Home » ایک اور سرد جنگ!
معلومات

ایک اور سرد جنگ!

گزشتہ روز جی سیون(G-7) ممالک نے امریکہ کے سربراہی میں برطانیہ میں ایک تین روزہ میٹنگ کا انعقاد کیا تھا، جس میں امریکہ سمیت “جرمنی، برطانیہ، اٹلی، جاپان اور کنیڈا” نے شرکت کی، اجلاس میں گزشتہ چالیس سال سے چین کی تیزی سے بڑھتی ہوئی معاشی، دفاعی اور سیاسی قوت میں مسلسل اضافے پر تشویش کا اظہار کیا گیا، اور چین کی جانب سے سال 2013 میں شروع کیے گئے منصوبے “ون بیلٹ ون روڈ” جو کہ تقریباً ایک ہزار ارب ڈالر کی عالمی چینی منصوبہ ہے، کو خاص طور پر کاؤنٹر یا ناکام بنانے کی منصوبہ بندی اور میکانیزم بھی اس اجلاس میں خصوصی طور پر تیار کی گئی. جی سیون (G-7) ممالک نے چین کی منصوبہ “ون بیلٹ ون روڈ” کی متبادل کے طور پر ایک اور منصوبہ اور پراجکٹ کا اعلان کیا،

جس کو “بِلڈ بیک بیٹر ورلڈ”(B3w) کا نام دیا، جس کا مطلب (دوبار بہتر دنیا کی تعمیر) ہے، چالیس ٹریلین ڈالر یعنی چالیس ہزار ارب ڈالر کے اس تاریخی اور مہنگے ترین منصوبے کے تحت غریب اور ترقی پذیر ممالک میں سوشل انفراسٹرکچر سمیت صحت، تعلیم اور توانائی کے مشترکہ منصوبے تعمیر کیے جائیں گے.

اس انتہائی بڑے اور مہنگے ترین پروجیکٹ کا بنیادی مقصد چین کی عالمی سطح پر بڑھتے ہوئے سیاسی اثرات، تجارت، سرمایہ کاری اور تیزی سے پھیلتے ہوئے سفارتی اثر ورسوخ کی روک تھام ہے, کونکہ چین اس وقت آمریکا کی عالمی بالادستی اور اجارہ داری لیے سنگین خطرہ بنتا جا رہا ہے، اس لیے اب امریکہ نے چین کو کنٹرول میں لانے کے لیے باقاعدہ اور منصوبہ بند جنگ کا آغاز کر دیا.

اور دوسری طرف اگر دیکھا جائے تو امریکہ اور نیٹو کی افواج کو افغانستان، عراق اور شام سے نکالنا اور ایران پر حملہ نہ کرنے کی بنیادی وجہ بھی امریکہ اور مغرب کی چین کے ساتھ شروع کیا گیا سرد جنگ ہے، کیونکہ ایک طرف تو امریکہ اور یورپ کے ساتھ اتنے وسائل نہیں ہیں کہ وہ ان جنگوں کے ہوتے ہوئے چین جیسے بڑی طاقت کے ساتھ عالمی سطح پر تجارتی، سفارتی اور سیاسی جنگ لڑے، اور دوسری طرف دوسرے اتنے محازوں میں مصروف اور الجھنے کی وجہ سے امریکہ کے پاس وہ توجو، ٹایم اور یکسوئی نہیں بچے گی، جو چین کو قابو کرنے اور کنٹرول میں لانے کے لیے امریکہ کو ضرورت ہے، اس امریکہ باقی تمام محازوں کو ختم کرکے چین کو خصوصی فوکس کرنا چاہتا ہے.

اور بات یہ بھی اہم ہے کہ امریکہ اپنے اتحادیوں کے ساتھ ملکر چین کے ساتھ یہ سرد جنگ ہنگامی بنیادوں پر لڑنا چاہتا ہے، کیونکہ چین انتہائی خطرناک حد تک امریکہ کے قریب پہنچ چکا ہے کیونکہ اگر دیکھا جائےتو امریکہ جن کی سالانہ ( GDP) اس وقت 23 کھرب ڈالر ہے، جبکہ چین کی سالانہ( GDP) اس وقت تقریباً 14 کھرب ڈالر ہے، معاشی ماہرین کے تجزیہ کے مطابق 2028 تک چین امریکا کو کراس کر کے دنیا کا پہلا اقتصادی طاقت بن جائیگا، یوں چین کو روکنے اور قابو کرنے کے لیے سرد جنگ امریکا کے لیے زندگی اور موت کا سوال ہے، اس لیے یہ اس جنگ کی آغاز امریکا کی جانب سے ہو چکا ہے.

ایک بات انتہائی نیک شگون ہے، وہ یہ کہ پہلی بار اس عالمی سامراجی سرد جنگ کی میدان افغانستان اور ہمارا خطہ نہیں ہے، بے شک ہمارے ریجن میں خطے کی طاقتوں کے درمیان مفادات کے لڑائی بدستور جاری رہی گی، لیکن انٹرنشنل وار ہمارے خطے سے شفٹ ہوتا جا رہا ہے، چین اور امریکہ کے اس سرد جنگ کی میدان اور مرکز بحر الکاہل(pacific ocesan )کی سمندر اور بحیرہ جنوبی چین ہو گا،اس جنگ میں امریکہ کے ساتھ جی سیون کے علاؤہ اھم اتحادی ممالک آسٹریلیا، کینیڈا، جاپان اور ہندوستان ہوگا، جبکہ چین کے ساتھ روس، ایران اور لاطینی امریکہ کے ممالک چلی اور ارجنٹائن وغیرہ ہوگا، اور مزید اس صفوں میں ردوبدل ہو سکتا ہے،اس نئے عالمی تناظر میں درست سیاست، صحیح فیصلے اور حالات کا صیحیح ادراک کرنے سے بہترین نتائج بھی اخذ کیے جاسکتے ہیں، اور غلط تجزیے، عمل اور فیصلوں سے خطرناک نتائج بھی برآمد ہوسکتے ہیں، یہی اس وقت سیاست اور قیادت کا آزمائش ہے.

Add Comment

Click here to post a comment