Home » بلوچستان کی دوسری خوب صورت مسجد
اسلام معلومات

بلوچستان کی دوسری خوب صورت مسجد

چھبار (چابہار) مغربی بلوچستان کا ایک خوب صورت ساحلی شہر ہے ـ دزآپ (زاہدان) اور “پھرہ”(ایرانشھر) کے بعد یہ بلوچ آبادی کے لحاظ سے مغربی بلوچستان کا تیسرا اور تربت کے بعد کُل بلوچستان کا چوتھا سب سے بڑا شہر ہے ـ یہ ایران کا سب سے بڑا “فری پورٹ” بھی ہے ـ چھبار کی تاریخ زیادہ پرانی نہیں ہے ـ اپنے قریب ترین ہمسائے گوادر کی نسبت تو اسے طفل بھی قرار دیا جاسکتا ہے ـ برطانوی دور میں یہ ایک چھوٹا سا ساحلی قصبہ تھا جہاں سمندر کے کنارے ماہیگیروں کی بستیاں تھیں ـ ماہی گیروں کو بلوچ سماجی نظام میں “مید” کے نام سے پکارا جاتا ہے ـ مید آبادی کے برابر میں ایک محلہ لاشاری بلوچوں کا تھا ـ یہ قحط سے بچنے کے لئے خطہِ لاشار سے ہجرت کرکے یہاں آن بسے تھے ـبرطانوی دور میں چھبار سلطنتِ عمان کے کنٹرول میں تھا ـ اسے ریاستِ قلات نے سالانہ اجارے پر عمان کے حوالے کر رکھا تھا ـ بلوچ محقق ڈاکٹر عبدالحمید کے مطابق چھبار کا انتظام جدگال قبیلے کے سردار کے ہاتھ میں تھا جسے سلطنتِ عمان سے ماہانہ وظیفہ ملتا تھا ـ

ایران کی قاجار شہنشاہیت نے پہلی جنگِ عظیم کے بعد اس ساحلی قصبے پر قبضہ کرلیا ـ قاجار نے صوبہ “بلوچستان و کرمان” بنایا ـ اس وجہ سے قاجار دور میں شہر کا انتظام کرمان کے ہاتھ رہا ـ پہلوی بادشاہت نے بلوچستان کو کرمان سے الگ کرکے ایک جدا اکائی تشکیل دی یوں شہر کا انتظام کرمان کے ہاتھ سے نکل کر “دزآپ” (زاہدان) کو چلا گیا ـ

“چھبار” دو بلوچی الفاظ کا مرکب ہے ـ “چاہ” یعنی “کنواں” اور “بار” یعنی قریب ـ حیرت انگیز طور پر ساحلی خطہ ہونے کے باوجود یہاں میٹھے پانی کے تین بڑے کنویں تھے ـ قرب و جوار کے افراد اونٹوں کے ذریعے یہاں سے میٹھا پانی لے جاتے تھے ـ اس خصوصیت کی وجہ سے اس کا نام “چاہ بار” اور مرورِ زمانہ بگڑ کر “چھبار” ہوگیا ـ پہلوی بادشاہت نے بعد ازاں شہر کا نام “چابہار” رکھ دیا ـ اس نئے نام کا جواز تراشا گیا کہ چوں کہ یہاں چاروں موسموں میں بہار کا سماں ہوتا ہے لہذا اس کا نام “چار بہار” ہونا چاہیے ـ

دز آپ کی مانند یہاں بھی جمعہ کی نماز صرف جامع مسجد میں پڑھی جاتی ہے ـ پہلوی دور میں چوں کہ شہری حدود ساحل کا اطراف ہی تھا اس لئے جامع مسجد بھی ساحل کے قریب تھی ـ مذہبی رواداری دیکھئے جامع مسجد اہلِ تشیع بھی وہاں تھی اور سنی مسلمانوں کی مسجد کے عین سامنے ہوا کرتی تھی ـ گوکہ شہر میں شیعہ آبادی کم تھی اور وہ زیادہ تر سرکاری ملازمین تھے لیکن اس کے باوجود اکثریت و اقلیت کے مکروہ دھندے کا تصور ہی نہیں تھا ـ

1979 کے اسلامی انقلاب کے بعد شہر پھیلنے لگا ـ ایران عراق جنگ کے دوران ایرانی حکام کو آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz) سے باہر ایک بندرگاہ کی کمی کا شدت سے احساس ہوا ـ اس احساس نے چھبار کی اہمیت میں اضافہ کردیا ـ ایران نے چھبار میں جدید بندرگاہ بنا کر اسے فری پورٹ قرار دے دیا ـ فری پورٹ کی وجہ سے شہر کی آبادی میں بے تحاشا اضافہ ہوا ـ بلوچستان بھر سے لوگ یہاں آکر مستقل سکونت اختیار کرنے لگے ـ بڑھتی آبادی کے باعث جامع مسجد تنگ پڑ گئی ـ

چھبار کے امام جمعہ مولوی عبدالرحمن نے جدید شہر کے قلب میں ایک وسیع زمین پر نئی مسجد بنانے کا فیصلہ کیا ـ 1988 کو مسجد کی تعمیر کا آغاز کیا گیا ـ اس حوالے سے ڈیزائن طلب کئے گئے ـ بالآخر ترکی طرزِ تعمیر پر مشتمل فلسطین کی مسجد اقصی کے مماثل ڈیزائن پر اتفاق کیا گیا ـسات سال تک شبانہ روز کام کرنے کے بعد مسجد نماز پڑھنے کے لئے تیار ہوگئی ـ اس کے بعد بھی تزئین و آرائش کا کام جاری رہا ـ آج تک جاری ہے ـمسجد ایک وسیع سفید گنبد اور دو بلند میناروں پر مشتمل ہے ـ گنبد کا ڈیزائن بیت المقدس کے مماثل ہے ـ مینار اس قدر بلند ہیں کہ خشکی یا سمندر سے شہر میں داخل ہونے والے کی پہلی نظر میناروں پر ہی پڑتی ہے ـ رات کو دونوں مینار سبز و آبی روشنی سے بھر جاتے ہیں جو مینار کی سفیدی سے مل کر دلکش منظر تشکیل دیتے ہیں ـ مسجد کے اندر ایرانی انداز میں کاشی کاری کی گئی ہے ـ اس کا صحن خاصا وسیع ہے ـ یہاں ہزاروں افراد بیک وقت نماز پڑھ سکتے ہیں ـ کہا جارہا ہے چھبار کی مسلسل بڑھتی آبادی کے باعث مستقبل میں مسجد کی جگہ شاید کم پڑ جائے ـ

مسجد دو حصوں پر مشتمل ہے ـ مشرقی بلوچستان (پاکستان) کی روایت کے برعکس یہاں خواتین کے لئے الگ جگہ مختص ہے جہاں وہ نماز پڑھا کرتی تھیں ـ تاہم چند سال قبل یہ سلسلہ بند کردیا گیا ـمیرا اندازہ ہے مسجد مکّی دزآپ کے بعد یہ بلوچستان کی دوسری اور خطہ مکران کی سب سے بڑی مسجد ہے ـ اسے جامع مسجد چھبار کے نام سے پکارا جاتا ہے ـ مسجد مکی کی نسبت البتہ اس کی سماجی و سیاسی طاقت کم ہے ـ چھبار و قرب و جوار کی حد تک مسجد کی سیاسی و سماجی اثرپزیری ثابت ہے تاہم جو قوت مسجد مکی کو حاصل اس کے مقابلے میں یہ انتہائی کم ہے ـ

Add Comment

Click here to post a comment