Home » بچوں کے حق میں یہ فیصلہ ابھی، اِسی وقت کرلیں ۔۔۔
معلومات

بچوں کے حق میں یہ فیصلہ ابھی، اِسی وقت کرلیں ۔۔۔

بچوں کے حق میں یہ فیصلہ ابھی، اِسی وقت کرلیں ۔۔۔۔۔۔ کہ کسے “بیاہ” کر گھر لانا ہے۔بچوں کے ہاتھ میں ایک چھوٹی سی ڈائری تھما دیں۔اب؟1۔ ایک فہرست بنوائیں۔
گردوپیش میں، اور ملکی سطح پر دستیاب اُن افراد کے اسمائے گرامی کی فہرست جن سے متعلق آپ اور دیگر بہت سے احباب کا خیال ہے کہ وہ صاحبانِ علم ہیں۔ قدرے معتدل رویہ رکھتے ہیں، دوسروں کو سپیس دینے کا حوصلہ رکھتے ہیں، شدّت پسند نہیں، شائستہ کلام ہیں، اور یوں کمیونٹی لائف میں عملاً، یا سوشل میڈیا پر ہی سہی، کچھ value اَیڈ کرنے کا ذریعہ بنے ہیں۔2۔ بچوں کو بتائیں کہ اِن سب شخصیات سے ہمیں ملنا ہے۔ اپنے وقت میں جو اہم شخصیات ہوتی ہیں، اُن سے ایک ملاقات کرنا ہوتی ہے۔ اُن سے پوچھنا ہوتا ہے کہ ہ کون سی کتابیں پڑھیں، کون سی ویڈیوز دیکھیں، کوئی اچھی سی نصیحت کریں، آٹو گراف بھی دیں، اور ہمارے ساتھ تصویر بھی بنوائیں۔مثلاً، ساحل عدیم ایک شاندار شخصیت ہیں۔ خوب اچھا و زورآور اِمپیکٹ آ رہا ہے اِس جوان سکالر کا۔

احمد جاوید صاحب، ناول نگار اور شائستہ کلام مقرّر ابو یحیٰی، پروفیسر احمد رفیق اختر، ڈاکٹر سیدہ عارفہ، ممتاز ماہرِ قانون پروفیسر ہمایوں احسان، ڈاکٹر خالد ظہیر، ڈاکٹر عاصم اللہ بخش، ہر دلعزیز عامر خاکوانی، قاسم علی شاہ، عارف انیس وغیرہ۔3۔ اس عمل میں ہر گز کوئی جماعتی تفریق یا تعصب نہ برتیں۔ مثلاً مولانا طارق جمیل بھی ایک حد درجہ خوش اخلاق اور معتدل ذہنی رویے کی حامل شخصیت ہیں۔بھلے کوئی جماعت اسلامی کی نمائندہ شخصیت ہے یا فرنود عالم جیسا ایک قطعی سیکولر ذہن کا بندہ، تب کیا؟!

4. معیار کیا ہے، اور مقصد کیا؟ ـــــ یہ کہ وہ شخصیت جَیک ما، یا اَیلن مَسک، یا بِل گیٹس نہ ہو۔ وجہِ شہرت دولت مند ہونا نہ ہو۔ بلکہ محنت، علم سے رغبت، کسی نوع کی ہنرمندی، قدرے زیادہ تہذیب یافتہ ہونا، کوئی مثبت بات، مثبت پہلو۔یعنی ــــ دولت مند ہونے کے علاوہ کسی خوبی کی حامل شخصیت!کوئی عمدہ شاعر، ادیب، ماہرِ تعلیم، ماہرِ نفسیات، یا آصف محمود، وسعت اللہ خان جیسا کوئی صحافی۔۔5۔ اِن میں ریاض علی خٹک، ابنِ فاضل، شہزاد حسین، بشارت حمید کو بھی شامل کر لیں۔ اور بھی متعدّد اہم نام یہاں فیس بُک پر مل سکتے ہیں (خبردار جو کسی نے میرا نام لکھنے کی کوشش کری! 🙂)6۔ اس فہرست میں معروف شخصیات کے علاوہ ایسے غیرمعروف افراد کا نام بھی شامل کر لیں جو کسی نوع کی انسپریشن دے سکتے ہوں۔بھلے ساتھ والے بازار میں عمدہ رویے کا حامل کوئی موٹر سائیکل مکینک۔ یا شہر کے کسی اسکول میں ایک ایسا استاد/استانی جس کے خلوص اور قابلیت سے متعلق اچھی خبریں موصول ہو رہی ہوں ــــ “خلوص اور قابلیت سے متعلق” نہ کہ امتحان میں اچھے گریڈز سے متعلق!اب؟

