی کر لی ہو، اس نے گھبرا کر تھوکا۔ ہی ای ای ۔۔۔ سرخ سرخ جیتا ہوا خون، ہاتھ پاؤں ڈھیلے پڑگئے اور وہ اپنا دھمکتا ہوا سر پھانسوں بھری کھاٹ پر رگڑنے لگی۔بندر خوخیا رہے تھے اور کمرے میں گھر کے لوگ اس کے یوں الگ تھلگ رہنے پر باتیں بنا رہے تھے۔ اس نے بیزار ہوکر ڈھیلی ڈھیلی ٹانگیں پسار کر پٹی سے اڑالیں اور دونوں ہاتھ سینے پر رکھ لیے۔ اس کے کانوں میں گھر والوں کے بڑابڑانے اور بندروں کے خوخیانے کی آوازیں لوہے کی گرم گرم سلاخوں کی مانند اترتی معلوم ہو رہی تھیں۔ بندر اور گھر والے کتنے ہم آہنگ ہیں۔ اسے خیال آیا اور اسے اپنے سارے جسم میں نبضوں کی پھڑک محسوس ہونے لگی۔ معاً جیسے اس سے کسی نے کہہ دیا ہو کہ تو بھی اس مرجھلے بندر کی طرح ہےجو جانتے بوجھتے مہلک بیماریوں کا شکار ہو رہی ہے اور پھر بطور دلیل اس کے دھمکتے ہوئے دماغ پر کچھ زمانہ قبل کی کئی انمٹ تصویریں ابھر آئیں۔

’’تیئس چوبیس برس کی جوان پچھتی، آنکھوں میں نہیں سماتی اب تو۔‘‘ ماں کچھ جل کر فکر مند لہجے میں کہہ اٹھتی اور اسے اپنے پہاڑ جیسے کنوارپنے کا بہت احساس ہونے لگتا۔ اس کے خاندان کی ہم عمر لڑکیاں بلکہ اس سے بھی کمسن لڑکیاں کتنے ہی سال ہوئے بیاہی جا چکی تھیں۔ کئی کے چار چار پانچ پانچ بچے بھی ہوچکے تھے۔ کئی اپنے شوہروں کی نظر میں پرانا گھسا ہوا مال ہوکر میکے میں پڑی تعویذوں اور پیر صاحبان کے عملیات کے ذریعے اپنی پھٹی پرانی جوانیاں رفو کرا رہی تھیں۔ لیکن ایک وہی نہ جانے کیسی قسمت لے کر آئی تھی کہ اب تک اس اچھوتی بیری پر کسی نے ڈھیلا پھینکنے کی زحمت نہ گوارہ فرمائی۔ صورت شکل کی کہو تو ایسی بری بھی نہ تھی۔ بڑی سگھڑ اور بے منہ کی لڑکی تھی۔ اس کے باوجود اس کی شادی کا کہیں بندوبست ہو ہی نہ پاتا تھا۔اتنی بات ضرور تھی کہ سوائے اس کے اور اس کی ماں کے کسی اور کو اتنی فکر بھی نہ تھی۔ باپ تھا تو اس کو صرف پڑے پڑے حقہ پینے اور ہر دوسرے سال ایک عدد بچے کےاضافہ پر فخر کرنے کے علاوہ تیسرا کام نہ تھا۔ بڑا بھائی سو اپنی فکر میں مگن۔ آج دھوبن پر عاشق تو کل مہترانی پر فدا۔ اور چپکے چپکے بھی نہیں۔ کھلم کھلا، جوان بہن کے سامنے آہیں بھرنے، چٹخارے لینے اور جاو بیجا کھجانے سے بھی نہ چوکتا۔

