Home » آپ کا موٹیویشنل سپیکر کیسا ہو؟
معلومات

آپ کا موٹیویشنل سپیکر کیسا ہو؟

’’اگر آج تیرے پاس گاڑی نہیں ہے نا بیٹا کل تیرے گیراج میں Lamborghini اور Porsche کھڑی ہوں گی۔‘‘ ’’پہننے کو تیرے پاس Gucci کے جوتے ہوں گے۔ ‘‘ ’’تیرا شیلف Armani کے کپڑوں سے بھرا ہو گا۔‘‘ اس ٹائپ کے بہت سے جملے آپ موٹیوشنل سپیکرز سے سنتے رہے ہوں گے۔بظاہر ان باتوں میں کوئی برائی ہے اور نہ قباحت۔ لیکن مسئلہ صرف یہ ہے کہ جب مادی طرز فکر انسانی دماغ کو جکڑ لے تو اس طرح کی باتوں پہ انسان دل و جان سے ایمان لے آتا ہے۔ میری ذاتی رائے میں ہمارے یہاں ڈیپریشن بڑھنے کی ایک بڑی وجہ ہمارے نوجوانوں کو اسی دھندے میں لگا دیا جانا ہے۔ جس میں موٹیوشنل سپکرز نے پورا پورا حصہ ڈالا ہے۔ اس حوالے سے چند گزارشات پیش خدمت ہیں:

1۔ اگر آپ کو اپنا ٹارگٹ پانے کے لیے متعدد موٹیویشنل سپیکرز یا ایک ہی سپیکر کو بار بار سننے کی ضرورت پڑ رہی ہے اور اس کے بغیر آپ موٹیویٹ(Motivate) نہیں ہوتےتو آپ کو اپنی اصلاح کی بہت ضرورت ہے۔ اپنی زندگی کا کوئی نصب العین، مقصد اور ہدف طے کیجئے اور اس میں لگ جائیے۔آپ کا وہ ہدف اتنا واضح اور کلیئر ہو کہ آپ کو کسی ایکسٹرنل موٹیویٹر(External Motivator) کی ضرورت ہی نہ ہو۔ آپ ہر لمحہ سیلف موٹیویٹڈ (Self-Motivated)ہوں۔

2۔ موٹیویشنل سپیکرز نے نوکری اور جاب کو بہت گری ہوئی اور منفی چیز کے روپ میں پیش کیا ہے۔ ’’اجی دیکھیے! سٹیوجابز اگر نوکری ہی کرتا رہتا تو ایپل جیسا ادارہ وجود میں نہ آتا۔‘‘ٹھیک ہے انسان کو آگے بڑھنا چاہیے، اس کے لیے ہر ممکن کوشش کرتے رہنا چاہیے لیکن آپ بہت سے پیشوں سے وابستہ رزق حلال کمانے والوں کی تذلیل تو مت کیجئے۔اگر ایک استاد اپنے سکول یا کالج میں سادہ سی بائیک پہ آتا ہے، محنت سے پڑھاتا ہے، بچوں کی تربیت کرتا ہے اور اس استاد کا کوئی شاگرد ہنڈا سوک میں کالج میں آتا ہے تو کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ اس بچے کو استاد پہ فوقیت دی جائے۔ چاہے استاد کو ملے سکون و اطمینان کا عشر عشیر بھی ہنڈا سوک والے کو حاصل نہ ہو؟ افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ اس ٹائپ کا تقابل عروج پر ہے۔

3۔ یہ خوش قسمتی ہے کہ پاکستان کے کچھ موٹیویشنل سپیکرز نے اس راز کو پالیا ہے کہ محض مال و دولت کا حصول کچھ حیثیت نہیں رکھتا، جس کی ایک مثال قاسم علی شاہ ہیں۔ جتنا کو میں نے انھیں سنا یوں لگتا ہے کہ وہ دوسروں سے کچھ مختلف یوں ہیں کہ اپنے سننے والے کو مادیت کی پوجا میں نہیں لگاتے۔ زندگی میں بہت کچھ پانے اور کمانے کے بعد شاید وہ جان گئے ہیں کہ اصل چیز دلی سکون اور اطمینان ہے۔

4۔ ایک رپورٹ کے مطابق پچھلے دو تین سالوں میں چھوٹے پیمانے پر شروع کیے جانے والے کاروباروں کی ناکامی شرح تیزی سے بڑھی ہے۔ اور اس کی وجہ وہی ہے جس کا میں نے اوپر تذکرہ کیا کہ جوانوں کو سوتے جاگتے Lamborghini نظر آنے لگتی ہے۔ ظاہر ہے کہ وہ کاروبار کیے بغیر تو کبھی ہاتھ آ نہیں سکتی۔ پھر دو چار موٹیشنل تقاریر سنی اور کاروبار کا آغاز کر دیا۔ ایجوکیشن اور تعلیم گئی بھاڑ میں اس نے دینا ہی کیا ہے۔

5۔ جن ارب پتیوں(billionaires) کی Success Stories کی موٹیویشنل سپیکر مالا جپتے رہتے ہیں کبھی یہ بتانے کی بھی زحمت کی کہ انھوں نے کن کن ہتھکنڈوں سے دولت جمع کی اور دوسروں کی جیبوں پہ ڈاکا ڈالا۔ میرا مقصد ہرگز یہ نہیں ہے کہ ہر ارب پتی ناجائز ذرائع سے ہی آگے بڑھا ہے لیکن یہ تو حقیقت ہے کہ بہت سے لوگ یہ ہتھکنڈے استعمال کرتے ہیں ان کو اپنی تقاریر کا حصہ کیوں نہیں بنایا جاتا؟

6۔ آخری بات یہ کہ آپ پیسہ کمائیے، ہیلی کاپٹر، جہاز، بحری جہاز سب کچھ خریدئیے۔ ان سب کے ساتھ اگر آپ کو اللہ کی رضا حاصل ہے تو آپ کامیاب ہیں۔ عزت و ذلت کا معیار دولت کو مت بنائیے۔ زندگی کے اہداف بالکل واضح رکھیے اور ان کو پانے میں کوشش کرتے رہیے۔ حلال ذرائع سے کمائی روزی سے آپ میں اتنا اعتماد ہونا چاہیے کہ آپ کے پاس چاہے سائیکل ہی ہو لیکن پاس سے گزرتی Lamborghini آپ کو مرعوب نہ کرسکے۔

Add Comment

Click here to post a comment