7۔ بچہ اپنے formative years کے اندر اندر یہ منظر دیکھ لے، اور جان لے کہ میرے امّی ابّو نے کتنی رغبت سے ایسی فہرست بنوائی، پھر قدرے جنون، اور خوب زورآوری کے ساتھ ان شخصیات سے ملاقات کرنے کا اہتمام کیا، اَیپروچ کیا۔ پاس بیٹھ کر کچھ وقت اُن کی باتیں سُنیں، اُنہیں بےپناہ اہمیت دی۔8۔ معروف شخصیات چونکہ ہر کسی کو انفرادی اعتبار سے اتنا وقت نہیں دے سکتیں، آپ دیگر والدین کے ساتھ مل کر ایک چھوٹے سے ‘پروگرام’ کا اہتمام کر لیں جہاں سب لوگ ایک ہی وقت میں ٹارگٹ شخصیت سے مل لیں۔

ایسا کرنا کیوں ضروری ہے؟آپ نے اپنے موبائل فون اسکرین پر ان شخصیات کی ویڈیوز اور تحاریر کو سبسکرائب تو کر ہی رکھا ہو گا، مگر یہ بات سمجھنے کی ہے کہ اکثر گھروں میں یہ سب شخصیات “بیاہ” کر گھر نہیں لائی جا رہیں۔ مطلب؟دیکھنا ہو گا کہ آیا یہ شخصیات بچوں کے ساتھ ہونے والی ہماری گفت و شنید اور ہمارے اصل رُجحانات کے iconic heroes بھی ہیں؟سب کچھ وقتی تحسین اور لائیکس وغیرہ تک تو محدود نہیں؟ کیا اسکرین سے باہر عمومی زندگی میں بھی یہ شخصیات اسی قدر اہم ہیں؟اُدھر بچے، اکثر گھروں میں، اپنی دنیا میں مگن ہیں، جہاں ویڈیو گیمز اور اُن میں شامل کرداروں نے فکری لیڈرشپ لے رکھی ہے ۔۔۔
ٹک ٹاک اور یوٹیوب پر کس کی فالوونگ زیادہ ہے، کون کتنا مشہور ہے، اور کون کتنے پیسے کماتا ہے وغیرہ ۔۔۔ بچے تو یہ سیکھ رہے ہیں ــــــ ایک خاموش ذہنی سفر ہے۔

کبھی ڈھیر سارا مواد اس موضوع پر دیکھا اور پڑھا تھا کہ بچے کی شخصیت کی بُنت میں نفسیاتی اعتبار سے کن ہارمونز یا کیمیکلز کا عمل دخل ہوتا ہے۔ یعنی وہی ڈوپامائین اور دیگر چار پانچ نام۔کچھ روز پہلے ماہرِ نفسیات ساحل عدیم کو serotonin کیمیکل کے کردار پر بات کرتے دیکھا۔وہ اس نکتے پر زور دے رہے تھے کہ “گھر کے عمومی کلچر میں بچہ جو منظر دیکھ رہا ہے، مثلاً جیو ٹی وی، اے آر وائی چینل پر لگی کوئی سیاسی بحث، یا والدین کی آپسی گفتگو، یا والد اور والدہ کی اصل پریشانیاں اور خواہشیں وغیرہ ۔۔۔ بچے نے اپنا مقصدِ حیات اور فلسفہ وہیں سے اٹھانا ہے۔ یہ کیمیکل اُسے گائیڈ کرتا ہے کہ بھائی آپ نے جو دیکھا، اُسے لائف کہتے ہیں۔”