تو وہ کچھ ایسے ماحول میں سانس لے رہی تھی۔ ماں نے اس کی بھرپور جوانی کو خانہ داری کی سل کے نیچے بہت دبانا چاہا لیکن توبہ! ایک وقت ہوا کرتا ہے۔ جب سوپ کا الار اسوپ میں نہیں رہتا۔ آپ نے کبھی چولہے پر پکتی ہوئی دال تو دیکھی ہی ہوگی اور یہ بھی دیکھا ہوگا کہ جس وقت ابال آتا ہے تو ہنڈیا دیکھنے والا جلدی سے پتیلی کا ڈھکنا ہٹا دیتا ہے۔ اس طرح ابال میں کچھ کمی آجاتی ہے نا؟ اور اگر غلطی سے ڈھکنا نہ ہٹایا جائے تو ابال اسے خود بخود اچھال کر اپنے لیے راہ پیدا کرلیتا ہے۔ غلط تو نہیں؟ ہاں تو اس کی زندگی میں بھی ابال کی سی کیفیت پیدا ہوگئی۔ حیاکے بوجھ سےجھکی ہوئی آنکھیں کچھ ڈھونڈنےکے لیے ادھر ادھر اٹھنے لگیں۔ ویسے تو پڑوسن کا مکان عرصے سے خالی پڑا تھا۔ لیکن ادھر سنا کہ کوئی طالب علم آ کر رہا ہے۔

بس کیا تھا؟ زمین کے پیٹ میں پیچ و تاب کھاتے ہوئے لاوے کو پھوٹ پڑنے کے لیے زمین کی کمزور پرت مل گئی۔ کام کاج کرتے کرتے اس کی نظریں اس دیوار کی طرف اٹھ جاتیں۔ جس کے پیچھے کوئی چلتا پھرتا ہوا رہتا ہوگا۔ اس کی خود فراموشیوں پر ماں گالیاں کوسنے دے رہی ہوتی۔ لیکن اس کے کانوں کے پردے وہ بھاری سی اجنبی آواز اپنےمیں جذب کرنے کے لیے پھڑپھڑاتے رہتے۔ گھر میں ماں باپ آپس میں جھگڑتے ہوتے اور وہ خیال ہی خیال میں دیوار پار کے کسی کے پہلو سے جا لگتی۔ لاوا جو تھا۔۔۔ بس اندر ہی اندر جوش کھا رہا تھا۔
’’کوٹھے پر کیوں جارہی ہے؟‘‘بڑا بھائی تھا بڑا ماہر نفسیات۔ اس کے ہاتھ میں رنگا ہوا گیلا دوپٹہ بھنچ کر رہ گیا۔
’’دوپٹہ سکھانے۔‘‘ اس کی تیوری پر بل آگئے۔ بھوکے کے سامنے سے تھالی سرکائی جائے اور اسے غصہ نہ آئے؟
’’کیا یہاں دھوپ نہیں ہے جو اوپر جانے کی ضرورت ہوئی؟‘‘ اس نےایک باغیرت بھائی کی طرح اسے جلتی ہوئی نظروں سےگھورا اور پھر ایک گھٹیا قسم کی سگریٹ سلگائی۔ وہ بدبداتی ہوئی دوپٹہ پلنگ پر پھینک کر بیٹھ رہی۔ بھائی مطمئن ہوکر گنگنانے لگا۔۔۔ نینوں میں نینا ڈالے، ہو بانکے نینا والے۔۔۔ اور وہ چڑ کر دل میں کوسنے دینے لگی۔
ادھر دیکھا، ادھر دیکھا۔ کوئی بھی اس کے شوق میں حارج نہ تھا۔ افوہ! کتنے دن سے وہ اس سوراخ سے جھانکنے کی متمنی تھی۔ اس نے موقع پا کر جلدی سے اپنی آنکھ اس ننھے سے سوراخ سے لگادی۔ تھوڑی ہی دیر بعد ایک گورا چٹا سا چہرہ سامنے آیا اور جھپ سے گزر گیا۔ ایک جھلک صرف ایک! اس کا اضطراب اور بڑھ گیا۔ کاش ایک بار وہ اور سامنے آ جائے۔۔۔ وہ اپنی آنکھ سوراخ سے لگائے رہی۔ کمبخت سوراخ بھی تو ایسی جگہ تھا کہ نہ تو پوری طرح بیٹھ کر جھانکا جاسکتا تھا اور نہ بالکل کھڑے ہی ہو کر۔ بس اس پر بالکل رکوع کی سی کیفیت طاری تھی۔ دونوں ہاتھ گھٹنوں پر، آنکھ سوراخ پر اور کان کمرے کے دروازوں پر۔ جھکے جھکے کمر دکھ گئی، ہاتھ سن پڑگئے اور کئی بار تو پلکوں کی رگڑ سے دیوار کی مٹی جھڑکر آنکھ میں گھس گئی لیکن وہ اسی طرح اس سوراخ سے چمٹی رہی اور اس سے عجیب عجیب امنگیں لپٹی رہیں۔ ایک دن، دو دن، تین دن۔۔۔ مہینوں اس ننھے سے سوراخ سے اس نظر کے ساتھ ساتھ جسم نے بھی پار ہو جانا چاہا۔ لیکن تھک کر اسے یقین آگیا کہ یہ ناممکن بات ہے۔’’اماں!‘‘ اس کا چھوٹا بھائی دھما دھم زینے سے اتر رہا تھا، ’’سالے نے میری پتنگ کاٹ لی۔‘‘’’اے کس نے بیٹا؟‘‘ماں کے چھکے چھوٹ گئے۔ یعنی ابھی کل ہی تو انہوں نےاسے چار پیسے کی پتنگ منگا کر دی تھی۔ اور وہ بھی کٹ گئی۔’’وہی جو ادھر آکر آ رہا ہے۔۔۔ کہہ رہا تھا کوٹھے پر پتنگ نہ اڑایا کرو۔ گر پڑو گے نیچے۔‘‘ وہ مارے غصے کے پاؤں پٹخے جا رہا تھا۔

