Home » بدلے اور انتقام ایسے بھی لیے گئے ہیں!!!
اسلام

بدلے اور انتقام ایسے بھی لیے گئے ہیں!!!

میرے ماں باپ بیوی بچے سب میرے آقا حضرت محمد صل اللہ علیہ والہ وسلم پر قربان کہ جنہوں نے توحید اور ختم نبوت صل اللہ علیہ والہ وسلم کی دعوت عام کرنے کے لیے کوئی دقیقہ فرو گزاشت نہیں چھوڑا۔براہ راست دعوت تو دی ہی, لیکن جہاں تک خود کے قدم نا پڑے وہاں اپنے قلم اور تحریر کی بدولت اور بحکم اللہ دعوت توحید پہنچائی۔جی ہاں, اس مقصد کے لیے ہمارے پیارے نبی حضرت محمد صل اللہ علیہ والہ وسلم نے جزیرہ عرب سے باہر قائم بادشاہتوں اور ریاستوں کو متعدد خطوط ارسال کیے تاکہ ان تک اسلام کی دعوت انہی کی زندگی میں ایک بار ضرور پہنچ جائے اور حجت اتمام ہوجائے۔ یہ خطوط تاریخ میں بہت اہمیت کے حامل ہیں اور بیشک یہ رہتی دنیا تک نبی صل اللہ علیہ والہ وسلم کی شخصیت کی گواہ تحاریر ہیں کہ انہیں صرف امت کی ہی فکر نہیں تھی بلکہ ہر اس نفس کی بھی فکر تھی جو توحید سے بے بہرہ تھا۔

ہجرت کا چھٹا برس ہے, قریش اور مسلمانوں کے مابین پرامن دروانیے کو نبی صل اللہ علیہ والہ وسلم نے ایک بہترین موقع جانا اور اس وقت کو اسلام کی بین الاقوامیت کی خاطر استعمال کیا۔نبی حضرت محمد صل اللہ علیہ والہ وسلم نے اس سلسلے میں جن ریاستوں کے بادشاہوں اور فرمانرواؤں کو خط لکھے ان میں شاہ بازنطین ہرقل, شاہ سکندریہ, شاہ حبشہ نجاشی, گورنر بحرین منذر بن ساوی, امیر یمامہ ہوذہ الحنفی, حاکم یمن, امیر غساسنہ اور شاہ فارس کسری شامل ہیں۔یاد رکھنے اور سمجھنے کی بات یہ ہے کہ بادشاہوں اور حکمرانوں کو اسلام کی دعوت کے طور پر بھیجے گئے نبوی خطوط میں ان شخصیات کے منصبوں کے نام اور القاب و خطابات تو شامل ہوتے ہی تھے لیکن ان سبھی خطوط کے اختتام پر یہ بھی تحریر ہوتا تھا کہ” اگر تم اس دعوت کا انکار کرو گے, تو تمہارے پیروکاروں کا وبال (گناہ) بھی تمہارے سر ہو گا”۔

لیکن آج میری دلچسپی ان خطوط میں سے صرف ایک پر ہے, شاہ فارس کسری کو لکھا خط اور اس مردود کا گستاخانہ جواب اور رویہ آج میرے قلم کی نوک پر ہیں۔
کیونکہ تاریخی روایات کے مطابق شاہِ فارس کِسری (خسرو) نے پیغمبرِ اسلام صل اللہ علیہ والہ وسلم کا نامہ مبارک یہ کہہ کر چاک کر دیا تھا کہ”میری رعایا میں سے ایک غلام اپنا نام مجھ سے پہلے لکھتا ہے”۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس واقعے کی جب خبر ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا” اللہ اس کی بادشاہت کو پارہ پارہ کرے”۔

پھر وہی ہوا جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا۔ کچھ عرصے بعد کسری اپنے بیٹے کے ہاتھوں مارا گیا اور اس کی سلطنت کمزور ہوگئی, لیکن باوجود کمزوری کہ یہ سلطنت بھی ریاست مدینہ کے سینے پر مونگ دلتی رہی تاآنکہ ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ اور عمر رضی اللہ تعالی عنہ کے ادوار خلافت میں بالترتیب خالد بن ولید رضی اللہ تعالی عنہ, مثنی بن حارثہ رضی اللہ تعالی عنہ اور سعد بن ابی وقاص رضی تعالی عنہ کی سپہ سالاری میں مسلم افواج نے قدم بہ قدم صبر و تحمل اور حکمت و تدبر سے مزین جہ اد فی سبیل اللہ سے فارس کا رخ کیا اور اس کو پارہ پارہ کرکے فتح کیا اور نبی صل اللہ علیہ والہ وسلم کی گستاخی کا بدلہ بھی چکایا اور نبی صل اللہ علیہ والہ وسلم کی مبارک زبان سے نکلے الفاظ کو تکمیل تک پہنچایا۔

کوئی مذہب اور تاریخ کا طالبعلم غیر جانبداری سے غور کرے تو اس خط, اس کے جواب میں کسری کی رعونت و گستاخی, نبی صل اللہ علیہ والہ وسلم کا اس پر ردعمل اور صحابہ رضوان اللہ اجمعین علیہم کی مستقل مزاجی, حرمت رسول صل اللہ علیہ والہ وسلم پر منتقم مزاجی, صبر و تحمل, حکمت و مصلحت اور تدبر کے ساتھ جہ اد فی سبیل اللہ سے یہ بات ایک دم واضح ہوجاتی ہے کہ نبی صل اللہ علیہ والہ وسلم کے گستاخوں اور بے ادبوں سے بدلے اور انتقام ایسے بھی لیے گئے ہیں!!!

آج اگر فرانس اور اسکی حکومت و رعایا اور اس کے حامی و حلیف محفوظ ہیں اور تم پر سختیاں اور پریشانیاں حاوی ہیں تو یاد رکھو اے اللہ نبی صل اللہ علیہ والہ وسلم اور ان کے صحابہ رضوان اللہ اجمعین علیہم کے پیارو۔ ۔ ۔ وہ وقت دور نہیں جب وقت کے ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ اور عمر رضی اللہ تعالی عنہ کے ادوار خلافت میں بالترتیب خالد بن ولید رضی اللہ تعالی عنہ, مثنی بن حارثہ رضی اللہ تعالی عنہ اور سعد بن ابی وقاص رضی تعالی عنہ دوبارہ تاریخ دہرائی جائے گی, دوبارہ وقت کے فارس و روم اور کسری و ہرقل مسلمان و محبان نبی صل اللہ علیہ والہ وسلم کی تلواروں کی ذد میں ہونگے اور دوبارہ یہ کفر کدے پارہ پارہ ہوکر تاقیامت عبرت کا نشان بنیں گے۔

لیکن پیارو یاد رہے کہ تمہیں بھی صحابہ رضوان اللہ اجمعین علیہم کی طرح مستقل مزاجی اور حرمت رسول صل اللہ علیہ والہ وسلم پر منتقم مزاجی کے ساتھ جہ اد فی سبیل اللہ کے اعلان اور ترتیب تک صبرو تحمل اور حکمت و مصلحت اور تدبر کا مظاہرہ کرنا پڑے گا کہ بیشک اللہ کو صبر و شکر بہت پسند ہے, بیشک وہ بدلے اور انتقام کے حصول کے لیے بھی ہو۔جزاک اللہ خیرا۔

Add Comment

Click here to post a comment