Home » آخری تجربہ
معلومات

آخری تجربہ

انتوان لاووسیے کا شمار مشہور ترین سائنسدانوں میں ہوتا ہے۔ جدید کیمسٹری کی بنیاد انہوں نے رکھی۔ آکسیجن کے کردار سے لے کر میٹرک سسٹم تک، ماس کے کنزرویشن کے قانون سے کئی عناصر کی دریافت تک، تنفس اور پانی کی کیمسٹری تک ان کا سائنس کی تاریخ میں بہت اہم کردار رہا ہے۔ یہ سائنس کو اپنے شوق کے لئے فارغ وقت میں اپنے خرچ پر کرتے تھے۔ ایسا یہ اس لئے کر سکتے تھے کہ ان کا شمار فرانس کے امیر ترین افراد میں ہوتا تھا۔ امیر ترین افراد میں اس لئے تھے کہ ملک میں ٹیکس اکٹھا کرنے کی ذمہ داری ان پر تھی۔ اس وجہ سے ان کو اعداد اور پیمائش کا جنون کی حد تک شوق تھا۔ اسی جنون کا نتیجہ سائنس کی دریافتوں سے لے کر فرانس کو پیمائش کا مرکز بنانے کی صورت میں نکلا اور خود ان کی زندگی کے اختتام کی وجہ بھی بنا۔ ان کا امیر ہونا اور حکومت کا حصہ ہونا ان کا جرم ٹھہرا۔ انقلابِ فرانس کے بعد انقلابیوں کی حکومت کے دور میں ان کو سزائے موت دی گئی اور ان کا سر قلم کر دیا گیا۔ ان پر تمباکو میں ملاوٹ کا الزام لگایا گیا تھا۔

جس روز لاووسیے کو سزائے موت دی گئی، اس روز پینتیس منٹ میں اٹھائیس لوگوں کے سر قلم کئے گئے۔ لاوویسے کے ذہن میں اس وقت ایک اور خیال آیا۔ ایک اور پیمائش، ایک اور تجربہ۔ انہوں نے سنا تھا کہ جب سر کاٹ دیا جائے تو زندگی فوری ختم نہیں ہوتی بلکہ کچھ دیر لگتی ہے۔ چہرے پر تاثرات آتے ہیں اور آنکھ جھپکی جاتی ہے۔ انہوں نے کسی کو کہا کہ جب میرا سر علیحدہ ہو جائے گا تو جب تک ممکن ہوا، میں آنکھیں چھپکاتا رہوں گا۔ یہ گننا کہ میں کتنی دیر تک اور کتنی بار ایسا کرنے میں کامیاب ہوتا ہوں۔ یہ لاووسیے کی زندگی کا آخری تجربہ تھا۔کچھ لوگ کہتے ہیں کہ انہوں نے گیارہ بار پلکیں چھپکائیں، کچھ کے مطابق پندرہ بار، کچھ کہتے ہیں کہ اسے نوٹ ہی نہیں کیا گیا کیونکہ ان کا سر ناظرین سے دور گرا تھا۔ لیکن یہ ہم جانتے ہیں کہ ان کا شعور سر قلم ہونے کے ساتھ ہی بجھ نہیں گیا تھا۔
گلوٹین سزائے موت کا سب سے مہذب طریقہ سمجھا جاتا تھا۔ جلا دیے جانے، مصلوب ہو جانے کے مقابلے میں بس ایک ہی وار میں قصہ تمام۔ امیر لوگ اپنے جلاد کو رشوت دیا کرتے تھے کہ بلیڈ تیز ہو۔ فرانس میں انقلاب کے بعد دہشت کے ایک سال میں ہزاروں لوگوں کے سر اس سے کاٹے گئے جس میں فرانس کے بادشاہ اور ملکہ بھی شامل تھے۔ یہ طریقہ 1977 تک رائج رہا جب گلیوٹین کے ذریعے فرانس میں آخری سزا ایک بائیس سالہ خاتون کو قتل کرنے پر دی گئی۔

ڈاکٹر بئیو نے 1905 میں اس پر ایک تجربہ ہینری لینگویل کی سزائے موت پر کیا۔ پوری تفصیل لکھنا شاید مناسب نہیں، وہ نیچے لنک سے، اس میں سے ایک فقرہ، “میں نے اس کو آواز دی، اس کے آنکھیں مجھ سے ملیں اور ملی رہیں۔ میں کسی زندہ شخص کی آنکھ دیکھ رہا تھا۔ یہ غیرشعوری حرکت نہیں تھی۔” سر قلم ہونے سے شعور کے بجھ جانے تک تیس سیکنڈ کا وقت ہوتا ہے۔تو آج ہم جتنا جانتے ہیں، اس کے مطابق لاووسیے کے آخری تیس سینکڈ کیسے تھے؟

سرد دھات گردن پر محسوس ہونے کے بعد سر زمین کی طرف بڑھا۔ دو فٹ نیچے جا کر ٹکرایا۔ ناک میں خون بھر چکا ہے جو صاف نہیں کر پا رہے۔ زمین گھومتی ہوئی اب ساکن ہو چکی ہے۔ کچھ اور احساس نہیں۔ کانوں سے نکلتے خون کا علم نہیں۔ اب انتظار ہے۔ وقت بہت لمبا لگ رہا ہے۔ ایسے لگ رہا ہے کہ کسی سرنگ میں داخل ہو رہے ہیں اور کچھ شور سا۔ دماغ کا پہلے اپنا باہر والا کورٹیکس بند ہوتا ہے۔ اس کے بعد پھر سنسری اور موٹر کورٹیکس۔ سب سے آخر میں یادوں والا کورٹیکس۔ اس دوران اپنی زندگی گویا دوبارہ آنکھوں کے آگے سے گزرتی ہے۔ یہ نیند میں جانے کی کیفیت نہیں۔ اپنی پوری زندگی سے ایک تیزرفتار سفر کی کیفیت ہے، یہاں تک کہ آخری یاد تک اور پھر سب کچھ بند۔

لاووسیے بھی اس دنیا سے چلے گئے جیسے ان سے پہلے اربوں جا چکے، جاتے رہے ہیں اور جاتے رہیں گے۔ اس سے ڈیڑھ سال بعد فرنچ حکومت نے ان کی بیوہ کو مختصر خط لکھ کر اس پر معافی مانگ لی تھی کہ ان کو دی جانے والی سزا غلط تھی۔ لاگرینج کے مطابق “اس سر کو کٹنے میں ایک لمحہ لگا، لیکن ویسا سر سو سال تک پیدا نہیں کیا جا سکے گا”۔ لاووسیے کا نام آج آئفل ٹاور پر لکھے 72 عظیم ناموں میں سے ہے۔

Add Comment

Click here to post a comment