’’تو کیا برا کہا؟‘‘ آٹا گوندھتے گوندھتے رک کر بولی۔’’چل تو چپکی بیٹھی رہ۔۔۔‘‘ ماں نے اسے پھٹکار دی،’’وہ بڑا آیا نصیحت کرنے۔۔۔ بچہ کوٹھے پر نہ اڑائے تو کیا اس کی میا کے سینے پر اڑائے؟ ہاں تو بیٹا پھر اس نے پتنگ کس بات پر کاٹی؟‘‘’’میں نےکہا۔ تم کون ہوتے ہو منع کرنے والے؟ خوب اڑائیں گے پتنگ، تمہارا اجارہ نہیں۔ بس اس پر اس نے لنگرڈال کر پتنگ کاٹ لی۔۔۔‘‘صاحب زادے نےمزے میں آکر دوچار موٹی موٹی گالیاں بک ڈالیں اور اس کے جیسے مرچیں ہی لگ گئیں۔ جی چاہا کہ آٹا چھوڑ کر لگائے دو تین، اور یہ اماں؟ منع بھی نہیں کرتیں اسے۔۔۔ بالشت بھر کا لونڈا اور یہ گالیاں! وہ اتنی بڑی ہوگئی تھی پھر بھی جب اس نے ایک بار صرف یونہی ایک گھریلو گالی غصے میں آکر بک دی تو اماں پھکنی لے کر مارنے کھڑی ہوگئی تھیں مگر۔۔۔’’ہے ہے قربان کروں ایسے خدائی فوجدار کو۔۔۔ تو بیٹا جب وہ۔۔۔ چھت پر نہ ہوا کرے تو اڑایا کر پتنگ۔۔۔ کمینوں کے منہ نہیں لگتے اور پھر تیرے ابا ہیں ظالم۔ کہیں سن پایا تو اپنی اس کی جان ایک کردیں گے۔‘‘’’کی نہ ہو ایک جان!‘‘ وہ پھر بدبدائی، ’’بھلا یہ بھی کوئی بات تھی کہ جس کے لیے وہ اتنے دن سے سوکھ رہی تھی۔ اسے کوئی گالیاں دے؟‘‘