یعنی بچہ جب عملاً دیکھتا، سُنتا ہے کہ امّی ابّو کی دلچسپیوں کا اصل مرکز کیا ہے، اُن کا اصل کنسرن اور پریشانی تو روپیہ پیسہ ہے، گھوم پھر کر ہر بات گھر، پلاٹ، گاڑی، زیادہ اِنکم وغیرہ پر آجاتی ہے ۔۔۔ فلاں نے یہ کر لیا، اتنی فالوونگ بنا لی، یا بزنس سے اتنے پیسے کماتا ہے ۔۔۔ تو بچے کی دنیا میں کبھی کبھار کی زبانی کلامی والی اخلاقی باتیں زیرو اہمیت رکھتی ہیں۔ایسی تعمیر غیرمحسوس طور جاری و ساری رہتی ہے۔ہماری ستائشی نظریں اگر اَیلن مَسک اور جَیک ما پر اُٹھنی ہیں، دولتمندی کی علامت بنی کسی بھی خاندان اندر یا باہر کی شخصیت پر تو ہم غلط ٹریک پر ہیں۔بچے کی دنیا میں کسی بھی شے یا شخصیت کی iconic اہمیت establish کرنے کا معیار عملاً متحرّک ہو کر، اور ذہناً چوکنّا رہ کر بنانا ہو گا۔”اہم شخصیت کون ہوتی ہے” کا معیار سیٹ کرنا ہو گا۔اوپر بیان کردہ آئیڈیا اور اس کی تفصیل اسی ضمن میں ہے۔

فوکس اس بات پر ہو کہ آج کا دن کیسے اچھا گذارا جائے؟ کامیابی کا اصل معیار کیا ہے؟ ایک نئی اچھی عادت کیسے اپنائی جائے؟ کوئی بری عادت کیسے ترک کی جائے؟ ریگولر کیسے رہا جائے؟ غصے پر قابو پانے کا طریقہ کیا ہے؟ غیبت کسے کہتے ہیں؟ علم میں اضافہ کرنے کو اسکرین سے کیسے فائدہ اٹھایا جائے؟ یوٹیوب پر کون سے چینلز سبسکرائب کرنا ہیں؟ گھر کا بجٹ کیسے چلایا جائے؟ اکیسویں صدی میں کن اسکلز کا ہونا ضروری ہے؟ کہاں سے سیکھی جائیں؟ کون کون سی دعائیں ہر روز پڑھنا ہیں؟سب اکٹھے بیٹھ کر ایجوکیشنل ویڈیوز دیکھنے کا اہتمام کریں۔ رک رک کر بات کریں ۔۔۔ نماز کا وقت آپ کے گھر میں کرفیو ٹائم ہونا چاہیے۔بچے عملاً دیکھ لیں اور جان لیں کہ امیر ہونا کامیابی کا معیار نہیں ہے۔ساتھ ہی ساتھ یہ کہ پیسہ کمانا کوئی جرم بھی نہیں! ۔۔۔ غلط بات یہ ہے کہ اُسے زیادہ اہمیت دی جائے ۔۔۔ اہم بات یہ ہے کہ جو کچھ ہمارے پاس ہے، دوسروں سے شیئر کرنے کے لیے ہے تا کہ دوسروں کی زندگی میں بہتری آئے اس سب کچھ کا لازمی نتیجہ یہ ہو گا کہ آپ نے اپنے بچے کے لیے ایک اچھی زندگی سبسکرائب کر لی ہے، اور جن شخصیات کو آپ فقط فون اسکرین پر اہمیت دیا کرتے ہیں، انہیں “بیاہ” کر گھر تک لے آئے ہیں۔
ہمایوں تارڑ

Add Comment

Click here to post a comment