Home » 73فرقے جواز نہیں
اسلام بلاگ

73فرقے جواز نہیں

فرقوں کے معاملے میں بہت سی جگہ سنن ترمذی کی حدیث 2641 کا حوالہ دیا جاتا ہے،جس میں حضور رحمت للعالمین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی امت کی بنی اسرائیل سے مماثلت کی نشاندہی کرتے ہوئے فرمایا کہ بنی اسرائیل بہتر فرقوں میں بٹے تھے اور میری امت تہتر فرقوں میں بٹ جائے گی۔۔۔میں چونکہ عموماً فرقہ واریت کے رد پر لکھتا رہتا تو مجھے بارہا یہ جواز دیا گیا کہ اپ فرقوں کا رد کر ہی نہیں سکتے یہ تو حضور رحمت للعالمین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حدیث ہے لہٰذا یہ تہتر بننے ہی بننے اور عموماً ایسے احباب اپنے فرقے کو وہ واحد تہترواں جنتی فرقہ ڈکلیئر کر کے اس میں گھسے بیٹھے ہوتے ہیں🙂
دیکھیے میرے بھائی۔۔۔
ایک بہت بنیادی اور بڑا فرق ملحوظ خاطر رکھنا نہایت ضروری ہے، اور وہ فرق ہے “پیشنگوئی اور حکم” کے مابین۔۔۔حضور رحمت للعالمین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اس حدیث مبارکہ میں امت کو “خود” سے فرقوں میں بٹنے یا وہ ایک فرقہ ڈھونڈ کر اس میں گھسنے کا حکم نہیں دیا گیا۔۔۔ بلکہ ایک پشین گوئی کی گئی ہے کہ ایسا ہوگا۔۔۔جیسے دجال کا آنا ایک پیشن گوئی ہےلیکن اس کے لیے حکم کیا ہے۔۔؟؟قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ “مَنْ سَمِعَ بِالدَّجَّالِ فَلْيَنْأَ عَنْهُ#” (مکمل حدیث مبارکہ 4319 ابوداؤد)رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ جو کوئی دجال کے متعلق سنے تو اس سے دور رہے۔۔فلینا عنہ کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں دور رہنے کا کھلا واضح اور دو ٹوک حکم۔۔!!ایسے ہی۔۔۔تہتر فرقوں کے متعلق پیشن گوئی کی گئی ہے کہ وہ بنیں گے لیکن حکم کیا ہے۔۔؟؟
وَاعْتَصِمُوْا بِحَبْلِ اللّٰهِ جَمِیْعًا وَّلَا تَفَرَّقُوْااور اللہ کہ رسی کو مضبوطی سے تھامے رکھو اور تفرقے میں نہ پڑو۔۔ولا تفرقو کے کے الفاظ ہیں باز رہنے کا کھلا، واضح اور دو ٹوک حکم۔۔۔!!

دجال کے آنے کی پیشنگوئی لیکن حکم اس سے دور رہنے کافرقوں کے بننے کی پیشن گوئی لیکن حکم فرقوں میں نہ بٹنے کایہ ہے حکم اور پیشن گوئی کا واضح ترین فرق۔۔لہٰذا یہ حدیث فرقوں میں گھسنے کا لائسنس نہیں بلکہ ایک وعید پر مبنی ڈر سنانے والی پیشن گوئی ہے کہ ایسا ہوگا لیکن تم ایسا نہ کرنا،تم بچنا تم تفرقے میں نہ پڑنا۔۔!!آب آ جائیں اس کے دوسرے پہلو کی طرف اسی حدیث مبارکہ میں حضور رحمت للعالمین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جس جماعت کے جنتی ہونے کی بشارت دی ہے اس کی واحد اور واضح نشانی کیا بتائی ہے۔۔؟؟

‏‏‏‏‏‏قَالُوا:‏‏‏‏ وَمَنْ هِيَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ:‏‏‏‏ مَا أَنَا عَلَيْهِ وَأَصْحَابِيترجمہ: صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے عرض کیا اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ کونسی جماعت (جنتی) ہوگی۔۔؟ فرمایا : جو میرے اور میرے صحابہ کے نقش قدم پر ہوگی۔۔!!یہاں احباب کے لیے ایک سوال جو آپ نے خود سے پوچھنا ہے۔۔ کہجب رب تعالیٰ نے قرآن پاک میں واضح طور پر فرما دیا “ولا تفرقوا”۔۔۔تو کیا آپ یہ تصور بھی کر سکتے کہ صاحب قرآن (حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور ان کے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا طرزِ عمل،ان کا اسوہ ان کا نقش قدم معاذ اللہ ثم معاذ اللہ قرآن پاک سے ہٹ کر یا اس قرآنی حکم کے منافی ہوگا۔۔؟؟؟

سوچیے اور پھر اپنے طرز عمل کو ریویو کیجیے۔۔!!چلیں اب بچی کھچی کنفیوژن ختم کرتے ہوئے قرآن کا فیصلہ سن لیتے ہیں، پہلے ذہن میں رکھیے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس حدیث مبارکہ میں فرمایا کہ یہ جنتی جماعت وہ ہوگی جو میرے اور میرے صحابہ کے نقش قدم پر ہوگی۔۔۔اور رب تعالیٰ قرآن پاک میں فرماتے ہیں۔۔۔اِنَّ الَّذِیۡنَ فَرَّقُوۡا دِیۡنَہُمۡ وَکَانُوۡا شِیَعًا لَّسۡتَ مِنۡہُمۡ فِیۡ شَیۡءٍبے شک جنہوں نے فرقہ فرقہ کر دیا اپنے دین کو اور گروہ گروہ ہو گئے آپ(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ان سے کوئی تعلق نہیں۔۔!!

لیجیے، جنتی جماعت کی نشاندہی حضور رحمت للعالمین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرما دی کہ وہ میرے اور میرے صحابہ کے نقش قدم پر ہوں گے، اور آگے کا فیصلہ رب تعالیٰ نے فرما دیا کہ جنہوں نے دین کو فرقہ فرقہ کر دیا گروہوں میں بٹ گئے ان کا حضور رحمت للعالمین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کوئی واسطہ نہیں۔۔۔لہذا یہ فرقہ بازی والا چیپٹر تو کلوز کہ فرقہ بند و فرقہ پرست حضور رحمت للعالمین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ان کے صحابہ کا نقش قدم پر تو کیا بلکہ ان کا تو سرکار دو عالم حضور رحمت للعالمین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کوئی واسطہ ہی نہیں۔۔۔وَاللّٰہ اَعلَم بِالصَّواب
تحریر: ماسٹر محمد فہیم امتیاز

Add Comment

Click here to post a comment