’’ہوا کیا نہ کرے؟ وہ تو شام سے ڈٹا رہتا ہے چھت پر۔ پلنگ ولنگ بھی وہیں ڈال رکھا ہےاور شاید سوتا بھی وہیں ہے۔ مرے خدا کرے، جنازہ نکلے۔۔۔‘‘ بھائی کوسنے دے کر اپنا دل ٹھنڈا کر رہا تھا۔ لیکن وہ آپ ہی آپ مسکرا رہی تھی۔ جیسے وہ یہ کوسنے سن ہی نہ رہی تھی،اور واقعی وہ تو اس وقت کچھ سوچ رہی تھی۔ ایک بڑے مزے کی بات!’’پنجرے کا پنچھی اڑان کے لیے پر تول رہا تھا۔‘‘رات کو ماں نے پلنگ پر لیٹتے ہی چابیوں کا گچھا کمر بند سے کھول کر دیتے ہوئے کہا،’’لو یہ۔۔۔ اور کوٹھری کا تالا کھول کر زینے کے دروازے میں ڈال دو۔ آج تو بچے کی پتنگ پر نیت خراب کی۔ کل کو گھر کا صفایا کردے گا، اے ہاں نگوڑا!‘‘ اور پھر اپنا گھڑا جیسا چمکتا ہوا پیٹ کھول کر اطمینان سے ٹانگیں پسار دیں۔ اپنے بھر وہ حفاظت کر چکی تھیں۔ لیکن ادھر شروع ہو گیا کاٹ پیچ۔ وہ کوٹھری کا تالا کھولتے ہوئے سوچ رہی تھی، ’’چھت سے چھت تو ملی ہوئی ہے۔ آج اس سے وہ سب کچھ کیوں نہ کہہ ڈالوں جو ہوش سنبھالنے کے بعد سےاب تک دل میں بھرا ہواہے۔‘‘ زینے کا دروازہ مقفل کردیا گیا۔ لیکن گچھے سے اس کی چابی غائب ہو کر تکئے کے نیچے پہنچ گئی۔

چوکی کے گھنٹے نے ٹن ٹن دو بجائے۔ گھر میں سب بے خبر سو رہے تھے۔ وہ تکیے کے نیچے سے چابی نکال کر ننگے پاؤں اٹھ کھڑی ہوئی۔ ہوا کا ایک بھیگا سا جھونکا آیا اور اس کی جوانی کو ہلکورہ دے گیا۔ کسی نےسوتے سوتے پاؤں پٹخا۔ اور وہ دبے قدموں پانی کی گھڑونچی کے قریب جاکھڑی ہوئی۔ وہ تھوڑی دیر تک تاروں کی روشنی میں سب کو گھورتی رہی کہ کہیں کوئی جاگ تو نہیں رہا ہے۔ پھر اطمینان کرکے اس نے چپکے چپکے تالا کھولا۔ اب دروازہ کھولنے کی مہم تھی۔ لیکن وہ بھی بغیر چیں چپڑ کیے اس طرح وا ہوگیا جیسے کوئی بھوکی بھکارن چند ٹکوں کی خاطر لوتھ پڑ جائے۔ کتنے زور سےاس کا دل دھڑک رہاتھا۔ جیسے اب وہ پسلیوں کو توڑ کر رہے گا۔ زینے کے گھپ اندھیرے میں اس کی جلتی ہوئی آنکھوں کے سامنے وہ سب تارے ناچ رہے تھے، جو اس نے سر شام سے اس وقت تک گنے تھے۔ اور اس کی کنپٹیاں شدت جذبات سے دھڑ دھڑ کر رہی تھیں۔ اس پر بھرائے ہوئے مچھروں کی بھن بھن اور کچو کے۔ جانے کس مشکل سے آدھے زینے طے کیے۔ اس وقت تو واقعی اسے اپنا جسم پہاڑ معلوم ہو رہا تھا۔ شوق، خوف اور اندھیرا۔ سانس روکنے سے اس کا سر چکرانے لگا اور پھر آنکھوں کے سامنے رنگ برنگے دھبے پھیل گئے۔

