Home » بچوں کے نام
کالمز

بچوں کے نام

ایک صاحب سے ملاقات ہوئی تو انہوں نے اپنے معصوم اور پیارے سے بچے کو بھی ساتھ بٹھایا ہوا تھا میں نے بچے کا نام دریافت کیا تو جواب دیا “لاریب”۔ میں نے حیران ہو کر پوچھا کہ اس کا کیا مطلب ہے؟ تو کہنے لگے قرآن کا لفظ ہے حرف نکلوایا تھا تو پہلا حرف “لام” آیا اس لیے اس کا نام لاریب رکھ دیا۔میں نے ان سے کہا جناب لاریب کے معنی ہیں کہ “کوئی شک نہیں” تو فرمانے لگے کہ ہمیں تو اصل مطلب قرآن سے ہے یہ قرآن کا لفظ ہے باقی اور کیا کرنا ہے۔اسی طرح ایک اور جگہ جانے کا اتفاق ہوا تو انہوں نے بتایا کہ ہمارے تین بچے ہیں ایک بیٹا اور دو بیٹیاں نام دریافت کرنے پر پتہ چلا کہ بیٹے کا نام “اذان” ہے جبکہ بیٹیوں کا نام “فجر” اور “عشاء” ہے۔ میں نے تفریحا کہا کہ شکر ہے آپ کے تین ہی بچے ہیں زیادہ ہوتے تو نماز کا پیکج آپ کے ہی گھر میں مکمل ہو جاتا۔

میری خالہ کے ہاں بیٹا ہوا تو وہ اس کا نام “عباس” رکھنا چاہ رہی تھیں۔ نام میں اس لحاظ سے تو کوئی مسئلہ نہیں ہے کہ یہ ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا کا نام تھا مگر معنی کے اعتبار سے مسئلہ یہ ہے کہ قرآن کے تیسویں سپارے کی صورت ہے “سورۃ العبس” اور عربی زبان میں “عبس” یعنی اگر تینوں حروف پر زبر ہو تو اس کے معنی ہوتے ہیں کہ “اس ایک مرد نے تیوری چڑھائی” اور عربی میں اگر آپ آخری حرف سے پہلے “الف” اور دوسرے حرف پر “تشدید” لگا دیں تو یہ شدت کے معنوں میں آتا ہے “یعنی سخت تیوری چڑھانے والا”۔

پاکستان اور ہندوستان میں بچوں کے ناموں کے حوالے سے انتہائی بد احتیاطی پائی جاتی ہے ایک تو بچے کا نام “قرارداد پاکستان” کی طرح چاروں صوبوں سے منظور ہونا ضروری ہے یعنی بچے کے والدین تو ایک طرف اصل مسئلہ بچے کے ننھیال اور ددھیال کا ہوتا ہے نانی نے کچھ نام سوچا ہوتا ہے اور دادی کچھ اور سوچ کر بیٹھی ہوتی ہیں اسی طرح پھوپیوں نے اگر کوئی نام سوچ رکھا ہوتا ہے تو خالائیں اس کے علاوہ کچھ اور نام رکھنا چاہتی ہیں۔اس سارے عمل میں بچہ “بے نامی” کی زندگی گزارتا ہے پھر اگر نام فائنل ہو بھی جائے تو وہ بھی Trial & Error کی بنیاد پر چل رہا ہوتا ہے یعنی فی الحال تو یہ نام رکھا ہے مگر ابھی دیکھ رہے ہیں، ابھی سوچ رہے ہیں وغیرہ وغیرہ۔۔