گدا گد۔۔۔ وہ جوان پچھتی، گیند کی طرح زینوں پر گرتی اچھلتی باپ کے پلنگ کے پائے سے جا ٹکرائی۔ہو ہو۔۔۔ ہائے۔۔۔ چور۔۔۔ اللہ چیخیں سن کر اس کی آنکھوں کے سامنے کے رنگ برنگے دھبے سکڑ گئے۔ لالٹین کی بتی اونچی کی گئی۔’’ہے ہے یہ۔‘‘ ماں نے ایک دو ہتڑ اپنے متزلزل سینے پر رسید کیا، ’’ارے میں تو پہلے ہی اس رنڈی کے گن دیکھ رہی تھی۔ ہائے تو مر کیوں نہ گئی۔‘‘ غریب ماں کو تو جیسے غش آنے لگا۔’’ذبح کردوں گا اسے، بس کوئی روکے نہ مجھے۔۔۔ کہے دیتا ہوں۔ اوپر سے ہوکر آئی ہے مردار۔‘‘ باپ کی حالت مارے غیرت کے غیر ہوگئی۔ لیکن شاباش ہے کہ آپے سے باہر تو تھا لیکن کہہ رہا تھا سب چپکے چپکے۔۔۔ ارے ہاں کوئی اور محلے والے سن لیں تو۔۔۔ تو۔۔۔

بڑا بھائی شاید اپنی نئی معشوقہ کا خواب دیکھتے دیکھتے چونکا تھا۔ اس لیے اس کی جو حالت تھی بس بیان سے باہر۔ دوسرے وہ کتنی ہی بار اشاروں ہی اشاروں میں اسے سمجھا بھی چکا تھا کہ ’’دیکھو یہ کنواں ہے اس میں کسی بہن کو نہیں گرنا چاہیے۔‘‘ اس پر بھی نہ مانی تو یہ لے۔۔۔ بس چوٹی پکڑی اور دینا شروع کیے جھٹکے۔ باپ کی غیرت اندر ہی اندر پیچ و تاب کھا رہی تھی۔ اب جو اتنا آسان طریقہ دیکھا تو خود بھی جٹ گیا۔ لیکن ماں چونکہ بارہویں امید سے تھی۔ اس لیے محنت سے گریز کر گئیں۔ ویسے جتنی بھی خاص قسم کی گالیاں یاد تھیں، ہر پھر کر دہرائی جارہی تھیں۔ لیکن وہ بے انتہا تکلیف محسوس کرتے ہوئے بھی چیخ نہ سکتی تھی۔ ارادے کی ناکامی انسان کو بزدل بنادیتی ہےاور بزدل ہی دنیا سے خوف کھاتا ہے۔ اس میں اتنی ہمت ہی نہ تھی کہ ان مجرم منصفوں کے خلاف زبان ہلا سکے۔
کتنےہی مہینے گزر گئے اس واقعے کو۔ وہ سمجھتی تھی کہ جس طرح بڑے بھائی عیاشیاں ’’سیانا ہے، یہ عمر ہی ایسی ہوتی ہے‘‘ کہہ کر بھلا دی جاتی ہیں، اسی طرح اس کے عزم گناہ کو بھی فراموش کردیا جائے گا، لیکن پگلی، عورت کی حیثیت کو بھول گئی۔ عورت ایک کٹھ پتلی ہےجس کی ڈور سماج کے کوڑھی ہاتھوں میں ہے اور ان کوڑھی ہاتھوں میں جب چل ہونے لگتی ہے تو ڈور کے جھٹکوں سے یہ کٹھ پتلی نچائی جاتی ہے۔ لیکن اگر اس کٹھ پتلی میں جان پڑ جائے اور وہ اپنی مرضی کے مطابق حرکت کرنے لگے تو سماج کالوتھ پڑا ہوا سڑانڈھ جسم۔۔۔ کس سےدلچسپی لے؟ وہ سوچتی تھی کہ جس طرح اس کے گھر والے اس کی جوانی کے تقاضوں کی طرف سے کان بہرے کرکے بیٹھ رہے، اسی طرح اس واقعے کو بھول کر اپنی غلطی کو تسلیم کرلیں گے۔ لیکن یہ محض اس کاخیال تھا۔ اس کے فرشتہ صفت سرپرستوں کی نظر میں اس کی زندگی پر گناہ کی جو خراش آگئی تھی، بھلا وہ کبھی مندمل بھی ہوسکتی تھی۔

’’بدمعاش۔۔۔‘‘ اس کا بدمعاش بھائی ذرا سی بات پر کہہ اٹھتا۔’’اری۔۔۔‘‘ ماں اس کی اتری صورت ہی دیکھ کر ایک سانس میں گھنی گھنی گالیاں سنا ڈالتی۔معمولی خراش لعن طعن کے زہریلے ناخنوں سے کریدی جارہی تھی۔ یہاں تک کہ وہ خراش ایک بڑا سا گھاؤ بنا دی گئی۔ ایسا گھاؤ جو اندر ہی اندر سڑ کر زہریلا ہوجائے اور پھر اس کا زہر زندگی پر سکرات طاری کردے۔ لیکن خوفناک ناخن بھر بھی چین نہیں لیتے۔۔۔’’یہاں کیوں پڑی ہے؟ نگوڑی کو بخار ویسے ہی رہتا ہے۔ اس پر یہ دیوار اور دھوپ، مگر میں جانتی ہوں کہ سب کے سنگ بیٹھ کر کاہے کو دل لگے گا۔ بات چیت ہوگی اور بیوی بنو کا دھیان بھٹکے گا۔‘‘ماں کھانستی ہوئی لوٹا لے پاخانے میں جا گھسی۔

اس نے نڈھال ہو کر اپنی ٹانگیں سمیٹ لیں۔ باورچی خانے کی چھت پر مسٹنڈے بندر اپنے حساب زخمی بندر کا علاج کر رہے تھے۔ اس کے سینے میں درد پھر انگڑائیاں لینے لگا۔ حلق سے سینے تک سرسراہٹ اور پھر وہی ہڈیوں کا پگھلا ہوا گودا اسے اندر ہی اندر تلنے لگا۔’’اللہ!‘‘ اس نے للک کر پکارا اور پھر اپنی فریادی نظریں نیلے آسمان کی طرف اٹھائیں جو ایک وسیع ڈھکنے کی طرح دنیا پر رکھا ہوا تھا۔ نظریں دیر تک ڈھکنے کے اس پار جانے کی کوشش کرتی رہیں۔ جہاں اس کے خیال سے انصاف و رحم کی دنیا بسی تھی۔ لیکن فریادی نظریں ناکام رہیں۔ تھک کر اسے خیال آیا کہ اللہ میاں اپنی دنیا کو آسمان کے ڈھکنے سے ڈھک کر مطمئن ہوگئے ہیں۔ جس طرح وہ ایک دن کٹورے میں بچی کھچی دال رکھ، ڈھک کر مطمئن ہوگئی تھی۔ لیکن جب ایک گرم دوپہر گزرنے کے بعد اسے دال کا خیال آیا تو دیکھا دال سڑ کر بجبجا رہی تھی۔

Add Comment

Click here to post a comment