ایک اور بڑا المیہ جو ہمارے معاشرے میں عام ہے وہ ڈاکیومنٹ اور حقیقی نام کا فرق ہے کاغذوں میں ایک بچے کا نام کچھ ہوگا اور حقیقی طور پر جو نام اس بچے کا معاشرے، گھر اور محلے میں لیا جاتا ہے وہ کچھ اور ہو گا۔ اس طرح نہ صرف وہ بچہ بلکہ پورا معاشرہ اس بچے کی شخصیت کے حوالے سے تذبذب کا شکار رہتا ہے۔اس کا ایک بڑا نقصان یہ بھی ہے کہ نام کا اثر بہت حد تک شخصیت پر پڑتا ہے اگر آپ “ابوبکر” نام کے لوگوں کو دیکھیں گے تو ان کے مزاج میں ایک نرمی اور ملائمت ملے گی جبکہ “عمر” نام کے بچے مزاجاً سخت ہوں گے اسی طرح “حیدر” نام کے بچوں میں آپ کو شجاعت اور رعب نظر آئے گا۔اب جس بچے کے دو دو نام مختلف جگہوں پر ہوں کہیں اسے کسی نام سے اور کہیں کسی اور نام سے پکارا جاتا ہو تو آپ اندازہ کر سکتے کہ اس کی شخصیت پر اس کے کیا اثرات مرتب ہوں گے؟

حدیث میں والدین پر اولاد کے جن حقوق و فرائض کا تذکرہ کیا گیا ہے اس میں اچھا نام رکھنا بھی شامل ھے۔ اس لئے پورے خاندان کو اور والدین کو یہ بات اچھی طرح سمجھ لینی چاہیے کہ نام رکھنا بچے کے دادا، نانا، خالہ یا پھوپھی کا نہ کام ہے اور نہ ہی ذمہ داری۔ یہ خالصتاً والدین کا فرض ہے کہ اس کا اچھا اور معروف نام رکھیں، اس میں کوئی مضائقہ نہیں ہے کہ آپ سب سے مشورہ لیں بھی اور دیں بھی، مگر بہرحال حتمی فیصلہ بطورِ والدین آپ نے ہی کرنا ہے۔اس سلسلے میں دوسرا بڑا معاملہ “اچھوتے” اور غیر معروف نام کی تلاش ہے والدین اور خاص طور پر والدہ کی خواہش ہوتی ہے کہ ایسا نام رکھا جائے “جو نہ کسی آنکھ نے دیکھا، نہ کسی کان نے سنا، نہ کسی دل میں اس کا خیال آیا اور نہ کسی دماغ نے اس کو سوچا” کہ مصداق ہو۔ ارے بھائی یہ معاملہ صرف جنت کے ساتھ ہے اس کو بچوں کے ناموں کے ساتھ نتھی نہ کریں۔

نام رکھتے ہوئے درج ذیل باتوں کا خیال ضرور رکھیں:1) نام پہلے سے سوچ کر رکھیں2) معروف اور معلوم نام رکھنے کی کوشش کریں۔3) نام رکھنے سے پہلے اس کے معنی اور مطلب کسی “علم والے” سے پوچھ لیں، ذہن میں رکھیں کہ نام کا اثر شخصیت پر ہوتا ہے، بچے نے اس نام کو صبح شام اور دن رات سننا ہے اس لیے نام ایسا ہو جو شخصیت سازی میں کردار ادا کرے۔4) بچہ جب تھوڑا بڑا ہو جائے تو اسے اس کے نام کا مطلب سمجھائیں اور اس نام سے جڑی شخصیات کے واقعات ضرور سنائیں تاکہ وہ کسی کو بھی بلا جھجک اپنے نام کا مطلب سمجھا سکے بلکہ اس نام سے متعلق شخصیات کے بارے میں بھی بتا سکے۔

آخری بات یہ ہے کہ قرآن زندگی گزارنے کی کتاب ہے۔ یقینا اس میں بہترین نام بھی موجود ہیں لیکن وہ محض “ناموں کی تلاش” کی کتاب نہیں ہے، قرآن میں لفظ “خنزیر” بھی موجود ہے اور “حمار” بھی خنزیر کے معنی “سور” کے ہیں اور حمار کے معنی “گدھا”۔ اس لیے یہ کوئی اوپن بک ٹیسٹ نہیں ہے کہ قرآن کھولا جو لفظ اچھا لگا اس کو نام بنا دیا۔ نام رکھنے کے لئے آپ کے پاس 9 مہینے موجود ہوتے ہیں سکون اور اطمینان سے ایک لڑکی اور ایک لڑکے کا نام فائنل کریں اور پیدائش کے سات دنوں کے اندر اس نام کو بچے کی شخصیت کا حصہ بنا دیں۔

Add Comment

Click here to post a comment